- الإعلانات -

عوام کیا چاہتے ہیں؟

اگر یہ کہا جائے کہ دنیا بھر میں دو طرح کے انسان پائے جاتے ہیں، ایک حاکم اور دوسرے محکوم یا ایک حکمران اور دوسرے عوام، تو غلط نہ ہو گا۔ بہت سوچ بچار کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان دونوں طبقات کے انسانوں کے سوچنے کا انداز یکسر مختلف ہے، ان کی ترجیحات ایک دوسرے کے برعکس ہیں اور ان کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ پاکستان کے عوام اور حکمران طبقے پر سوچ کے مزاج اور ترجیحات پر سوچ بچار کے دوران دیگر ممالک کے حکمرانوں اور عوام کے اطوار و افعال بھی ذہن کے کینوس پر چھائے رہے۔ سوال ایک ہی تھا کہ آخر دنیا بھر کے عوام اپنے لیے کس طرح کے حکمران چاہتے ہیں؟ پاکستانی عوام چاہتے ہیں کہ ہمارے حکمران ایماندار ہوں، خلوص نیت کے ساتھ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کریں، کرپٹ اور چور نہ ہوں، قوم کا پیسہ لوٹ کر باہر منتقل نہ کریں بلکہ اپنے باہر موجود اثاثے اور کاروبار بمعہ اولادیں ملک میں لے کر آئیں۔ بھارت سمیت تمام دنیا کے ساتھ بہتر تعلق استوار کریں، تجارت کو فروغ دیں اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر لے جائیں۔ جب بھارت کا ذکر آیا تو ذہن کھٹکا کہ وہاں کے عوام نے تو مسلمانوں کے قاتل اور پاکستان کے شدید مخالف نریندر مودی کو وزیراعظم منتخب کر لیا ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا وہ پاکستانی عوام کے بالکل برعکس سوچتے ہیں اور اپنے حکمرانوں کے حوالے سے ان کی پسند پاکستانیوں کی پسند کے برخلاف ہے۔ پاکستان میں موجود بھارت مخالف قوتیں اور سیاسی جماعتیں جلسے جلوس تو بہت بڑے بڑے کرلیتی ہیں مگر جب عوام کے ووٹ ڈالنے کا مرحلہ آتا ہے تو وہ بمشکل چند ہی نشستیں حاصل کر پاتے ہیں۔ آج تک کوئی بھی ایسی جماعت پاکستان تو کیا پاکستان کے کسی ایک صوبے میں بھی حکومت نہیں بنا سکی۔ اس کے برعکس بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی حامی اور نسبتاً معتدل مزاج جماعتیں بار بار اقتدار کے مزے لے چکی ہیں۔ میں نے پاکستانی اور بھارتی عوام کی پسند کے اس تضاد پر سوچنا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے چند بھارتی دوست صحافیوں سے بھی گفتگو کی اور گتھیاں سلجھانے کی کوشش کی۔ بھارتی دوستوں نے بتایا کہ بھارتی عوام نے نریندر مودی کو پاکستان اور مسلم دشمنی کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم منتخب نہیں کیا۔ نریندر مودی جب ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے ریاست کی تعمیروترقی کے لیے ایسے شاندار کام کیے جنہیں بھارت کی باقی ریاستوں کے عوام رشک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ جب نریندر مودی وزیراعظم کے امیدوار بنے تو عوام کو اپنی خواہش کی تکمیل کا موقع مل گیا اور انہوں نے نریندرمودی کو وزیراعظم منتخب کر لیا۔ میں نے سوال کیا کہ آپ کی اس توجیح کو کیونکر سچ مان لیا جائے؟ فرمانے لگے کہ اگر نریندر مودی کو مسلم اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر ہی منتخب کیا گیا ہوتا تو ریاست بہار و دیگر ریاستوں کے الیکشن میں نریندرمودی اور ان کی
جماعت بی جے پی کی جو درگت بنی ہے وہ نہ بنتی، ان ریاستوں کے انتخابات کی مہم کے دوران بھی خود نریندر مودی اور ان کی جماعت کے رہنماﺅں نے پاکستان اور مسلم دشمنی کا کارڈ کھل کر کھیلا تھا مگر بے کار گیا۔ بتایا گیا کہ بھارتی عوام جان چکے ہیں کہ وزیراعظم نریندرمودی وہ نریندرمودی نہیں رہے جو گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، اب ان کی ترجیحات کچھ مختلف ہیں، اس لیے عوام کی رائے بھی مختلف ہو گئی۔ ایران کی بات کی جائے تو ہمارے یہاں یہ بات یقین سے کہی جاتی ہے کہ سابق ایرانی صدر احمدی نژاد ایرانی عوام کے دلوں میں بستے تھے، اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ امریکہ و دیگر مخالف طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے اور ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا عزم صمیم کیے ہوئے تھے۔ مگر یہاں سوال اٹھا کہ اگر یہ تمام باتیں درست ہیں تو احمد نژاد گزشتہ الیکشن کیوں ہار گئے؟ اور آج صدر حسن روحانی جو احمدی نژاد کی پالیسیوں کے بالکل الٹ چل رہے ہیں وہ بھی ایرانی عوام میں اسی قدر کیوں مقبول ہیں؟ تحقیق پر معلوم ہوا کہ احمدی نژاد اپنی اس لڑنے بھڑنے کی پالیسی کی وجہ سے مقبول نہیں تھے، انہوں نے ایران بھر کے بے گھر عوام کو گھر دیئے تھے، ان نے کہا تھا کہ عوام کو گھر دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کے دور میں کوئی ایسا ایرانی نہیں رہا جس کے پاس اپنا گھر نہ ہو۔ بالکل وہی سبب جس کے باعث ہمارے ذوالفقار علی بھٹو آج بھی عوام کے دلوں میں موجود ہیں۔ آج بھی پیپلزپارٹی کو اگر کچھ ووٹ ملتے ہیں تو ان میں زیادہ تر ووٹ 5مرلہ سکیم کے باسیوں کے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد احمدی نژاد عوام کے لیے مہنگائی الاﺅنس کا اعلان کر دیا مگر ان کی یہ سکیم انہیں مہنگی پڑی، 90فیصد ایرانیوں نے اس سکیم سے فائدہ اٹھایا مگر اس کے باعث ایرانی معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا، مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان آ گیا اور یہی طوفان احمدی نژاد کی مقبولیت کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ آج حسن روحانی دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں، انہوں نے مغربی ممالک کے ساتھ معاہدہ کرکے اپنے ایٹمی پروگرام پرعالمی پابندیوں سے چھٹکارے، عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی خوشحالی کو ترجیح دی ہے تو لوگ انہیں بھی پسند کر رہے ہیں۔ اس سب کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دنیا بھر کے عوام امن کے متلاشی ہیں، انہیں صحت، تعلیم اور روزگار چاہیے، پاکستانیوں کو بھارت سے، بھارتیوں کو پاکستان سے، ایرانیوں کو سعودی عرب سے اور سعودیوں کو ایران سے دشمنی سے کوئی غرض نہیں۔ یہ سب حکمرانوں کی ترجیحات ہیں۔اگر کسی ملک کے عوام کسی دوسرے ملک کے خلاف نفرت کا جذبہ رکھتے ہیں تو یہ ان کی لاعلمی کا قصور ہے، ان کے ملک کے میڈیا اور حکمرانوں کا قصور ہے جو انہیں دوسرے ملک کی غلط تصویر دکھاتے ہیں۔ ہم بھارتیوں کے متعلق یہی رائے رکھتے ہیں کہ وہ پاکستان سے نفرت کرتے ہیں، بہت حد تک یہ سچ بھی ہے، مگر آج آپ بھارتی میڈیا اور حکمرانوں کو لگام دے دیجیے، بھارتیوں کو پاکستان اور پاکستانیوں کے متعلق حقائق سے آگاہ کر دیجیے، یہی بھارتی ہوں گے جو پاکستان اور پاکستانیوں کے متعلق اچھے جذبات اپنے دل میں رکھیں گے۔ میری رائے تو یہ ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟