- الإعلانات -

افغانستان، دہشت گردی اور بھارت

قارئین کرام ! افغانستان میں جنم لینے والی دہشت گردی کے حوالے سے کچھ دانشور افغانستان کی زمینی صورتحال کو جانے بغیر بار بار تکرار کرتے ہیں کہ پاکستان افغان سرحد کو مکمل طور پر بند کردیا جائے جبکہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔دراصل پاکستان افغان سرحد جسے تاریخ میں ڈیورنڈ لائین سے منسوب کیا جاتا ہے چین کی سرحد یعنی کوہ قراقرم سے شروع ہوتی ہے اور واخان کوریڈور سے لیکر کوہ ہندوکش کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں، خطرناک کھائیوں اور سبزہ زار وادیوں سے ہوتی ہوئی ایران کی سرحد سے جا ملتی ہے چنانچہ پاکستان افغان سرحد جس کی کل لمبائی تقریباً 2416 کلو میٹر تک محیط ہے کو مکمل طور پر کبھی بند نہیں کیا جاسکتا۔ افغانستان کا تقریباً تین چوتھائی سے زیادہ رقبہ پہاڑی سلسلوں پر مثتمل ہے جبکہ ایک چوتھائی سے کچھ کم سرسبز وادیوں، جنگلات ، ریگستان ، ویرانوں اور دلدلی علاقے پر مثتمل ہے۔ پامیر ریجن سے ازبکستان تک آمو دریا افغانستان کی قدرتی سرحد کے طور پر افغانستان کی سرحد کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہوا، ازبکستان کی جانب چلا جاتا ہے۔ افغانستان ، دریائے ہاری رد جسے دریائے نیل سے تشبیہ دی جاتی ہے کے علاوہ دریائے ہلمند ، دریائے ارگند اور دریائے کابل کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کئی دریاﺅں اور ندی نالوں کی ایسی سرزمین ہے جہاں دریائے کابل کے سوا تمام شوریدہ دریا اور ندی نالے ، ڈیورنڈ لائین کے پار افغان وادیوں، ویرانوں اور ریگستانوں میں بڑی بڑی جھیلیں بناتے ہیں اور دلدلی علاقوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ صرف دریائے کابل ہی ایک ایسا دریا ہے جو پاکستان میں داخل ہوتا ہے لیکن وہ بھی اپنی شناخت دریائے سندھ میں گم کردیتا ہے۔ درحقیقت پہاڑی سلسلوں پر محیط افغان سرزمین جہاں بڑے بڑے دریا اور شوریدہ سر ندی نالے ویرانوں اور دلدلوں میں گم ہوجاتے ہیں یقینا ً عسکریت پسندوں اور افیون کی کاشت سے منسلک ڈرگ مافیا کےلئے ایک قدرتی پناہ گاہ بن جاتی ہے جنہیں اِن ویرانوں اور سرنگوں سے بچھے پہاڑی سلسلوں کے جال میں تلاش کرکے جڑ سے ختم کرنا ایک ناممکن اَمر بن گیا ہے ۔ یہ اَمر یقینا افسوس ناک ہے کہ امریکی سرپرستی میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف کامیاب افغان جہاد کے پیش منظر میں امریکہ نے افغان جہادی قوتوں کی افغانستان میں مستحکم حکومت قائم کرنے میں مدد دینے کے بجائے افغان جنگی گروپوں کو مخصوص مفادات کے تحت عالم تنہائی میں چھوڑ دیاتھا جس نے افغانستان میں مختلف طاقت ور جنگجوﺅں (War Lords) ڈرگ مافیا ، اور قبائل کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ ملا عمر کی قیادت میں طالبان نے پُرامن جدوجہد کے ذریعے اِس خانہ جنگی کو ختم کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی لیکن ملا عمر کی کوششیں اُس وقت ناکام ہوئیں جب افغانستان میں بن لادن کی آمد کےساتھ ہی دہشت گردی کی سیاست نے امریکی مفادات کے خلاف ٹرن لیا۔چنانچہ یہی وہ لمحہ تھا جب امریکیوں کی جانب سے افغانستان میں ملا عمر کی حکومت کو ختم کرنے کےلئے طالبان کے مضبوط علاقوں پر تاریخ کی بدترین بمباری ، تباہی اور وسیع پیمانے پر افغانوں کی ہلاکتوں کے سبب نہ صرف بےشمار افغان شہری ہمسایہ ممالک میں ہجرت کر گئے جبکہ بیشتر عسکریت پسندوں نے افغانستان کے ناقابل عبور پہاڑی سلسلوں ، ویرانوں ، سرنگوں اور دلدلی علاقوں کا رُخ کیا اور اِن ناقابل تسخیر پناہ گاہوں میں بیٹھ کر امریکہ و نیٹو اتحادیوں کو دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ ایسی ہی صورتحال نے پاکستان میں ڈیورنڈ لائین سے منسلک وزیرستان اور سوات کے دشوار گزار علاقوں میں جنم لیا جس نے وقت گزرنے کےساتھ دہشت گردی کے عفریت کی شکل اختیار کرلی۔درج بالا تناظر میں افغانستان پر امریکہ نیٹو اتحاد کے قبضے کے بعد امریکہ نے افغانستان میں افغان طالبان مخالف عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں نادرن اتحاد کو منظم کیا جبکہ حامد کرزئی کو عبوری مدت کےلئے صدر بنایا گیا ۔ بہرحال امریکہ نے کٹ پتلی افغان حکومت کی سیاسی مدد کےلئے بھارت کو اہم کردار کےلئے منتخب کیا ۔ چنانچہ نئے آئین کے تحت اپریل 2014 میں نئے انتخابات ہوئے لیکن صدارتی انتخابات میں 27 اُمیدواروں میں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی بل ترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر آئے لیکن کامیابی کےلئے کسی کو مطلوبہ ووٹ حاصل نہ ہوسکے چنانچہ جون 2014ءمیں اِن دونوں اُمیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوا جس میں اشرف غنی نے کامیابی حاصل کی لیکن بھارت حمایت یافتہ نادرن اتحاد کے عبداللہ عبداللہ نے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اِس مرحلے پر امریکہ نیٹو اتحاد نے مداخلت کی اور اشرف غنی کی صدارت میں عبداللہ عبداللہ کو افغانستان کا چیف ایگزیکٹو بنا دیا گیا۔لیکن اِن تمام سیاسی حربوں اور 15 برس سے زیادہ عرصہ پر محیط نیٹو امریکہ اتحادی افواج کی موجودگی اور بھارت کو اہم کرادار دئیے جانے کے باوجود افغانستان میں دہشت گرد گروپوں پر قابو نہیں پایا جا سکا چنانچہ بیشتر صوبوں میں افغان طالبان بدستور مضبوط پوزیشن میں ہیں جس کا اظہار گذشتہ برس افغانستان کے کچھ صوبوں میں طالبان کے مسلح حملوں ، عارضی قبضے اور پھر پسپا ہو جانے کے حوالے سے محسوس کیا گیا ہے ۔ البتہ جب تحریک طالبان پاکستان TTP نے دہشت گردی کی وارداتوں کے ذریعے اِسکول کے بچوں اور بےگناہ شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے عزم صمیم نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں میں صورتحال کو بہت حد تک کنٹرول کیا تو دہشت گرد عناصر اور ڈرگ مافیا نے سوات اور وزیرستان سے نکل کر ڈیورنڈ لائین کے پار افغانستان میں اپنی کمین گاہیں بنانا شروع کیں تو بھارت نے نادرن اتحاد کی مدد سے پاکستانی سرحدی علاقوں کے نزدیک قائم بیشتر بھارتی قونصل خانوں میں تعینات بھارتی انٹیلی جنس RAW کے آپریٹرز کے ذریعے TTP میں اپنے ایجنٹ داخل کرنے اور پاکستان میں تخریب کاری کرنے کا موقع مل گیا چنانچہ سوات اور وزیرستان میں ملٹری آپریشن اور آپریشن ضرب عضب کے دباﺅ سے متاثرہو کر ڈیورنڈ لائین پار جانے والے TTP کے ایجنٹوں نے بھارتی حمایت یافتہ تحریک طالبان بھارتیہ یعنی TTB کی شکل اختیار کر لی ہے ۔