- الإعلانات -

گریٹر پختونستان، ملکی سالمیت کیخلاف سازش!

امریکہ، برطانیہ اور بھارت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان میں پختونستان تحریک زندہ کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس مرتبہ تحریک کو یورپ سے سپورٹ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد یورپ اور امریکہ میں قائم ”مشال“ اور ”دیوا“ ریڈیو سمیت بعض ٹی وی چینلز نے زہریلا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے ۔ جس سے یورپ میں مقیم اس تحریک کےلئے کام کرنے والے پختونوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جا رہی ہے کہ جب تک پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ اور فوج موجود ہے ان کا قتل عام جاری رہے گا۔ پاکستان کے ساتھ رہتے ہوئے خیبر پختونستان میں امن نہیں آسکتا۔
ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر باچا خان یونیورسٹی پر حملے کو باچا خان کے فلسفے پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔باچا خان یونیورسٹی میں شہید ہونے والے پختونوں کی یاد میں پکتیا اور مشرقی افغانستان میں قوم پرستوں کی جانب سے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ ان مظاہروں کو بھارتی قونصل خانوں کی حمایت حاصل ہے۔ پکتیا میں ہونے والے ایک مظاہرے میں پاکستان کے خلاف اور آزاد پختونستان بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا تاکہ پختونوں میں مزید اشتعال پھیلے۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد پختونوں کے حقوق کی بات کی جا رہی ہے۔
باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد برطانیہ میں مظاہرے کئے گئے جن میں پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے بارے میں سوال اٹھائے گئے۔ میڈیا پر ’عسکری نہیں نظریاتی جنگ کی ضرورت ہے‘ کے عنوان سے یہ تھیوریاں پیش کی جا رہی ہیں کہ نظام تعلیم کو تبدیل کیا جائے اور نصاب میں جہاد کے اسباق کو نکال دیا جائے۔ پختونستان تحریک کےلئے امریکہ اور یورپ کی جانب سے قائم کئے گئے ”ریڈیو مشال“ میں کام کرنے والوں کی اکثریت خیبر پختون کے ان افراد کی ہے جن کا تعلق اے این پی کے اسٹوڈنٹ ونگ سے ہے اور وہ ماضی میں پختونستان تحریک میں بڑے سرگرم رہے ہیں۔ ریڈیو مشال سے پشتو زبان میں خبریں اور زہریلے تجزیے نشر کئے جا رہے ہیں۔ پختونستان تحریک کے حوالے سے ریڈیو مشال اور بعض ٹی وی چینلز کے پروپیگنڈہ پروگرامز کو ویب سائٹس پر شیئر کر کے افغانستان اور پاکستان کے پشتون علاقوں میں پھیلا جا رہا ہے۔ یہ ریڈیو امریکہ نے افغان طالبان کے خلاف قائم کیا تھا جسے اب پختونستان تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ملالہ یوسف زئی اور اس کے والد کی کوششوں سے اے این پی کے کارکنوں کو بڑی تعداد میں لندن بلایا جا رہا ہے ۔ لندن میں اے این پی کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں ۔ انہیں دفاتر بھی مہیا کیے گئے ہیں اور انہوں نے مظاہرے بھی شروع کر دیے ہیں۔لندن کے تعلیمی اداروں میں بڑے پیمانے پر پختونوں کو داخلے دیئے جا رہے ہیں جن کی سفارش قوم پرست جماعتوں کے قائدین کرتے ہیں۔ پختونستان تحریک کے حوالے سے سابق افغان صدر حامد کر زئی اور بعض پختون قوم پرستوں کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں۔
امریکہ برطانیہ اور بھارت نے خیبر پختون میں پختونستان تحریک پر توجہ اس لئے بھی مرکوز کی کہ اقتصادی کوریڈور خیبر پختون کے ہزارہ ڈویژن، ضلع کوہستان اور ڈی آئی خان سے گزرے گا۔ جبکہ یہاں سے گلگت بلتستان اور چین کی سرحد بھی لگتی ہے۔ اسی لئے یہاں یہ منصوبہ زیادہ قابل عمل لگ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لندن، افغانستان اور امریکہ میں موجود بعض قوم پرستوں کو اقتصادی کوریڈور کے جعلی نقشے تھما کر بتایا گیا ہے کہ اصل نقشے یہ ہیں۔پاکستان میں ایک قوم پرست جماعت کی کانفرنس میں یہ نقشے دکھائے گئے تو وفاقی وزیر احسن اقبال حیران رہ گئے اور انہوں نے کہا کہ وہ ہر فورم پر ان نقشوں کو چیلنج کریں گے۔ اے این پی اور دیگر قوم پرستوں کے پاس جو نقشے ہیں وہ جعلی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختون کے جن علاقوں میں کوریڈور تعمیر ہوگا، ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اقتصادی کوریڈور ضلع کوہستان سے ہوتا ہوا ہزارہ ڈویژن سے اسلام آباد اور پھر ڈی آئی خان سے ہوتا ہوا ژوب میں داخل ہوگا۔ اس روٹ میں تبدیلی ممکن نہیں کہ اس روٹ کا نقشہ چین نے خود بنایا ہے۔ لیکن خیبر پختون میں ایسے جعلی نقشے گردش کر رہے ہیں اور جو انٹر نیٹ پر بھی ڈالے گئے ہیں جن کے ذریعے لوگوں میں اشتعال پھیلا کر پختونستان تحریک میں جان ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا گل نصیب خان نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد میں منظم منصوبے کے تحت گریٹر پختونستان کی تحریک دو ماہ سے جاری ہے۔ صوبہ میں کئی مقامات پر بڑے چوکوں میں ایسے بورڈ نصب کئیے گئے ہیں جن پر خیبر پختونستان کو افغانستان کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے اور افغانستان کے جھنڈے کے رنگوں سے بنا ایک درخت دکھایا ہے۔ ڈیورنڈ لائن کو ختم کر نے کی سازش کی جارہی ہے۔
افغانستان پر روسی قبضے کے بعد ہندوستان نے پاک افغان سرحد کے ساتھ کئی قونصل خانے قائم کرکے پاکستان دشمن عناصر اور ”را“ کے ایجنٹوں کے ذریعے ہمارے قبائلی علاقے اور صوبہ سرحد میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی راہ ہموار کی۔ اس مقصد کیلئے غیر ملکی عناصر کو بڑے پیمانے پر پاکستانی کرنسی دے کر پاکستان میں دہشت گردی‘ تخریب کاری اور خودکش حملوں کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔ ایسے عناصر کو امریکی افغان حکومت اور بھارتی حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہے ۔ بھارت کی سرتوڑ کوشش اور خواہش ہے کہ سرحد میں گریٹر پختونستان اور بلوچستان میں گریٹر بلوچستان کے ناپاک منصوبوں کی راہ ہموار کی جائے۔
حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ان ناپاک منصوبوں کا فی الفور نوٹس لے اور ایسے عناصر کی سرگرمیوں کو پوری طرح منظرعام پر لائے تاکہ کسی غیر ملکی طاقت کی شہ پر یا اس کی درپردہ حمایت حاصل کرکے ہمارے ازلی دشمن ہمارے وجود کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرسکیں۔ خیبر پختون کی صوبائی اسمبلی‘ ہماری سینیٹ اور قومی اسمبلی کو بھی اس مسئلے پر توجہ مرکوز کرکے ان تمام کرداروں کو سامنے لانا چاہئے‘ جو وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔