- الإعلانات -

مرض ،مریض اور مسیحا

سمجھدار ودانا لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر گھڑی خدا سے یہی دعا کرو کہ وہ ہمیں بیماری اور مقدمہ سے محفوظ رکھے کیونکہ مقدمہ میں الجھے لوگ کنگال ہو جاتے ہیں اور اگر جان کو بھی کوئی عارضہ لگ جائے تو دنیا اندھیر ہو جاتی ہے تندرستی جیسی انمول نعمت کی واپسی کیلئے بڑے جتن کئے جاتے ہیں لیکن جب مرض ایسا ہو جو مریض کو لاچار کر دے مریض بھی قدیمی ہو ،وقت پر مرض کے علاج سے بھی بے اعتنائی برتی جائے تو پھر مریض کے شفایاب ہونے کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں ،جب بیماریاں بھی جسم کو ان گنت چمٹ جائیں ان کو بلاروک ٹوک بڑھنے بھی دیا جائے بلکہ ان کے پروان چڑھنے کیلئے خود سازگار ماحول فراہم کر کے سالہا سال جسم کی بے ضرر زمین میں جڑوں والے کینسر نما پودوں کی آبیاری کر کے ان کو تناور درخت بنا دیا جائے تو پھر یہ درخت بلڈوزروں اور کرینوں سے بھی نہیں اکھڑتے مریض کو پہلے مرحلے میں تو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ جو بیماری ہے اس کے بہترین معالج کونسے ہیں اور کہاں دستیاب ہیں مرض کی تشخیص بھی کوئی ماہر معالج ہی کر سکتا ہے مریض کو امرض کی یلغار میں جگہ جگہ شفاخانے نظر آتے ہیں ہر معالج کہتا ہے کہ میں ہی اس بیماری کا خصوصی معالج ہوں میرے پاس اس بیماری کے ان گنت نسخے ہیں جب وہ بھی شافی علاج کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو پھر دوسرے معالج کا رخ کیا جاتا ہے اور بلآخر یہی حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ چونکہ مریض اور مسیحا ایک ہی مرض کا شکار ہیں تو پھر ایسے مسیحا سے بیماری سے نجات کی توقع وابستہ کرنا فضول ہے وطن عزیز خداداد پاکستان کا بھی یہی المیہ رہا ہے کہ یہاں لاتعداد بیماریوں کو پھلنے پھولنے دیا گیا پاکستان میں بسنے والی بے بس قوم کو کتنے ہی جان لیوا عوارض لاحق ہیں مہنگائی، بیروز گاری ،بد عنوانی ،کرپشن ،افلاس ،جہالت نہ کوئی ہمدرد ہے نہ غم گسار وطن عزیز میں خون ریز دہشت گردی ،لسانی گروپوں کو بھڑکانے کیلئے غارت گری ،فرقہ وارانہ فسادات اٹھانے کیلئے علماء کی ٹارگٹ کلنگ ،حتیٰ کہ ارض پاک کو خون رنگ کر دیا گیا ،سماج میں کرپشن اس حد تک در آئی ہے کہ عوام و خواص میں سے کوئی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔جب حکومت کے سارے پرزے ہی کرپٹ اور زنگ آلود ہوں تو عوام کیوں پیچھے رہیں وہ بھی لوٹ مار میں برابر کے شریک ہیں چند ٹکوں کی خاطر مسلمان اور پاکستانی ہی اپنے ہم مذہب اور ہم وطنوں کے چیتھڑے اڑانے سے دریغ نہیں کرتے۔ہم من حیث القوم اخلاقی اعتبار سے انتہائی پستی میں چلے گئے ہیں ۔کالم کا آغاز بیماری اورمسیحا سے کیا تھا تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک میں باوردی معالج بھی اکثرو پیشتر آتے رہے ناکام معالج یعنی سیاستدان اپنی سیاسی حیات کو آب حیات سمجھ کر انہیں طشت میں رکھ کر پیش کرتے رہے پھر یہ بلند بانگ دعوے کرنے والے جوڑ توڑ کے نسخوں کو آزماتے ہوئے مدت اقتدار میں توسیع کیلئے ہی کوشاں رہے احتساب کرنے کے دعوے نقش بر آب ثابت ہوتے رہے بیماری کے علاج کیلئے ہمیشہ مہلک نسخے ہی استعمال کرائے جاتے رہے ۔سیاستدان اپنی رنجشوں ،آپس کے جھگڑوں ،کرپشن اور عنان اقتدار سنبھالنے کیلئے منفی ہتھکنڈوں کے آزادانہ استعمال کے باعث ہر بار حکومتی کاروبار چلانے اور عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ثابت ہوتے رہے یہاں تک کہ عوام خود ان کے جانے کی دعائیں کرتے ۔اس کے بعد خاکی وردی والے مسیحا مسند اقتدار پر جلوہ ہو جائیں تو بعد ازاں چیخ وپکار کس لئے…؟معزز قارئین بیماری سے فطرتاًکاکردگی بھی متاثر ہوتی ہے بیماری میں ٹینشن نہ لینا بھی ایک مجرب نسخہ ہے ہمارے سیاستدان بھی یہ نسخہ اپنا کر ٹینشن فری ہو گئے ہیں ۔اگر کوئی بیماری زور پکڑتی ہے تو سرکاری خزانے سے علاج کروانے کو بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا ۔خطرناک بیماری کی صورت میں ہمیشہ مری جیسے صحت افزامقام میں قیام کو ترجیح دی جاتی ہے ۔وبائی امراض میں فلور کراسنگ جیسے نسخے آزمانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا یہی سبب ہے کہ وطن عزیز کو لگی بیماریاں پہلے سے سوا ہو چکی ہیں وہ ملک جس کا بانی اپنی ایمانداری اور بے داغ کردار کی وجہ سے جانا جاتا تھا آج اس کا شمار دنیا کے بدعنوان ممالک میں کیا جاتا ہے نہ ہم سیاسی میدان میں کچھ کر سکے نہ سائنسی میدانوں میں ۔وطن عزیز کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ۔درمیانہ طبقہ پس کر رہ گیا ہے ۔امراء کسی اور ہی دنیا میں رہ رہے ہیں اور عوام کے حالات سے بے خبر اور لا تعلق ہیں جو کہ خوشحالی کیلئے نہیں زندہ رہنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ۔وطن عزیز کے جاگیردار ،سرمایہ دار اور بیورو کریٹس اس حد تک طاقتور ہیں کہ اپنے مفادات کو پورا کرنے کی خاطر ہر اچھی پالیسی کو بڑی چالاکی و مہارت سے ناکام بنا دیتے ہیں ۔اس تیزی سے بڑھتے ہوئے چھیننے چرانے اور لوٹنے کی خواہش میں حملہ کرتے لوگوں کے خود کشی کے رجحان پر سماج کیلئے سراسیمگی و حیرانگی کا عنصر کب کا ختم ہو چکا ہے ۔پاکستان کو بنے ہوئے اکہتر برس بیت چکے لیکن اب تک کسی حکمران نے اپنے کو صحیح معنوں میں قوم کا مسیحا ثابت نہیں کیا ہر آنے والا اپنے پیش رو کے عیب اور کرپشن کی پیروی کرتا ہے جہاں اس کے پیشرو اسے چھوڑ کر گئے تھے پاکستان کا ہر باسی اب یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ شاید سرزمین پاکستان بانجھ ہو چکی ہے جہاں کانٹے دار درخت ہی پیدا ہو رہے ہیں یہ دھرتی میٹھے سائے اور میٹھے پھل والے درخت اگانے سے محروم ہو گئی ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ پاکستان غریب ملک نہیں نہ یہاں وسائل کی کمی ہے بلکہ یہاں راہنماؤں کے روپ میں بڑے لوگ رہتے ہیں ہم کوئی ایسا لیڈر پیدا نہیں کرسکے جو قوم کیلئے ٹھنڈا سایہ ثابت ہو کر قوم کی مسیحائی کا فریضہ سر انجام دے سکے ۔معذرت کے ساتھ

منزل کی جستجو کوئی مرحلہ نہ تھی
لٹ گئے ہیں جستجو راہبر میں ہم
اگر دیکھا جائے تو سیاست کسی بھی ملک کا وہ مضبوط ستون ہے جس پر پورے ملک کی عمارت کا انحصار ہوتا ہے لیکن بد قسمتی سے اس ملک کی سیاست میں عوام کا کہیں بھی ذکر نہیں ملتا ۔عوام سیاست اور سیاستدانوں کا وہ مظلوم طبقہ ہے جو پے در پے قومی سانحات سے دوچار بدترین حالات کی چکی میں پسنے پر مجبور ہیں تاریخ انسانیت میں ایسے مسیحا بھی ملتے ہیں جنہوں نے قوم کو زیرو سے ہیرو بنادیا ۔چین اور روس کے قائدین نے پورے قومی اور اور بین الاقوامی نقشے کوبدل کر اپنی شناخت و حیثیت کو دنیا میں ایک نیا رنگ اور آہنگ عطا کر دیا ۔دور کیوں جائیں قائد اعظمؒ ،علامہ اقبال ؒ اور سرسید احمد خانؒ جیسے بے داغ کردار کے شاہکار مسیحا قومی اور ملکی مفاد میں ایسی قربانیاں دیتے رہے جو اب بھی ہمارے لئے روشنی کا مینار ہیں ملک و قوم کے مسائل حل کرنے اور انہیں خوں آشام بیماریوں سے نجات دلانے کیلئے آخر کون سا نظام کارگر ہو گا کہ ہمارا کھویا ہوا وقار واپس ہو اور پاکستان کو ناکام ریاست سمجھنا چھوڑ دیا جائے۔صرف عمل ،ارادے اور نیت کی صفائی سے ہی ایسا ممکن ہے ۔یہاں کبھی دلفریب نعروں اور وعدوں سے عوام کو دھوکہ دیا گیا ہے اور کبھی اصلی سچی اور کھری جمہوریت کے نام پر۔ملائیشیاء میں مہاتیر محمد نے بڑے بڑے کرپٹ عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا اور تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انسانوں پر خرچ کئے اس طرح ان کی ترقی ممکن ہوئی۔ہمیں ایسے نیم حکیم مسیحا کی ضرورت ہر گز نہیں جس نے اونٹ کے مالک کو اونٹ کے گلے میں سوجن والی جگہ پر با ربار ضرب لگاتے دیکھا اور سمجھ بیٹھا کہ گلے میں پڑے گلڑ (سوجن) کا علاج یہی ہے مگر اس کو یہ نظر نہیں آیا کہ وہ سوجن تو اس لئے ہے کہ اونٹ کے گلے میں تربوز اٹک گیا ہے ۔مالک تو اس کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے تا کہ اونٹ اسے بآسانی نگل سکے ۔نیم حکیم یہ عمل دیکھ کر اگلے گاؤں خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ گلے میں پڑے گلڑ (سوجن) کا علاج کر سکتا ہوں جب مریض اس کے پاس لایا جاتا ہے جعلی ڈاکٹر اس کی گردن پر کپڑا لپیٹ کر ہتھوڑے سے کاری ضرب لگاتا ہے اور مریض اﷲ کو پیارا ہو جاتا ہے ۔ڈاکٹر بھاگ کر سیدھا اونٹ والے کے پاس آتا ہے اور اسے درست طریقہ علاج نہ بتانے کا شکوہ کرتا ہے تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ کے گلے میں سوجن گلڑ سے نہیں بلکہ تربوز کے اٹک جانے کی وجہ سے تھی۔اگر قوم کو صالح ،محنتی ،خدا ترس اور ماہرقیادت میسر آجائے تو تب ہی ایسی مسیحائی قیادت میں آج وطن عزیز کو چمٹی ہوئی ان گنت بیماریوں کا علاج ہو سکتا ہے ۔