- الإعلانات -

تنخواہ دار طبقے کی فریاد…!

پی ٹی آئی کی حکومت کو آئے ایک مہینہ ہوا ہے مگر اِس نے قومی خزانہ بھر نے کیلئے تنخواہ دار طبقے کی موجودہ ٹیکس اور الاؤنسز کی مراعات ختم کرنے کے نام پر جیسی کفایت شعاری اور خو د انحصاری کی پھلجھڑی چھوڑ رکھی ہے، اِس سے تو تنخواہ دار طبقہ اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے توبہ توبہ کرتا بھاگتاپھر رہاہے ۔کیونکہ اَب یہ سمجھ رہاہے کہ عمران حکومت کا کفایت شعاری اور خودانحصاری کا سارا نزلہ اِسی تنخواہ دار طبقے پر ہی گرے گا؛اِسے نچوڑ کر ہی خالی پڑاہوا۔ قومی خزانہ وزیراعظم بھریں گے؛یوں تنخواہ دار طبقہ ہمیشہ کی طرح مسائل کی چکی میں پس کر اپنی ہڈی ہی کا سرمہ بنا ئے گا۔جس سے حکومت قومی خزانہ بھر کر اپنا الوسیدھا کرے گی۔اگرچہ ، اِس سے انکار نہیں ہے کہ ستر سال سے مُلک کا سب سے زیادہ مظلوم تنخواہ دار طبقہ ہے؛جو اپنی آمدن پر ماہانہ ہزاروں کے حساب سے سالانہ لاکھوں روپے ٹیکس اداکرکے بھی اپنے بنیادی اور آسائش زندگی کے حصول سے محروم ہے ، جس کے حصے میں سِوائے؛ پینے کی پانی کی محرومی ، گلی محلوں میں کھڑے سیوریج کے پانی ، گندگی کے انبار، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں ، لوڈشیڈنگ، مہنگا ئی، بھوک و افلاس کے کچھ نہیں آیاہے۔یقین جانیے کہ مُلک میں ستر سال سے جو بھی حکمران آیا ہے۔اِس نے قومی خزا نہ بھر نے کی ضد میں ہمیشہ تنخواہ دار طبقے کو ہی صدقے کا بکرا سمجھ کر اِس کی ہی بلی چڑھا ئی ہے، یعنی کہ بیچارہ تنخواہ دار وہ طبقہ ہے۔ جس کے گلے پر ہر حکومت میں سب سے پہلے چھری پھیری گئی ہے۔ آج بھی حسب روایت نومنتخب وزیراعظم عمران خان کی موجودہ حکومت تنخواہ دار طبقے کوہی آگے کرکے اِس کی تنخواہوں ،موجودہ ٹیکس مراعات اور الاؤنسز میں کمی کرنے سمیت دیگر آسائش زندگی کی سہولیات سے محروم کرنے کے لئے نشانہ بنا ئے گی ۔ پھربڑے فخر سے اپنا سینہ چوڑا کرکے پانچ سال تک دعویٰ کرتی پھرے گی کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے جس تبدیلی کے نعرے کے ساتھ کفایت شعاری اور خودانحصاری کا علم بلند کیا تھا۔ اِس کے اہداف حاصل ہو گئے ہیں۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت تنخواہ دار طبقے کی تنخواہیں کم ،سرکاری اور نجی ملازمین کی آمدن پر موجودہ ٹیکس مراعات ختم اور ماہانہ الاؤنسز بند کرکے کفایت شعاری اور خودانحصاری کا پروگرام مرتب کرچکی ہے۔ تو آج بیچارہ مُلک کا بڑا سرکاری اور نجی ملازمین کا تنخواہ دار طبقہ دعا کرے گاکہ اللہ پی ٹی آئی کے سربراہ اور نومنتخب وزیراعظم عمران خان کی حکومت کل کے بجائے؛ آج ہی چلی جائے۔ بہر کیف، وزیراعظم عمران خان کچھ بھی ہو جائے ؛مُلک کو سنبھالا دینے کی آڑ میں سرکاری و نجی تنخواہ دار طبقے کی موجودہ ٹیکس مراعات میں ہیر پھیر کر کے اِسے زیادہ یا ختم نہ کریں،آج یہ جیسی بھی ہے ؛تنخواہ دار طبقے کو قبول ہے۔ کیوں کہ گزشتہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے وقت نزع سرکاری اور نجی تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کی مد میں ایمنٹسی اسکیم کے تحت جتنی جھوٹ دی ہے، اِس سے مُلک بھر کے ہر گریڈ کے تمام سرکاری اور نجی تنخواہ دار ملازمین ضرورت سے کہیں زیادہ مطمئن ہیں۔ اَب اگر وزیراعظم عمران خان ٹیکس وصولی کو پرا نی والی پوزیشن پر لا ئیں گے ؛ تو یہ تنخواہ دار طبقے کے ساتھ زیاتی ہوگی، جس سے تنخواہ دار طبقے میں حکومت کا بنابنایا مورال مجروح ہوجائیگا۔ اِس منظر اور پس منظر میں تنخواہ دار طبقہ ، اپنے ہاتھ جوڑ کر عزت مآب جناب چیف جسٹس ثاقب نثا رسے التماس کررہا ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر اِن خبروں اور اقدامات پر فی نوٹس لیں ، جواپنے نو منتخب وزیراعظم عمران خان کے کفایت شعاری اور خودانحصاری کے سو روزہ پروگرام سے پسنے کو ہیں ؛جس کے تحت وزیراعظم سرکاری و نجی تنخواہ دار ملازمین کی تنخواہیں مہنگائی کی تناسب سے نہ بڑھا کر ، سالانہ آمدن پر موجودہ ٹیکس کی مراعات کی چھوٹ ختم اور دیگر ماہانہ الاونسز بند کرنے کے اقدامات کرکے تنخواہ دار طبقے کو خطے غربت سے نیچے زندگی بسر کرنیوالے طبقے میں شامل کرناچاہتے ہیں۔جبکہ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ تنخواہ دار طبقہ اپنی ماہانہ تنخواہ ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی ماہانہ ٹیکس کی ادائیگی کی مد میں اچھی خاصی ہزارواں اورسالانہ لاکھوں میں رقم FBR میں جمع کرادیتاہے، مگر اِس کے باوجود بھی یہ طبقہ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی خریدار پربھی ناقابل واپسی ٹیکس اداکرتاہے۔ چیف جسٹس صاحب، آپ اِس جانب بھی ایسے ہی توجہ دیں؛ آپ نے جس طرح موبائل فونز کمپنیوں سے عام موبائل صارف کے کارڈلوڈ کرانے پر زائدٹیکس کی واپسی کا حکم نامہ صادر فرما کرمُلک میں تاریخ ساز باب کا اضافہ کردیاہے۔ جس سے موبائل صارفین میں نہ ختم ہونے والی خوشی کی لہر دوڑ چکی ہے۔ جنابِ محترم چیف جسٹس صاحب،آج آپ سے مُلک کا بڑا تنخواہ دار طبقہ فریاد کرتاہے کہ وزیراعظم عمران خان کو تنخواہ دار طبقے کی تنخواہیں کم، ٹیکس کی مد میں موجودہ مراعات ختم ، الاؤنسز بند کرنے سمیت دیگر سہولیات ختم کرنے کا فی الفور نوٹس لیں۔اِسی طرح حکومت اور FBRکوبھی پابند کریں کہ ایسی پالیسیاں اور پروگرام مرتب کئے جائیں کہ مظلوم تنخواہ دارطبقے کی اشیائے خوردونوش اور دیگر آسائش وسہولیات زندگی کی خریدار پر کاٹے گئے ٹیکس کی واپسی کا جا مع منصوبہ مرتب کریں تاکہ تنخواہ دار طبقہ ماہانہ و سالانہ FBR کو ٹیکس دینے کے باوجود ناقابلِ واپسی دُہرے ٹیکس کی ادائیگی سے بچ جائے۔