- الإعلانات -

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس،اہم فیصلے

adaria

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدرات مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس پیر کو وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی جس میں ایل این جی معاہدے کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دیگر امور میں پن بجلی خالص منافع کیلئے اے جی این قاضی فارمولے پر اتفاق، ایچ ای سی کو یکساں نصاب کیلئے پلاننگ کی ہدایت جبکہ قومی سطح پر سات اکتوبر سے صفائی مہم کا آغاز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل یا سی سی آئی پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہے جس کا مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور دیگر معاملات پر جاری اختلافات کو ختم کرنا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل کو 1973 کے آئین کی روشنی میں قائم کیا گیا ہے۔جنرل مشرف اور آصف علی زرداری دور حکومت میں یہ کیبنٹ ڈویژن کے ماتحت ادارہ تھا۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ ادارہ وزارتِ بین الصوبائی ہم آہنگی کو سونپا گیا ہے۔ سی سی آئی بنیادی طور پر وزیر اعظم پاکستان اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ پر مشتمل ہوتا ہے ۔اٹھارویں آئینی ترمیم کہ بعد یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ ہرتین ماہ میں ایک بار ضرور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا جائے گا۔کونسل کی ساخت اس لیے بہت اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں تمام فیصلے اکثریتی رائے کے تحت ہوتے ہیں، نوتشکیل شدہ کونسل میں زیادہ تراراکین حکمراں اتحاد سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے واحد رکن ہیں۔کونسل کی اہمیت میں 18ویں ترمیم کے بعد کئی گنا اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ کونسل صوبوں اور وفاق کے درمیان معاملات کو حل کرتی ہے۔تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے کے بعداس کونسل کا یہ پہلا اہم اجلاس تھا جس میں قومی اہمیت کے اہم فیصلے ہوئے۔جن میں لیکویفائیڈ نیچرل گیس(ایل این جی)کے تمام معاہدے منظر عام پر لانے کا فیصلہ سب سے اہم ہے۔ اجلاس میں پٹرولیم پالیسی 2012ء کے معاملے پر بھی صوبوں سے تجاویز طلب کی گئیں۔اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو تعلیمی اداروں کے معیار اور یکساں نصاب کے لیے لائحہ عمل وضع کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔اس کے علاوہ پی او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے امور پر غور کے لئے وزیر بین الصوبائی رابطہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو آئندہ ایک ماہ میں اپنی سفارشات مشترکہ مفادات کونسل کو پیش کرے گی۔اجلاس میں قومی صفائی مہم شروع کرنے پرصوبائی حکومتوں کی جانب سے بھی اس مہم میں بھرپور حصہ لینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے،اجلاس میں کراچی کو 1200 کیوسک اضافی پانی دینے کے معاملہ بھی زیر غور آیا لیکن اس پر فیصلہ نہ ہو سکا جس کے بعد اس کو واٹر کونسل کو بھجوانے کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت سندھ اور وزارت آبی وسائل سے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔اس موقع پروزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبوں کو مزید خود مختار بنانا چاہتے ہیں اور صوبوں کی ترقی کیلئے انقلابی پروگرام رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے یقین دلایا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائیگی اور ملکی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچائیں گے۔ وزیراعظم نے شرکاء کو مقامی حکومتوں کے نئے نظام اور جامع اصلاحات کے بارے میں بھی اعتماد میں لیا۔ کونسل ملک میں موجودہ پانی کی فراہمی، صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے فارمولے اور پانی کے ضیاع کو روکنے اور اسکے بہتر استعمال کے سلسلے میں بھی اقدامات پر زور دیا گیا۔ گزشتہ روز کے فیصلوں کی روشنی یہ کہا جا سکتا ہے۔اہم نوعیت کے قومی امور پر چاروں صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ ہیں اور وفاق بھی صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے۔گزشتہ روز کے اجلاس میں سب سے اہم فیصلہ سابق حکومت کے ایل این جی معاہدے کو پبلک کرنے کا ہے جسکے میں شکوک شبہات پائے جاتے کہ اس معاہدے میں شفافیت کا خیال نہیں رکھا گیا جس سے قومی خزانے کو ہر روز بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔امید ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے جملہ فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا عزم
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر اس عزم کو دوہرایا ہے کہ وطن کی حرمت اور سلامتی تمام چیزوں پر مقدم ہے۔آرمی چیف کا ملٹری اکیڈمی کاکول کے دورے کے دوران فیکلٹی اور کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بیان ایک ایسے ماحول میں سامنے آیا ہے جب پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے مسلسل جارحانہ بیانات سامنے آ رہے ہیں۔بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کی مفاہمت کی پیشکش کو کمزوری سمجھ کر دھمکیوں پر اتری ہوئی ہے۔جنرل باجوہ نے دبے لفظوں اس پار پیغام دیا ہے کہ ہمارے لیے وطن کی حرمت اور سلامتی تمام چیزوں پر مقدم ہے باقی سب چیزیں ثانوی ہیں باھرت کسی مغالطے میں نہ رہے۔ہمیں اپنی سپاہ پر کامل اعتماد ہے کہ وہ دشمن کی ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے ۔
بھارتی جارحانہ رویے کے خلاف حکومت اور اپوزیشن متحد
بھارتی آرمی چیف کے عاقبت نا اندیشانہ بیان نے پوری پاکستانی قوم کو متحد کردیا ہے۔وطن عزیز کے ہر طبقہ فکر کا فردجہاں اسے اشتعال انگیزی قرار دے رہا ہے وہاں ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں بھارتی آرمی چیف کی دھمکیوں کو گیدڑ بھبکیاں اور مودی کی حکومت کے مذاکرات سے بھاگنے کو انتخابی سیاست قرار دے رہی ہیں۔ملک کے ایوان بالا سینیٹ میں پاک بھارت حالیہ صورتحال اور بھارتی آرمی چیف کے بیان پر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے اظہار خیال کیا اور اسے خطے کے لیے تباہ کن کہا۔مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ بھارت کے پاس کشمیر ،سرکریک اور سیاچن پر کہنے کو کچھ نہیں ،اس لئے وہ مذاکرات سے بھاگتا ہے ۔پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بھارت جان لے کہ امن کی خواہش کمزوری ہرگز نہیں ہے حاصل بزنجو نے کہا کہ نریندر مودی پاکستان سے کبھی بات چیت نہیں کرے گا ،ہمیں بھارت میں نئی حکومت کے آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔اسی طرح اُدھروفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان شہید برہان وانی کو فریڈم فائٹر سمجھتا ہے ،اس لئے برہان وانی کا یادگار ٹکٹ جاری کیا ۔فواد چوہدری نے سینیٹ میں بیان دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں لڑنے والے سارے کشمیری فریڈم فائٹر ہیں۔ہم پاکستانیوں کے دل کشمیر کے لوگوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، کشمیر اب بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے وہ سب پاکستان کنٹرول نہیں کررہا، پاکستان امن کیلئے کھڑا ہے، ہم بھارت کی اندرونی سیاست سے متاثرنہیں ہوں گے، اگر بھارتی رویہ یہی رہتا ہے تو پورا پاکستان متحد ہے اور بھارت کو جواب دینا جانتا ہے۔بلاشبہ مودی حکومت اس وقت شدید اندرونی دباؤ کی وجہ حواس کھو چکی ہے ۔مذکرات سے بھاگنا اور سرجیکل سٹرائیک کی دھمکیاں کھلی دہشت گردی ہے۔بین الاقومی برادری کو اسکا نوٹس لینا چاہیے اور امن بات چیت کی پاکستانی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔