- الإعلانات -

ہیلمٹ کی پابندی کا قانون

ان دنوں پاکستان اسلام آباد میں ہیلمٹ کی پابندی کے حوالے سے ایک خبر پڑھنے کو ملی۔خبر کچھ اس طرح تھی کہ لاہور ہائیکورٹ کے احکامات پر شہر کی مصروف ترین شاہراہ مال روڈ پر ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیااور پہلے روز 5ہزار تین سو پندرہ موٹر سائیکل سواروں کے چالان کئے گئے ۔ہیلمٹ استعمال کے حوالے سے شہر بھر میں آگاہی بینرز بھی آویزاں کر دیے گئے۔شہریوں نے ہیلمٹ کی خریداری کیلئے مارکیٹوں کا رخ کر لیا تو معزز قارئین ان دنوں وطن عزیز کے ایک بڑے صوبے کے سب سے بڑے شہر لاہور میں جو اہم مسائل عوام کے روبرو ہیں ان میں سے ایک اہم مسئلہ ہیلمٹ کی پابندی کا ہے دوسرے درپیش مسائل و قوانین تو محدود حلقوں پر اثر رکھتے ہیں لیکن ہیلمٹ کا اثر عام ہے ۔یہ سب مسئلوں کے سر پر ہے اسی کا ہی ان دنوں راج ہے یوں تو پورے ملک میں اس کی ضرورت ہے لیکن لاہور میں اس کی بن آئی ہے ۔لاہور میں اس کی افادیت کے بعد پنجاب کے دوسرے شہروں کے عوام بھی اس کا دم بھرنے لگیں تو عجب نہیں ۔لاہور میں ناکوں پر ستم رسیدہ عوام میں آنکھ مچولی کے دیدہ زیب مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ہیلمٹ کی پابندی کی دوامی حیثیت ہمیشہ مشکوک رہی ہے کیونکہ جنرل ضیاء الحق اور پھر جنرل پرویز مشرف کے ادوار حکومت میں ہیلمٹ کی پابندی کا چند ماہ بڑا چرچا رہا کہا جاتا ہے کہ ان دونوں ادوار حکومت میں کسی اوپر کے ہاتھ نے اپنے ہیلمٹ فروخت کرنے کیلئے یہ پابندی لگوائی اور جب غیر معیاری ہیلمٹ فروخت ہو گئے تو یہ پابندی اٹھا لی گئی ۔چند ماہ بڑا ہنگامہ رہا پھر یہ قانون ایسا غائب ہوا کہ آج پھر لاہور میں پٹاری سے باہر نکل آیا ہے ۔اسی سابقہ تجربہ کی روشنی میں اکثریت کا اب بھی یہی خیال ہے کہ یہ قانون چند ماہ کی حیات کے بعد شائد دم توڑ دے گااور بڑی بات نہیں کہ ہیلمٹ پہنانے کی یہ تحریک بھی قصہ ماضی بن جائے۔ہیلمٹ کی افادیت و اہمیت سے انکار ممکن نہیں کم ازکم یہ سر کی چوٹ سے محفوظ رکھتا ہے اس طرح حادثہ کی صورت میں اس کے پہننے سے جان بچنے کے امکانات کافی روشن ہیں لیکن قوم جو پہلے ہی بجلی گیس اور دیگر لوازمات زندگی پورا کرنے میں نڈھال و لاچار ہی نہیں بلکہ نیم جان ہو چکی ہے اسے بذریعہ ہیلمٹ جان سے بچانے کی ہائیکورٹ کی نوازش و سعی سمجھ سے بالا تر ہے۔عید الفطر کے نزدیک عید بنانے کیلئے گاڑیوں ، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کے چالان کرنا ہماری پولیس کا دیرینہ شیوہ ہے جس سے وطن عزیز کے کسی باسی کو انکار نہیں کیونکہ آج تک پولیس اسی وطیرہ پر بڑی جانفشانی اور لگن سے عمل پیرا ہے جب بھی ملک خداداد میں پولیس کیلئے کوئی مک مکا کا نیا قانون لاگو ہوتا ہے خواہ یہ رمضان المبارک میں روزہ خوروں کی گرفت کا قانون ہو ،ڈبل سواری کا معاملہ ہو ،کاروں سے کالے شیشے اتروانے کا ٹارگٹ ہو ،بسوں سے ڈیک و ٹیلی ویژن اتروانے کی مساعی ہو یا کرپشن کے خاتمے کیلئے اینٹی کرپشن تشکیل دی جائے ہر صورت میں فیض یاب ہونے والا طبقہ صرف پولیس کا ہی ہوتا ہے اور اسی کے وارے نیارے ہوتے ہیں پروفیسر انور مقصود نے اسی مک مکا کے بارے میں کیا خوب کہا ہے
آپ بے جرم یقیناًہیں مگر یہ فدوی
اس کام پہ مجبور بھی ہے مامور بھی ہے
کچھ نہ کچھ تو آپ کو دینا ہو گا
رسم دنیا بھی موقع بھی ہے دستور بھی ہے
لاہور میں ہیلمٹ کے قانون کے عمل کا نفاذ ہوتے ہی ایسا دکھائی دیا کہ ٹریفک کے دوسرے تمام قوانین یکلخت موقوف کر دیے گئے یا پس پردہ چلے گئے ۔خبر کے مطابق ہیلمٹ کی پابندی پر عمل درآمد کروانے کے پہلے روز ہی مال روڈ پر 1276موٹر سائیکل سواروں کے چالان اور انارکلی سرکل میں 800موٹر سائیکل سواروں کے چالان کئے گئے۔جس سے لاکھوں روپے ریونیو حاصل ہوا ۔سینکڑوں جو مک مکا پر چھوڑے گئے اور جن کی پولیس کے ہاتھوں عزت نفس مجروح ہوئی ہو گی ویسے بھی وطن عزیز کے شرفاکی پولیس کی نظر میں کبھی کوئی عزت رہی ہے جو مجروح ہو۔لاہور میں ذمہ داران نے ہیلمٹ کی پابندی کاعملی نفاذ کرنے سے قبل یہ اندازہ ہی نہ لگایا کہ لاہور کی سڑکوں پر کتنی موٹر سائیکلیں چلتی ہیں اور کتنی تعداد کے پاس ہیلمٹ موجود ہیں اور ہیلمٹوں کا کتنا سٹاک یہاں موجود ہے آیا یہ ذخیرہ کم پڑنے کا احتمال تو نہیں سرکاری سطح پر ہیلمٹوں کی دستیابی،قیمتوں پر کنٹرول جیسے معاملات کو نظر انداز کیا گیا ۔ہیلمٹ کی خرید کا طوفانی انداز اختیار کرنے سے قبل ہی ارباب اختیار کو اندازہ کر لینا چاہیے تھا ہیلمٹ کے قانون کی پابندی کے عملی نفاذ کے ساتھ ہی دکانوں سے ہیلمٹ ختم ہوگئے یا غائب کر دیے گئے ۔اتنی قلت دیکھنے میں آئی کہ دکانوں پر خریداروں کا اتنا ہجوم جیسے کوئی مفت چیز تقسیم ہو رہی ہو۔دکانداروں نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب فائدہ اٹھایا ۔عام دنوں میں 600سے 700روپے میں فروخت ہونے والے ہیلمٹ کی قیمت 1500روپے سے2000روپے تک وصول کی جا رہی ہے ۔مارکیٹ میں دکاندار ’’ انڈین ہیلمٹ‘‘ کے نام سے بھی فروخت کر رہے ہیں جس کی بقول دکاندار مضبوطی کی وجہ سے قیمت2500روپے تک طلب کی جا رہی ہے ۔دوسری جانب شہری قیمتیں بڑھنے کے بعد محفوظ ہیلمٹ کی بجائے صرف جرمانے سے بچنے کیلئے انتہائی ناقص میٹیریل سے بنے ہوئے ہیلمٹ خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔چالان سے بچاؤ کی خاطر بعض نوجوانوں نے کھلاڑیوں، صنعتی اداروں اور کان میں کام کرنے والے ملازمین کے زیر استعمال سیفٹی ہیلمٹ پہننے شروع کر دیے ہیں ۔ایک نوجوان نے تو سلور کی دیگچی کے گلے کو کاٹ کر خود ساختہ ہیلمٹ تیار کر لیا اور کئی بار ناکے پر موجود پولیس کے قریب سے اس امر کا جائزہ لینے کیلئے گزرا کہ آیا پولیس اسے ہیلمٹ تصور کرتی ہے یا نہیں لیکن شائد پولیس ابھی تک مخمصے کا شکار ہے اور حکام بالا کی طرف سے ہیلمٹ کی واضع اور مصدقہ تعریف کی منتظر ہے ۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ ستم رسیدہ عوام کو بلیک میں ہیلمٹ کی خرید سے بچانے کیلئے لاہور میں ہر ناکے پر پولیس کے پاس ہیلمٹوں کا ذخیرہ ہوتا اور بغیرہیلمٹ کے موٹر سائیکل سوار ان سے معقول و مقررہ نرخ پر ہیلمٹ خرید کر اپنی جیبیں کٹنے سے بچا سکتے۔جہاں تک ہیلمٹ کی پابندی میں سودوزیاں کا تعلق ہے یہ حادثے کی صورت میں سر کو چوٹ سے بچاتا ہے۔گرمی و سردی کی شدت و حدت سے اور گردوغبار اور دھویں جیسی کثافتوں کے منفی اثرات سے بچانے میں بھی ممد و معاون ہے۔بچے جو سکولوں اور کالجوں میں موٹر سائیکلوں پر جاتے ہیں یہ ہیلمٹ سنبھالیں یا بھاری بھرکم بستے ۔سینکڑوں کی تعداد میں بچوں کا ہیلمٹوں کو تعلیمی اداروں میں سنبھالنا اور الگ الگ ان کی پہچان رکھنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے ۔ذرا تصور کریں بازار میں سودا سلف خریدنے آئے ہوئے موٹر سائیکل سوار کیلئے کتنا کھٹن معاملہ ہے کہ وہ خود کو سنبھالے ،ہاتھ میں ہیلمٹ اٹھائے یا سودا خریدے۔ہمارے ہاں سال کا بیشتر حصہ شدید گرم ہوتا ہے اور اس انتہا درجے گرمی میں فوم والے ہیلمٹ کا پہننا آسان نہیں ہوتا ۔دماغی صحت ، دمے اور سینہ کی بیماریوں میں مبتلا مریض اس کے پہننے میں دم گھٹنے کی شکائت کرتے ہیں ۔ایک ماہر امراض جلد کی رائے میں سر پر مسلسل ہیلمٹ پہننے سے جلد کی بیماری ہو سکتی ہے جو سر سے پھیل کر چہرے اور دوسرے حصوں تک بھی وسیع ہو سکتی ہے ۔عمامہ پہننے والے حضرات کیلئے بھی ہیلمٹ ایک سخت چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ۔عمامہ اتنی معتبر چیز ہے جو ہمارے معاشرے میں جو کسی بزرگ و زاہد کے ساتھ ہی آتا ہے ۔مولویت کا تو جزو لازم ہے یہ شرفا تو کبھی بھی اس سے دست بردار ہونا گوارا نہیں کرتے ۔وطن عزیز ایک عرصہ سے دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے ۔ہیلمٹ کے سبب موٹر سائیکل سوار کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے ۔جرائم پیشہ اور دہشت گرد وں کیلئے وارداتوں میں ہیلمٹ مدد گار ہے۔