- الإعلانات -

بھارتی جنگی جنون ۔۔۔!

asgher ali shad

ایک جانب دہلی سرکار کا جنگی جنون انتہاؤں کو چھو رہا ہے جبکہ بھارت کے اندر اقلیتوں کی حالت زار یہ ہے کہ مسلمانوں دوسرے ہی نہیں بلکہ تیسرے درجے کے شہری کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں، اور اونچی ذات کے ہندو، اچھوتوں سے حیوانوں سے بھی بدتر برتاؤ کرتے ہیں اور بھارتی حکمران مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے طول و عرض میں بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ کی جانب سے تیرہ ستمبرکوایک خصوصی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں، دلتوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور این آر سی کے ذریعے اقلیتی طبقے کو مزید پریشانیوں کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بے جے پی کے انتہا پسند رہنما اقلیتی طبقات خصوصاً مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز تقاریر اور بیانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے ان طبقات کے خلاف حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندو انتہا پسند جماعت ہمیشہ اپنی فتح کو دلتوں، مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد سے جوڑتی ہے اور انتخابات کے وقت اور اس کے بعد اسے دانستہ ہندو مسلم رنگ دے دیا جاتا ہے جس سے انتہا پسند ہندو طبقے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انتہائی تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں دہلی سرکار کی متنازعہ این آر سی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے اقلیتوں میں اضطراب بڑھا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے 1997 کے بعد آسام میں بنگالی مسلمانوں کو ’’مشکوک ووٹر‘‘ قرار دیا گیا اور اب این آر سی کی بدولت بنگالی مسلمانوں میں شدید عدم تحفظ کا احساس سرایت کر گیا ہے۔ انسان دوست حلقوں کا کہنا ہے کہ دہلی سرکار کے توسیع پسندانہ عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، اربوں ڈالر کے جنگی معاہدے اور اسلحہ کی خریداری نئی دہلی کی سب سے اہم مصروفیت بن کر رہ گئی ہے، بی جے پی ہتھیاروں کے ذخائر جمع کر کے اکھنڈ بھارت اور رام راجیے کے قیام کا خواب دیکھ رہی ہے۔ بھارت کے فرانسیسی ساخت کے لڑاکا طیاروں ’’رافیل ‘‘ کی خریداری کے معاہدے کے ضمن میں بھارتی ایئر چیف ’’بی ایس دھنووا‘‘ نے 12 ستمبر کو کہا ہے کہ ’’ چین اور پاکستان کے مقابلے کے لئے یہ جہاز ضروری ہیں اور ایسے مزید معاہدے کیے جانے چاہیں ‘‘ ۔ اس پس منظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت گزشتہ دس برسوں میں جنگی ہتھیار خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے دس سالوں میں ہندوستان کے ہتھیاروں کی خرید اری میں 24فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان کی امن پسندی کی کوششوں کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ اس کے برعکس اس مدت میں پاکستان میں ہتھیاروں کی خریداری میں ایک تہائی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان حقائق کا انکشاف سویڈین کے ایک سرکردہ تحقیقی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں بھی کیا ہے۔واضح رہے کہ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) نے پوری دنیا میں ہتھیاروں کی برآمدات کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلحے کی خریداری میں مشرق وسطی کے ممالک اور ایشیا سب سے آگے ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ، روس، فرانس، جرمنی اور چین ہتھیار برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2013 سے 2017 کے دوران انڈیا بڑے ہتھیار خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک رہا اور پورے دنیا میں ہتھیاروں کا جتنا بیوپار ہوا اس کا 12 فیصد اکیلے بھارت نے خریدا۔ روس ہندوستان کو ہتھیاروں کا سب سے بڑا سپلائیرہے۔ امریکہ دوسرا جبکہ اسرائیل انڈیا کا تیسرا سب سے بڑا دفاعی سپلائر ہے۔یہ امر توجہ طلب ہے کہ دہلی کے حکمرانوں نے گزشتہ دس برس میں سو ارب ڈالر سے زیادہ نئے ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی خرید پر صرف کیے۔ اس مدت میں نئے جنگی جہازوں، میزائل، آبدوزوں، ٹینکوں، ہاویٹزر توپوں، سپیشل طیاروں اور دوسرے ہتھیاروں کی خرید کے لیے سودے کیے گئے۔ ابھی گذشتہ ماہ دہلی سرکار نے اپنے جنگی جنون کا ایک بار پھر مظاہرہ کرتے دفاعی اخراجات کیلئے 51 ارب ڈالر مختص کیے ہیں جس میں تقریباً 16 ارب ڈالر نئے ہتھیاروں اور جنگی ساز وسامان کے حصول کیلئے ہیں۔جبکہ عالمی برداری کیلئے یہ امر پاکستان کی عالمی امن کے استحکام کی کاوشوں کی دلیل ہونا چاہیے کہ بھارت سے مسلسل کشیدگی کے باوجود گزشتہ دس برس کے دوران پاکستان کے ہتھیاروں کی درآمد میں 36 فیصد کی کمی آئی ہے جو پوری دنیا میں ہتھیاروں کی فروخت کا تقریباً تین فیصد ہے۔ اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ حلقوں نے کہا ہے کہ دہلی کے حکمرانوں کے جنگی جنون کا نام دیا جائے یا کچھ اور کہا جائے مگر یہ اظہر من الشمس ہے کہ جنوبی ایشیائی خطے خصوصاً جموں کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی اور دہلی سرکار کافی عرصے سے عالمی قوانین اور ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہر قسم کی معاندانہ روش اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ موثر عالمی حلقے دہلی کی اس روش کے سد باب کیلئے آگے آئیں گے تا کہ اس خطے میں پائیدار امن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔