- الإعلانات -

آگ

معزز قارئین کرام قبل اس کے بھی راقم آگ کے موضوع ،اس کے فوائد اور نقصانات پر قلم آرائی کر چکا ہے لیکن کیا کریں کہ کچھ وقفے کے بعد وطن عزیز کے کسی بڑے شہر میں کسی اہم مقام پر آگ لگنے کا پچھلے واقعات سے ملتا جلتا واقعہ پھر وقوع پذیر ہو جاتا ہے جو دوبارہ قلم اٹھانے کی زحمت سے دوچار کرنے کا باعث بنتا ہے۔آگ کی دریافت سے قبل انسان کی زندگی نامکمل تھی۔ عصر حاضر میں آگ سے انسان سو طرح کے کام لیتا ہے ۔آگ انسان کیلئے کھانا پکانے ،روشنی مہیا کرنے سمیت کسی بھی کام میں جوت دو وہ اپنی قوت خدمت کیلئے حاضر کر دیتی ہے ۔انجن ،جہاز اور صنعت آگ ہی کے زور اور اسی کے دم قدم سے آباد ہے ۔آگ کی قوتوں میں سے ایک بالا تر قوت برق ہے جسے گرتے دیکھ کر انسان لرزنے کے ساتھ استغفار کا ورد ضرور کرتا ہے ۔اس کے جنگل پر گرنے سے جنگل کا جل کر راکھ ہونا مقدر ٹھہرتا ہے۔آتش فشاں پہاڑوں میں آگ لگنے سے پیدا ہونے والے زلزلے دنیا میں بنی نوع انسان کی تباہی و بربادی کی داستانیں رقم کرتے ہیں ۔آگ لگنا اور گھر کے چراغ سے آگ لگنا ہمارے ہاں بطور محاورہ مستعمل اور عام سی بات ہے ۔وطن عزیز میں بعض محبت کے اسیر بہ اختیار و رغبت محبت کی ناکامی پر جوش محبت میں اپنے تئیں آگ لگا کر درد ناک موت سے دوچار ہوتے ہیں ۔ سماج میں آگ لگانے کے واقعات بھی خبروں کی شہ سرخیوں کی شکل میں قارئین تک پہنچتے رہتے ہیں ۔ محرومیاں ،مالی پریشانیاں ،غربت ،مہنگائی ،بے روز گاری،معاشرتی تضادات ،بے انصافیاں ،عدم مساوات اور گھریلو جھگڑوں سے تنگ ستم زدہ افراد بطور احتجاج دنیا کے مصائب و آلام سے ہمیشہ کی رہائی کیلئے خود کو جلا کر اذیت ناک موت کا انتخاب کرتے ہیں ۔ارض پاک میں چولہا جلانے کے دوران سماج کی کمزور و ناتواں مخلوق کے کپڑوں کو آگ پکڑ لیتی ہے جو ان کی درد ناک موت کا باعث بنتی ہے ۔اسے عورت کی غلطی یا خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن واقعات سوختگی میں جلانے والے کبھی سزا نہیں پاتے۔ ہندوستان میں مردہ خاوند کی لاش کے ساتھ ان کی بیویوں کا چتا پر جلایا جانا رسم ستی کہلاتا تھا گو قانوناً تو اب اس رسم پر سخت پابندی ہے لیکن اس دور جدید میں بھی ہندوستان کے دور دراز پسماندہ علاقوں سے اب بھی کبھی کبھار رسم ستی پر قربانی کی بھینٹ چڑھائی جانے والی مظلوم عورت کی دلخراش خبر سننے کو مل جاتی ہے ۔سماج میں دکھ، درد اور اذیتیں سہتے ہوئے تلخ زندگی بسر کرنے والوں کو بھی کوئی داد نہیں ملتی اور نہ ہی مجبور جل مرنے والوں کے درد کو محسوس کیا جاتا ہے ۔کئی بے گناہ سماج میں جل رہے ہیں مگر دھواں تک نہیں اٹھتا اگر اٹھتا بھی ہے تو کوئی دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا ،اگر کوئی دیکھتا بھی ہے تو آگ بجھانے کی تگ و دو سے غافل ہے یا پھر خاموش تماشائی ہے۔کچھ درد دل رکھنے والے ایمان کے کمزور ترین درجے پر کھڑے دل میں برا خیال کرنے اور استغفار کہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں ۔دعا کریں کہ وہاں آگ نہ لگے جہاں اسے بجھانے والا کوئی نہ ہو ۔زندگی بھی آگ وخون کا دریا ہے جسے پار کرنا بدقسمت انسانوں کے بس کا روگ نہیں ۔میرے واجب تکریم قارئین بات ہو رہی تھی آگ لگنے یا لگانے کی کچھ ملک و اسلام دشمن عناصر پس پردہ رہ کر مختلف فرقوں کے درمیان فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے کر نہ بجھنے والی آگ اس مہارت سے لگاتے ہیں کہ دو برادر مسلمان فریقوں میں قتل و غارت کا بازار گرم کروا دیتے ہیں ۔ جنگ ایک ایسی آگ ہے جس کا ایندھن بے گناہ انسانوں کو ہی بننا پڑتا ہے ۔جنگ ہلاکت ،بربادی و تباہی کی علامت ہے ۔ماضی قریب میں ہم سب نے دیکھا بھی اور سنا بھی انسان کے ہاتھوں لگائی گئی آگ آتش و آہن کی بارش ،جنگی طیاروں کی گھن گرج ،بمباری کی دلخراش آوازیں ،جدید اسلحہ کی داستانیں ،ایسی آگ آسمان جس کے شعلوں سے سرخ کر دیا گیا ،بے رحم بموں نے انسان کجا پتھروں کو بھی پگھلا دیا ۔اس آگ نے بے آب و گیاہ صحراؤں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اس آگ کے دریا میں لاکھوں بے گناہ انسان بہا دیے گئے۔ جنگ کے الاؤ سے اٹھنے والی چنگاریاں دور دور تک گرتی ہیں ۔عربی کا ایک محاورہ ہے اگر ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف پھیلتی آگ بجھائی نہ جائے تو وہ آگ اس گھر تک پہنچ جاتی ہے جس سے دیا سلائی پھینکی گئی ہو ۔

اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیر ا گھر نہ ہو
مارچ2002ء میں ہونے والے فسادات میں ایک ریل گاڑی کو لگائی گئی آگ میں 59انتہا پسند ہندو ہلاک ہوئے اور نزلہ بر عضو ضعیف کے مصداق الزام بے چارے مسلمانوں پر ہی لگایا گیا اور اس ناکردہ جرم کی پاداش میں تین ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا یا زندہ جلایا گیا ۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ مسلمانوں کی نسل کشی تھی اور یہ فسادات گجرات کی ریاستی حکومت کی در پردہ اجازت پر ہی کئے گئے۔کئی دفعہ آگ لگتی نہیں لگائی جاتی ہے ۔اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے ،نشان جرم مٹانے کیلئے لیکن جرم تو خود اپنی گواہی کا سامان پیدا کرتا ہے ،خود بولتا اور تمام ثبوت و شواہد مہیا کرتا ہے ۔یہ علیحدہ بات ہے کہ مجرم کو سماج میں سزا ملے یا نہ ملے لیکن جرم چھپائے نہیں چھپتا۔آگ ضروری دستاویزات ضائع کرنے کیلئے بھی ایک موثر اور معتبر ذریعہ ہے ۔وطن عزیز میں انشورڈ گاڑیوں،دکانوں ،بڑی عمارتوں اور کارخانوں میں قیمتی سامان کو آگ لگنے کا مشاہدہ میرے معزز ناظرین نے کیا ہو گا ۔ایسی لگی آگ کے پس پردہ ہمیشہ ذاتی محرکات و مفادات ہی کار فرما ہوتے ہیں ۔اکثر آگ لگنے کی وجوہات میں تان بجلی کا سرکٹ شارٹ ہونے پر ہی تان ٹوٹتی ہے۔بعد میں ذمہ داران کی طرف سے لگائی گئی انکوائریاں جامع تحقیقات سے گریز کے باعث قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹیں بنا کر کسی بھی مثبت نتیجے پر پہنچنے سے محروم رہتی ہیں۔بعد ازاں ایسے واقعات کو بھلانے اور ان پر مٹی ڈالنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں میں آگ لگنے اور اہم سرکاری ریکارڈ جلنے کے واقعات اس تواتر سے ہوئے ہیں کہ اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ آتشزدگی کے یہ واقعات محض حادثات نہیں ۔لاہور میں اس قسم کے وقوعے نے صورت حال کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے داماد کی ملکیت اس پلازے میں صاف پانی کمپنی کا دفتر واقع تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کمپنی پنجاب کی سابق حکومت کی بد عنوانیوں کا شاہکار ہے اور ان دنوں قومی احتساب بیورو اس کمپنی میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کر رہی ہے ۔ گزشتہ ماہ کے وسط میں لاہور میں پنجاب کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے رجسٹرار آفس میں آگ لگنے کا ایسا ہی مشکوک واقعہ اتنی صفائی کے ساتھ رونما ہوا یاکیا گیا کہ مشکوک اور زیر تفتیش ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا اہم ترین ریکارڈ جلنے کے سوا اس سے کو ئی اور نقصان نہیں ہوا تھا ۔حالیہ برسوں میں سرکاری دفاتر میں آتشزدگی کا بدترین وقوعہ مئی 2013ء میں لاہور ہی میں ایل ڈی اے پلازہ میں پیش آیا جس میں لاہور میٹرو منصوبے کے علاوہ رئیل اسٹیٹ کا بہت سا اہم ریکارڈ ضائع ہو گیا اور 25افراد بھی اس خوفناک وقوعے کی نذر ہو گئے تھے مگر متعلقہ ادارے کی جانب سے ایک جلتی ہوئی ٹیوب لائٹ کو اس کو ذمہ دار قرار دے کر معاملے کو دبا دیا گیا۔
*****