- الإعلانات -

اچکزئی کے بیان سے لوگوں میں شدید غم وغصہ

25 جولائی2018 کے عام انتخابات میں جہاں ایک طرف بہت سے نئے چہرے قومی اسمبلی میں پہنچے وہاں کئی بڑے بڑے سیاسی رہنما رکن قومی اسمبلی بننے میں ناکام نظر آئے۔انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے والے سیاسی رہنماؤں میں ایسے امیدوار بھی تھے جو ایک سے زائد مرتبہ اپنی نشست سے جیت چکے تھے تاہم 2018 کے انتخابات میں انکو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور انکو اب ہم پارلیمنٹ میں نہیں دیکھتے۔ شکست کا سامنا کرنے والوں میں کچھ سیاسی رہنما ایسے تھے جن کی جیت کا تجزیہ کاروں کو سو فیصد یقین تھا لیکن انتخابات میں شکست نے سب کو حیران کردیا۔ ان میں بہت سوں کے ساتھ جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اچکزئی بھی شامل ہیں۔جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اس مرتبہ متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر اپنے آبائی ضلع ڈیر اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کی دو نشستوں این اے 38 اور 39 پر انتخابات لڑ رہے تھے لیکن ایم ایم اے کے صدر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اسی طرح پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو بھی عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ محمود خان اچکزئی بلوچستان سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 263 قلعہ عبداللہ سے میدان میں تھے لیکن ایم ایم اے کے امیدوار صلاح الدین یہ نشست نکالنے میں کامیاب رہے۔ بلوچستان میں محمود خان اچکزئی کی پارٹی کو ایم ایم اے نے شکست دی لیکن ان کا کہنا ہے کہ فوج نے انہیں شکست دی۔ اس طرح ن لیگ کو پنجاب میں زیادہ نشستیں ملی بعض جگہوں پر پی پی کو ہرایا تو وہ بھی فوج یاعدلیہ نے ان کو ہرایا۔ منافقت کی انتہا یہ ہے کہ سب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور الزام فوج پر لگایا جارہاہے تاکہ آئندہ فوج ہاتھ کھڑے کرے اور یہ لوگ ماضی کی طرح ہٹلر بازی اور دھاندلی کھلے عام کرتے رہیں۔ منافقت کی انتہا یہ ہے کہ یہ لوگ الیکشن کو نہیں مانتے لیکن وزیراعظم ، ن لیگ سپیکر پی پی کا اور ڈپٹی سپیکر فضل الرحمن کا بیٹا ہوگا تو ٹھیک ہے۔ آپ لوگوں نے سیاست کی خاطر کے پی اور بلوچستان میں سڑکیں زبردستی بند کرائیں۔ احتجاج ضرور کریں لیکن اس کے لئے وجہ بھی ہونی چاہیے اور راستوں کو بند کرکے نہ کریں۔ اگر منافقت کی یہ سیاست بند نہ ہوئی تو مجھ لگ رہاہے کہ اب بھی ان پارٹیوں کے ووٹ اس منافقت کی وجہ سے کم ہوئے ،آنے والے وقت میں مزید کم ہوں گے۔اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ 25 جولائی کو عام انتخابات کیلئے ملک بھر میں پولنگ مجموعی طور پر پرامن اور آزادانہ ماحول میں منعقد ہوا اور الیکشن کمیشن کے ماتحت انتخابی عملہ نے پولنگ کے فرائض پاک فوج اور دوسرے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی کڑی نگرانی میں سرانجام دیئے اس لئے انتخابات میں دھاندلی کے ماضی جیسے امکانات نہ ہونے کے برابر رہے تاہم پولنگ کا مرحلہ طے ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ شروع ہوا تو عوامی فیصلے پر متعدد جماعتیں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھیں۔ بعض سیاستدان خود ساختہ دھاندلیوں کو جواز بنا کر پورے انتخابی عمل کو چیلنج کرنا اور اسمبلیوں کی رکنیت کا حلف نہ اٹھانے کا فیصلہ کرکے دوسرے منتخب ارکان کو پارلیمنٹ کے اندر جانے سے روکنے کیلئے تشدد اور طاقت کے استعمال والے اقدامات اٹھانے کا ارادہ رکھتے تھے، جو پورے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے مترادف ہے۔یہ سب سیاستدان اپنی اپنی نشستوں کا انتخاب ہارچکے تھے اس لئے ان کا اسمبلیوں میں نہ بیٹھنے اور رکنیت کا حلف نہ اٹھانے اور دوسرے ارکان کو منتخب ایوان میں داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ انکے ذاتی غصے کا اظہار نظر آتا تھا اور شاید وہ ایسے فیصلے کے ذریعے اپنی ذاتی شکست پر پوری پارلیمنٹ کو سزا دینا چاہتے تھے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے الیکشن دو ہزار اٹھارہ کے نتائج مسترد کرتے ہوئے بارہ پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کھولنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کے دوران بلوچستان خاص طور پر قلعہ عبداللہ میں نان اسٹیٹ ایکٹرز اور مسلح جتھوں نے نہ صرف لوگوں کو ووٹ ڈالنے نہیں دئیے بلکہ ڈالے گئے ووٹ بھی پھاڑ دئیے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان سو فیصد ناکام رہا بتایا جائے کہ پولنگ اسٹاف بے بس تھا یا الیکشن کمیشن نے اختیارات سرنڈر کئے۔ محمود خان اچکزئی نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے کہا کہ ہم نے حلقہ بندیوں پر اعتراض کیا۔ عدالتوں نے ہمارا ساتھ دیتے ہوئے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا۔اس سے قبل بھی جب وہ قومی اسمبلی کے ممبر تھے محب وطن لوگوں کی طرف سے ان کی حب الوطنی پر ہمیشہ شکوک کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ سابقہ اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ کسی پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ جس کے جواب میں اسپیکر ایازصادق نے کہا کہ کہ جو پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگاتا وہ پاکستانی ہی نہیں۔ان کے مطابق پاکستان بننے کے بعد تمام پشتونوں کو اکٹھا کر کے صوبے کا نام افغانیہ قرار دے دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو پاکستان اور بھارت کے علاوہ تیسری آپشن بھی دینی چاہئے۔ہارنے کے بعد اپنی ہار کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمشن ، پاک فوج اور دیگر اداروں پر ڈالتے ہوئے محمود اچکزئی پاک فوج کے خلاف اور منظور پشتین کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے۔پاک فوج کو بدنام کرنے کیلئے عالمی اداروں سے بھی اپیل کی گئی۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کارکنوں کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا بھرمیں پٹھانوں کے خلاف زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے جلسے جلوس کریں۔ پشتونخواہ میپ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی میڈیا بھی اس حوالے سے آواز اٹھا رہا ہے۔پشتون تحفظ موومنٹ سے متعلق ترجمان پاک فوج بھی انکشاف کرچکے ہیں کہ غیر ملکی طاقتیں اس جماعت کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ منظور محسود سے پشتین کیسے بنا اور افغانستان میں اس تنظیم کے پانچ ہزار اکاؤنٹ کیسے آپریشنل ہوئے اور کہاں سے چل رہے ہیں جب ایک مخصوص ٹوپی سرحد پار بڑی تعداد میں بنا کر پاکستان بھیجی گئی جس کو پہچان بنایا جا رہا ہے۔