- الإعلانات -

سیاسی وعسکری قیادت کی ملاقات،سرحدی صورتحال پرغور

adaria

بھارت کی گیدڑبھبھکیوں کی وجہ سے خطے کی صورتحال دگرگوں ہے شاید بھارت اپنے ماضی کو بھول گیا ہے جب 1965ء کی جنگ میں پاکستان کے سپوتوں نے بھارتی بنیوں کوناکوں چنے چبوادیئے تھے انہیں فرار ہونے کاراستہ نہیں مل رہاتھا جب ہمارے جوانوں نے دشمن کوایسا سبق سکھایا تھا جورہتی دنیا تک یاد رہے گا ۔اب مودی اور بھارتی آرمی چیف پھر سے شہر کی جانب آرہے ہیں اور جب گیدڑ شہر کی طرف آتا ہے تو یقینی طورپر اس کی موت واقع ہوتی ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا اور دشمن کی توپوں کامنہ بند کردیا ۔گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی اس ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجودتھے۔ خطے میں امن وامان قائم رکھنے کیلئے مثبت کردار جاری رکھنے اور ملکی سلامتی کیلئے موثراقدامات کافیصلہ بھی کیاگیا۔ ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال اور سکیورٹی کے حوالے سے گفتگو ہوئی جبکہ بھارتی آرمی چیف کے بیان،وزیراعظم کے دورہ چین اور وزیرخارجہ کے دورہ اقوام متحدہ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان وزیراعظم ہاؤس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ، ملاقات کے دوران ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا، عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں پیش رفت پر وزیراعظم کو آگاہ کیا ، ملاقات کے دوران نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا ، ملاقات میں بھارتی دھمکیوں کے بعد کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا،ملاقات میں سیاسی اور عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطہ کی سلامتی کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ فاٹا ریفارمز کے حوالے سے حکومت نے جو حکمت عملی مرتب کی ہے کہ وہاں پر ترقیاتی کام فوری طور پر شروع ہو سکے۔ اس پر بھی میٹنگ میں تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔ سیاسی وعسکری قیادت کے مصمم عزم او رباہمی اتحاد نے دشمن کے دانت کھٹے کرکے رکھ دیئے ہیں مودی ہرممکن کوشش کررہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سرحد کے حالات خراب ہوں اور وہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے نہ صرف انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکے بلکہ جہازوں کی خریداری کے سکینڈلز پر بھی پردہ ڈالناچاہتا ہے لیکن شاید اب وقت گزرچکا ہے یہ نام نہاد جمہوریت کادعویدار، گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث بھارتی وزیراعظم کے اصل چہرے سے دنیا واقف ہوچکی ہے مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت ظلم ڈھارہاہے وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ پاکستان قیام امن کے سلسلے میں اہم کردار ادا کررہاہے لیکن بھارت کی جانب سے ہمیشہ منفی جواب رہا کبھی وہ ایل او سی پربلااشتعال فائرنگ کرتا ہے تو کبھی پانی کی دہشت گردی مچاتا ہے غرض کہ وہ کوئی موقع ہاتھ نہیں جانے دیتا مگر ہرموقع پر اسے منہ کی کھاناپڑتی ہے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم نے فاٹا اصلاحات کو بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ سابق فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کیلئے کوئی تاخیر نہیں کی جانی چاہیے اس سلسلے میں سبک رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔پشاور میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو کے پی کے حکومت کی کارکردگی اور 100روزہ منصوبے پرعملدرآمد کے حوالے سے بھی آگاہ کیاگیا جہاں حکومت فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کیلئے پرعزم ہے وہاں پر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حوالے سے بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دونوں حکومت کے بنیادی وعدوں میں شامل تھے اور اپنے سوروزہ پلان میں ان کی تکمیل بہت ضروری ہے۔
ایک اورپٹرول بم تیار
منی بجٹ کے بعد ایک مہنگائی کاطوفان برپا ہوا ہے، آنیوالاوقت توکچھ اس طرح کی نوید سنارہاہے کہ شاید قوم دووقت کی روٹی کھانے سے بھی محتاج ہوجائے گی۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے بہت زیادہ خبریں سرگرم ہیں جس میں تجویز دی گئی ہے کہ پٹرول 4.50 ،ہائی سپیڈ ڈیزل4 اور مٹی کاتیل ساڑھے تین روپے مہنگاکرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کو قیمتیں بڑھانے سے پہلے یہ اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ پہلے ہی منی بجٹ میں مہنگائی کاجن قابو سے باہر ہے اور اب اگر پٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافہ کردیاگیا تو پھرمہنگائی آسمان تک جاپہنچے گی کیونکہ ایک پٹرول مہنگا ہونے سے تمام چیزوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی ۔عوام کو سہولیات فراہم کرناحکومتی اقدامات کی اولین ترجیح ہوناچاہیے ۔یہ بات درست ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں اورپچاس لاکھ مکان بنانے کے حوالے سے بھی ترجیحی بنیادوں پرکام کیاجارہاہے مگر دوسری جانب اگر اسی طرح مختلف اشیائے خوردونوش ودیگراشیاء کی قیمتیں بڑھتی رہیں توآنیوالاوقت بہت مشکل ہوجائے گا اور سودن کے بعداپوزیشن سمیت سب کی توپوں کارخ حکومت کی جانب ہوگا۔یہ بھی عنان اقتدار میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کوسوچنا ہوگا کہ اوپرتلے ان اقدامات سے جوکہ عوام کے حق میں نہیں اس سے ضمنی انتخاب میں کتنا منفی اثرپڑے گا۔
اندرون سندھ میں بچوں کااغواء لمحہ فکریہ
کراچی اوراندرون سندھ میں معصوم بچوں کااغوا سندھ حکومت کے لئے ایک سوالیہ نشان بنتاجارہاہے ،سی سی ٹی وی سے فوٹیج بھی سامنے آرہی ہیں لیکن ملزمان کے گردگھیراتنگ کرنے کے سلسلے میں حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے، لوگوں میں خوف وہراس کاماحول ہے ان معصوم بچوں کے اغواء کاکون ذمہ دار ہے کیا حکومت صرف سیاست ہی کرتی رہے گی یاعوامی مسائل پربھی توجہ دے گی پولیس مقابلے کے دوران بھی ایک کم سن ننھی پری کوگولی لگی اورقیمتی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھی ۔بات یہا ں تک ہی نہیں ٹھہرتی خورا ک کی کمی کی بھینٹ بھی بچے چڑھ رہے ہیں بڑے بڑے محلات میں بیٹھے حکمرانوں کے سامنے انواع اقسام کے کھانے دسترخوان پرسجے ہوتے ہیں جو شاید کوئی غریب کھاناتودرکنارساری عمر انہیں دیکھ بھی نہیں سکتا مگران کو کیاخبر جو سونے کاچمچہ لیکر منہ میں پیدا ہوئے کہ غریب کابچہ کس طرح کسمپرسی کے معاشرے میں پلتا اوربڑھتا ہے جب تک عوام کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے اس وقت تک کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا اندرون سندھ کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے وڈیرے کااپنابچہ تو بیرون ملک جاکرتعلیم حاصل کرتا ہے عیش وعشرت سے زندگی بسر کرتا ہے لیکن غریب ہاری کابچہ بھوک وافلاس سے سسک سسک کرایڑیاں رگڑتے ہوئے جان دے بیھٹتاہے پھرجب ووٹ لینے کی باری آتی ہے تو غریب عوام کو سبزباغ دکھائے جاتے ہیں اس کے بعد اسی عوام کو حکمران روندتے ہوئے گزرجاتے ہیں، ان کے اکاؤنٹس اربوں کھربوں میں اور غریب کوڑی کوڑی کومحتاج ہوجاتا ہے اس جانب بھی احتساب کی ضرورت ہے ۔سپریم کورٹ نے اس حوالے سے جن تحفظات کااظہارکیاانہیں ترجیحی بنیادوں پرحل کرناہوگا۔