- الإعلانات -

معاشی نظام

معیشت کے موضوع کو مسلم معاشروں میں زیر بحث نہیں لایا جاتا اور نہ ہی اس پر گفتگو کی جاتی ہے کہ کیا اسلام کا کوئی معاشی نظام بھی ہے ۔ اسلام انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا کوئی تصور دیتا ہے؟ اس وقت دنیا میں 56اسلامی ممالک ہیں لیکن کہیں پر بھی اسلام کا معاشی نظام عملی طور پر رائج نہیں ہے ۔ پاکستان میں عقیدے کے اعتبار سے 98فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے لیکن نظام اور سسٹم کے حوالے سے سرمایہ داری کو اپنی ترقی کی بنیاد قرار دے رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سترسال گزرنے کے باوجود ہم بحیثیت قوم ذلت و پستی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ افلاس نے ہمارے معاشرے پر ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور پھر اوپر سے ایک اور ظلم یہ ہے اسلام اور مذہب کے نمائندے غربت و افلاس کو تقدیر کا لکھا ثابت کر کے ہمیں اس ظالمانہ سرمایہ داری نظام کی پیدا کردہ خرابیوں کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ بنیادی طور پر اگر غور کیا جائے کہ اسلام کا منشاء کیا ہے ؟ اسلام چاہتا کیا ہے ؟ دین اسلام چونکہ انسانی فطرت کا ترجمان ہے تو انسان کی زندگی کے دو رُخ ہیں جس سے جنم لینے والی انسان کی احتیاجات اور ضروریات ہیں ۔ دوسرا اس کا روحانی اور اخلاقی رخ ہے ۔ اب انسان کی اخلاقی زندگی کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس کی معاشی ضروریات کو پورا نہ کر لیا جائے ۔ اس حوالے سے معیشت انسانی زندگی اور انسانی معاشرہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے معاشی نظام ہم کیوں قائم کر تے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وسائل دولت اس دنیا میں پیدا کر دئیے ہیں ۔ اب معاشی نظام قائم کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو وسائل پیدا فرمائے ہیں اس سے استفادے کا ایک ایسا میکنزم بنایا جائے کہ جس سے انسانی احتیاجات کی تکمیل ہو اب انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ جس طرح حیوانوں کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے اس مادی دنیا کے اندر ہونے والے تجربات اور ترقیات کے نتیجے میں دور کے حالات کے مطابق انسانی ضروریات کا تعین فطرت انسانی کے مطابق سیٹ کیا جائے گا ۔ اب ہم زوال کے دورمیں ہیں تو ہمارے ہاں دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں ۔ ایک طبقہ وہ ہے جو معیشت کو انسانی زندگی کی ضرورت قرار نہیں دیتا ۔ وہ صرف آخرت کو اور اُخری زندگی کو انسانی زندگی کا منتہا اور مقصود مانتا ہے ۔ دنیا کے امور اس کی لغت سے خالی ہیں ۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو معیشت کو مانتا ہے لیکن معاشی نظام کو نہیں مانتا بلکہ معیشت کے حوالے چند ایک آیات اور تعلیمات کو اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ان کو مانتا ہے ۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا اگر باقاعدہ اسلام کا کوئی معاشی نظام نہیں تو حل یہ نکلا کہ رائج سرمایہ داری نظام کی اصطلاحات اور میکینزم کو اسلامائز کیا جائے ۔ ہمارے ملک میں ایک مذہبی طبقہ ایسا ہے جو سرمایہ داری کو مسلمان کرنے پر تلا ہوا ہے ۔اس نے سرمایہ داری کے اندر اسلام کی پیوند کاری شروع کی اور بڑے مربوط انداز میں اسلام بینکاری کے نام سے یہاں پر پورا ایک ہواکھڑا کیا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ اگر اسلام کا کوئی معاشی نظام ہے تو وہ یہ ہمارا بینکاری سسٹم ہے ۔ اس بینکاری کے اندر سود کے عنوانات کو دیگر شکلوں سے رائج کرنے کی کوشش کی گئی اور اسلام کے معاشی نظام کے ساتھ ایک بہت بڑا مذاق کیا گیا کہ اس کو عملی سرمایہ داری نظام کا طفیلہ ثابت کر کے انسانی حقوق پر ڈھاکہ ڈالنے کی عالمی حکمت عملی ترتیب دی گئی ۔ اب دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کے معاشی نظام اور سرمایہ داری میں فرق کیا ہے ۔ اس کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے سرمایہ داری نظام کے پورے دور کا تاریخی جائزہ لینا پڑیگا ۔ سرمایہ داری کا اصل اصول سرمایہ ہے ۔ ان کی تمام بلکہ سیاسی اور عمرانی سرگرمیاں بھی سرمایہ کے گرد ہونگی ۔ اب سر مایہ داری نظام قائم ہی اس لئے کیا گیا تاکہ سرمایہ کو اور پھر سرمایہ کے ذریعے سرمایایہ داری نظام کو تحفظ دیا جائے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سرمایہ داری نظام کیسے Developہوا ۔ سرمایہ داری نظام کی بنیاد پڑی یور پ میں ۔ یورپ میں تین بنیادی اور پرانی اقوام ہیں ۔ اٹالین ، جرمن ، فرنچ پھر برطانیہ آگیا ۔ اس کے اندر شامل ہو گیا پھر یہی سرمایہ داری نظام آگے چل کر جاپان اور امریکہ میں رائج ہوا ۔ جب ہم تاریخ کے تناظر میں سرمایہ داری کے یہاں تک کے سفر کو دیکھتے ہیں تو یورپ کے تمام مسائل پر اسی مفاد پرست طبقے کا تسلط رہا ہے ۔ اب ایک دور یورپ کے اندر شہنشاہیت کا ہے ۔جس کی بالادستی بھی موجود ہے ۔ پھر بنیادی عامل پیدائش دولت کا اس دور کے اندر ہے ۔اور اس پرایک جاگیردار طبقہ ہے قابض ہے ۔8 صدی عیسوی سے لیکر 15صدی عیسوی تک یورپ میں جو نظام رہا ہے وہ فیوڈل ازم کا تھا ۔ فیوڈل ازم میں فیوڈل لارڈ جس کو جاگیر کہا جاتا ہے اور اس جاگیردار طبقہ نے جو نظام متعارف کرایا وہ صرف اور صرف زمین سے پیدا ہونے والے تمام تر خزانوں کا مالک اس طبقہ کو ہی قرار دیتا ہے ۔ اس فیوڈل ازم کی عمر 700سال ہے یورپ کے اندر ۔15 صدی عیسوی میں یورپ کے اندر علوم پیدا ہوئے ۔ یورپ اپنے فیوڈل دور سے نکل کر تجارتی دور میں داخل ہوا ۔ اب وہ فیوڈل لارڈ تھے ۔ جب وہ تجارت کے عمل میں آئے تو انہوں نے تجارت کو اپنے قبضے میں لے لیا ۔ اب اس کے دور کے اندر ذر بنیادی عامل پیدائش قرار دیا ۔ اب جسے زرعی دور میں زمین پر ایک طبقہ قابض تھا ۔ اسی طرح تجارتی دو رمیں زر پر وہی طبقہ قابض ہو گیا ۔ چھوٹی چھوٹی جو دستکاریاں وجو د میں میں آگئی تھیں اسکو اس طبقے نے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ اس کو ہم تاریخی اصطلاح میں مرکنٹا ئلزم بھی کہتے ہیں ۔ اب جب تجارتی عمل نے فروغ پایا تو اس کیلئے سب سے پہلی چیز جس کی ضرورت محسوس کی گئی وہ ہے "منڈی” تو منڈیوں کی تلاش وہ تجارتی عمل کے اندر ہی شروع ہو چکی تھی ۔ دنیا میں نئے علاقے تلاش کئے جائیں ۔اون کا کاروبار اس وقت زوروں پر تھا ۔ جہاں تک کلیسا کا کردار تھا ۔ اس کو انہوں نے ختم کر دیا اور 16صدی میں ا سٹیوٹ نامی ایک خاندان تھا جسکی عمل داری انہوں نے ختم کر کے یہ جو زر دار طبقہ تھا تما م کے تمام تجارتی عمل اور وسائل دولت پر قابض ہو گیا ۔ استحصال کا عمل جو یورپ کی نشاط ثانیہ سے پہلے وہاں موجود تھا وہ پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی میں بھی جاری و ساری رہا ۔اور 150سال میں دستکاری کی صنعت ترقی کرکے مشین کی ایجاد پر منتج ہوئی اور نئے پیداواری رشتے قائم کرنے کی بات کی گئی اور پیدائش دولت کے عمل میں زر کے بجائے سرمائے کی اصلاح کو متعارف کرایا گیا ۔ اس میں مشین کو بھی سرمایہ کے تابع کر دیا گیا ۔ تو یوں اٹھارہویں صدی عیسوی کے اندر سرمایہ داری نظام کا آغاز ہوتا ہے ۔ اب سرمایہ داری نظام کا اصل سرمایہ ہے اب وہی طبقہ جو تجارتی دور میں زر پر اجارہ دا ر تھا وہی طبقہ مشین کی ایجاد کے بعد مشین کا مالک بن گیا ۔ اب اس سے ایک طرف تو پیداور ی عمل میں اضافہ ہو گیا اس کو Mantianکرنے کیلئے دو چیزوں کی ضرورت محسوس کی گئی ۔۱۔ وسائل جس کو ہم زمین کہتے ہیں معیشت کی اصطلاح میں ،۲۔ منڈی جہاں پر آپ کو کنزومر چاہیے ۔اس مشین نے جو مسائل پیدا کئے وہ یہ کہ ایک طرف جو دستکار تھا وہ بے روز گار ہو گیا اور اس بات پر مجبور ہوا کہ وہ اپنا پیٹ بھرنے کیلئے ان سرمایہ داروں کی لگائی گئی فیکٹریوں میں ملازمت اختیار کرے ۔ حقوق کی پاسداری کا تو کوئی نظام موجود نہیں تو انہوں ایک طرف سرمایہ پر تسلط حاصل کر لیا اور دوسری طرف مزدورں کی محنت کا استحصال شروع کر دیا ۔ اورساتھ ہی منڈیوں کی تلاش میں عالمی مہم جوئی پر نکل پڑے ایک طرف افریقہ میں گئے تو وہاں کے نظام کی کمزوریوں کو بھاپنتے ہوئے وہاں پر اپنی نو آبادیات قائم کی ۔ دوسری طرف ہندوستان میں آئے تو وہاں پر سسٹم کی کمزوریوں کو دیکھا اور آپنی نو آبادیات قائم کی اور یہاں کے وسائل کو لوٹنا شروع کر دیا ۔ کارل مارکس تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر یورپ ہندوستان کو فتح نہ کرتا اور یہاں کے وسائل اس کے ہاتھ میں نہ جاتے تو سرمایہ داری نظام اپنی کساد بازاری کی وجہ سے خود بخود ختم ہو جاتا ۔1930 میں جو کساد بازاری کا بحران آیا ۔وہ بہت پہلے آ چکا ہوتا ۔ اب یورپ نے اس سارے سفر میں یہاں تک پہنچنے میں جس سسٹم کو وجود میں لایا وہ ہے سرمایہ داری جہاں پر انہوں نے اپنا قومی نظام سرمایہ داری کی اساس پر قائم کیا ۔ہاں پر انہوں نے اپنی نوآبادیوں میں بھی سرمایہ داری نظام قائم کر دیا ۔اب سر مایہ داری نظام میں عاملین پیدائش چار ہیں زمین ، سرمایہ ، محنت ، تنظیم ۔ اب زمین کو Captial قرار دیا ۔ مشین کو سرمایہ قراردیا ۔ تنظیم کو سرمایہ قرار دیا محنت تو پہلے ہی ان کے گھر کی لونڈی ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ پیدائش کے عمل میں بنیادی عامل سرمایہ ہے تو تقسیم کے عمل میں بھی سرمایہ کو بنیادی عنصر قرار دیا ۔ اس کے نتیجے میں محنت کا استحصال ہوا اور اس ہی سرمایہ کی تقسیم کے تنازعے پر دنیا کو دو عالمی جنگیں بھی دیکھنی پڑیں ۔ آج دنیا میں سرمایہ داری نظام کا سرغنہ امریکہ ہے جو نیو کلاسیکل سرمایہ داری کو اپنے ہاں رائج کر چکا ہے جس میں اسٹیٹ کو سرمایہ داری کے تابع کر دیا ہے سرمایہ کا یہ جو سفر آج امریکہ کی بالادستی کی شکل میں موجود ہے اسکا اگر اسلام کے ساتھ مواز نہ کیا جائے تو فرق واضح ہو جائیگا ۔ب اس فرسودہ اور انسانیت دشمن نظام کو ہم اسلام کے قریب قرارد یں تو یہ کتنا بڑا جرم ہو گا ۔ اور زیادتی ہو گئی ۔آج ہمارامذہبی طبقہ اپنی بے شعوری یا مفادات کی وجہ سے بڑی بڑی مراعات لیکر کتابیں لکھتا ہے اور سرمایہ داری کو عین اسلام ثابت کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے ۔اب اگر یورپ کے دور عروج تک اور اسلام کے دور عروج کا موازنہ کریں تو اسلام نے جو نظام قائم کیا تھا اس میں زمین کو State کی ملکیت قرار دیکر لوگوں میں تقسیم کیا اس سے انتفاع کا تمام لوگوں کو یکساں حق دیا گیا ۔