- الإعلانات -

بھارت ہوش کے ناخن لینا کیوں بھول رہا ہے

سبھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکیاں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہیں، اگلے روز ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے بپن راوت نے کہا کہ جنگ ڈھونڈورا پیٹ کر نہیں حکومت کی اجازت ملتے ہی شروع کریں گے۔جبکہ قبل ازیں بھی موصوف نے پاکستان کوبراہ راست دھمکیاں دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ نہیں چل سکتے، پاکستان سے بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ہم پاکستان کوسرپرائز دیں گے، انھیں بھی وہی تکلیف محسوس ہونی چاہیے، جو ہم نے برداشت کی۔ان کا کہنا تھا کہ حالات تیزی سے اسی جانب جا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دشمن ملک کو سبق سکھانے کیلئے ایل او سی کے پار آزاد کشمیر میں مجاہدین کے لانچنگ پیڈزپر ایک اور سرجیکل حملہ ضروری ہوگیا ہے۔پاکستان کی حمایت یافتہ مبینہ دہشت گردی بھارت کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دہشت گردی اور در اندازی سے نمٹنے کیلئے صرف سرجیکل اسٹرائیک نہیں، بلکہ بھارت کے پاس کئی اور آپشن بھی ہیں۔ دوسری طرف بھارت کی خاتون وزیر دفاع نرملا ستھارمن نے ایک چینل کو انٹریو دیتے ہوئے سرجیکل سٹرائیک کی طرح افسانوی دعویٰ کر ڈالا ہے کہ وہ پاکستانی فوجیوں کے سر کاٹ رہے ہیں مگر دکھا نہیں رہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے بے تکے دعووں کو پہلے قبولیت ملی نہ آئندہ ملے گی۔تاہم یہ اشتعال انگیزی ہے جو کشیدگی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان نے ایسا کیا کیا ہے کہ بپن جی بپھرے ہوئے ہیں۔دیکھا جائے تو پاکستان سے شاید یہ غلطی ہوئی ہے کہ اس نے بھارت کی طرف امن کا ہاتھ بڑھایا، جسے اس نے دور اندیشی سے کام نہ لیتے ہوئے جھٹک دیا۔اس بلنڈر پر مودی انتظامیہ کو داخلی سطح پر خاصی سبکی اٹھانا پڑ رہی ہے،اوپر سے رفال طیاروں کے سیکنڈل نے بھی مودی حکومت کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔تجزیہ نگاروں اور سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سب کچھ مودی انتظامیہ اپنی اندرونی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کر رہی ہے جیسا کہ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما ششی تھرور کا کہنا ہے کہ حکومت بھارتی فوج کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ششی تھرور نے مودی حکومت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کادن منانے کے اعلان پر کہا کہ مودی حکومت نے سیاست کا ٹھیکہ فوج کو دیدیا ہے اور اب تک مودی حکومت نے اپنی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا ہے۔

اس ساری صورتحال پر پاک آرمی نے بڑے تحمل سے جواب بھی دیا ہے اور بھارت کو تنبیہ بھی کی ہے کہ کسی قسم کی مہم جوئی خطرناک ہو سکتی ہے۔ ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی نے ہمارے صبر کا امتحان لیا تو پاک فوج قوم کو مایوس نہیں کرے گی،کسی بھی قسم کی کارروائی ہوئی تو پاکستان اس کا بھرپورجواب دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت نے اب بھی مذاکرات کی دعوت دی ہے جبکہ بھارت ہمیشہ مذاکرات سے بھاگا ہے، بھارتی فوج سرجیکل اسٹرائیک کا جواب اپنی پارلیمنٹ میں اب تک نہیں دے سکے، بھارتی فوج توجہ ہٹانے کیلئے جنگ کی طرف رخ موڑ رہی ہے۔بھارتی آرمی چیف امن وامان کی صورتحال خراب نہ کریں، ہم جنگ کی تیاری پوری رکھ کر امن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی یو این جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا اور بھارت کو بتایا کہ اگر اس نے ایل او سی پار کرنے کی کوشش کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ششی تھرور نے بجا طور پر درست کہا کہ مودی حکومت آرمی کو سیاست کے لیے استعمال کر رہی ہے ،اس تاثر کو تقویت بپن کے تازہ انٹریو سے ملتی ہے۔جیسا کہ جنرل راوت نے کہا کہ خطے میں استحکام اور امن صرف اسی وقت آئے گا، جب ہمسایہ ممالک کی سول حکومتیں اور افواج اپنا کردار ایمانداری سے ادا کریں گی۔پاکستانی حکومت فوج کے زیر اثر رہی تو خطے میں امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ پاکستانی ہم منصب جنرل قمر جاوید باجوہ سے کبھی بھی نہیں ملے ہیں۔جنرل باجوہ پراکسی جنگ کے خاتمے،اوربھارت کیلئے ہر قسم کی پریشانیوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنرل بپن نے پاکستان کیساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج غیر سیاسی ہے ۔ رافیل طیارہ اسکینڈل کے معاملے پر بھارتی جنرل نے کہا کہ اس طرح کے سودوں میں معاملات حکومتی سطح پر نمٹانا ضروری ہیں، تاکہ مڈل مین کی ضرورت ہی نہ رہے ۔یہ سارا انٹریو مکمل طور پر اس بات کی چغلی کھا رہا ہے کہ اسے مودی حکومت نے سکرپٹ دیا تاکہ پاکستان دباؤ میں آجائے اور اس کی اپنی قوم اسی گھن چکر میں الجھی رہے۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت کے انٹرویو پر رد عمل میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ترکی کی اناطولیہ نیوز ایجنسی سے کہا کہ پاکستان امن بات چیت اور بھارت کے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ پاکستان20 برس سے خطے میں امن و استحکام کیلئے مثبت کوششیں جاری رکھے ہوئے۔ ہم امن کی قدر جانتے ہیں اور بدامنی کو واپسی کی اجازت نہیں دیں گے ۔پاکستان بقائے باہمی اور امن پر یقین رکھتا ہے ۔ پاکستان نے امن کی پہل کاری کا ہمیشہ مثبت جواب دیا، لیکن یہ بھارت ہی ہے جو بات چیت سے ہٹ جاتا ہے ۔بھارتی حکومت اپنے معاشی ایجنڈے کی ناکامی اور کرپشن کے متعدد اسکینڈلز کی وجہ سے ملک کے اندر خود پر ہونے والی تنقید کا رخ موڑ کر جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہے۔ مختصر یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا ان میں ایک خدشہ یہ بھی تھا کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھے گی جو کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔اس خدشے کے پیچھے ریجن میں بی جے پی جیسی متشدد سوچ کی حامل حکومت کا پہلے سے موجود ہونا تھا۔اس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ بی جے پی کی قیادت بھی مودی کے ہاتھ ہے جسکے ہاتھ ہزاروں بے گناہ انسانوں سے رنگے ہوئے ہیں اور اس پرامریکہ میں داخلے پر پانندی بھی اسی وجہ سے تھی۔ دوسرے لفظوں یوں کہا جائے تو غلط نہ ھو گا کہ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔آج اگر مودی انتظامیہ آگ اُگل رہی اور جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہے تو اسکے پیچھے ٹرمپ انتظامیہ کی کھلم کھلا ہلا شیری ہے۔شاید امریکہ سمجھتا ہے کہ جنگ چھڑی تو صرف پاکستان تک محدود رہے گی مگر ریجن پر گہری نظر رکھنے والے ایسا نہیں سمجھتے،مودی حکومت کو بھی