- الإعلانات -

بھارتی عدالتوں کے فیصلے صرف ہندوؤں کے حق میں

بھارتی سپریم کورٹ نے جمعرات کو بابری مسجد کیس میں عدالت عظمی کے ماضی میں ایک کیس میں ‘نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد لازمی نہیں’ کے فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے لارجر بینچ بنانے کی درخواست مسترد کر دی۔عدالت نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں زیرالتواء بابری مسجد کی زمین کے تنازعے میں کچھ مسلم فریقوں کی جانب سے 1994 کےسپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل سننے کے لیے لارجر بنچ بنانے کی درخواست پر دیا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کر کے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ بینچ میں چیف جسٹس دیپک مشرا کے علاوہ جسٹس اشوک اور جسٹس عبدالنذیر شامل تھے، فیصلہ 20 جولائی کو محفوظ کیا گیا تھا۔1994 کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے رولنگ دی تھی کہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد ضروری نہیں، نماز کہیں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ مسلم فریقین کا خیال تھا کہ مذکورہ رولنگ بابری مسجد کیس میں ان کے موقف پر اثرانداز ہو سکتی ہے اس لیے لارجر بنچ بنا کر اس پر نظر ثانی کی جائے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مذکورہ فیصلہ محدود تناظر میں زمین حاصل کرنے کے ایک کیس میں دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اشوک کی جانب سے دیے گئے اکثریتی فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ تمام مساجد، گرجے اور مندر کمیونٹی کے لیے اہم ہیں۔ تیسرے جج جسٹس عبد النذیر نے فیصلہ سے اختلاف کیا۔عدالت نے اعلان کیا کہ بابری مسجد کیس کی سماعت 29 اکتوبر سے شروع کی جاِئے گی۔ ایودھیا میں قائم قدیم بابری مسجد کو موجودہ حکمران جماعت بی جے پی اور اتحادیوں نے 1992 میں شہید کر دیا تھا۔ بابری مسجد کو سولہویں صدی عیسوی میں اس وقت کے حکمراں نے تعمیر کرایا تھا۔ مسجد کی شہادت کے افسوسناک واقعہ سے قبل اور بعد میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔بابری مسجد شہید کرنے والے لاکھوں انتہا پسند ہندوؤں کا موقف تھا کہ مسجد کو شہید کیا جانا لازم ہے تاکہ یہاں ہندو دیوتا رام کا مندر بنایا جا سکے۔ انتہا پسندوں کے مطابق رام نامی دیوتا یہیں پیدا ہوا تھا۔سپریم کورٹ پہنچنے والے مسلمانوں کا موقف ہے کہ ایک دہائی قبل دیا گیا فیصلہ منصفانہ نہیں ہے۔ اس فیصلہ ہی کی وجہ سے الہ آباد ہائی کورٹ نے 2010 میں بابری مسجد کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے مرکزی حصہ ہندوؤں کے حوالے کر دیا تھا۔الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ مختلف پارٹیوں کی جانب سے چیلنج کیا گیا تھا۔نماز کے لیے مسجد ضروری ہے یا نہیں کا فیصلہ ایودھیا کی متنازعہ زمین کی ملکیت کے متعلق مقدمہ کو روکنے کی وجہ بن سکتا ہے۔ جب تک نماز کے لیے مسجد کی اہمیت کا تعین نہیں ہو جاتا زمین کی تقسیم کا مقدمہ معطل رہے گا۔ بھارت کی انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی نے اپنے ووٹرز سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر ضرور تعمیر کیا جائے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 2019 الیکشن کے لیے موجودہ وزیراعظم نریندرا مودی اور بی جے پی کی انتخابی مہم کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ جبکہ ہندو انتہا پسند جماعت نے بہانہ تراشتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ بابری مسجد دراصل بھگوان رام کی جائے پیدائش پر قائم ہے۔ مغل بادشاہ بابر نے مندر کو گرا کر اپنے نام سے بابری مسجد تعمیر کی تھی۔ یہ ہندوؤں کے مذہبی مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم انتہا پسند جماعت کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی تھی۔ اس سے واضح پتہ چلتا ہے کہ عدالتی فیصلہ ہندوؤں کے حق میں تھا۔ بھارتی ہائیکورٹ سے اسی قسم سے فیصلہ امید کی جا رہی تھی۔ پانچ سو سالوں تک غیر متنازعہ رہنے والی بابری مسجد کے تین دعویدار تسلیم کر لئے گئے۔ یوں مسجد کے ساتھ مند ربننے سے اور اذان کے وقت مندر میں گھنٹیاں بجنے سے امن وامان کا مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ بھارتی سرکار اور بھارتی عدالتیں متعصب ہندوؤں کے ہاتھوں یرغمال ہو چکی ہیں ۔ ممبئی کیس ہو ، گودھرا کیس ہو یا کشمیر کی کوئی عدالت، ہر کیس کا مجرم صرف مسلمان ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے ہر کیس کا فیصلہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہی کیوں آتا ہے؟ کیا ہندو جرم نہیں کرتے؟کیا اس فیصلہ سے بھارت میں بسنے والے 25 کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری نہیں ہوئی۔ کیا یہ فیصلہ سیکولر بھارت کے منہ پر طمانچہ نہیں؟ متعصب ججوں کے فیصلے نے آج بھی دو قومی نظریے کی اہمیت واضح کر دی ہے۔ ہندوستان میں متعصب ہندوؤں نے صرف بابری مسجد ہی شہید نہیں کی بلکہ انہوں نے بعد میں پھوٹنے والے مسلم کش فسادات میں ہزاروں مسلمان شہید کئے۔ چنانچہ مسلمانوں پر یہ حقیقت اشکارا ہو گئی کہ ان کا مستقبل اب بھارت میں غیر محفوظ ہو گیا ہے اور بھارت کی ہر حکومت چاہے وہ کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی، اسکا سیکولر ازم کا نعرہ صرف ڈھونگ ہے اور انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ایک بہانہ ہے۔ بھارتی مسلمانوں نے اپنی پہچان، علیحدہ تشخص اور اپنی ثقافت کی بقاء کیلئے بریلی کی خصوصی عدالت سے انصاف طلب کیا اور عدالتی فیصلے سے یہ بات سامنے آئی کہ بابری مسجد کی شہادت میں ہندو انتہا پسند ملوث تھے اور ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت بابری مسجد شہید کی گئی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اس بات کا تعین ہو سکے گا کہ ایودھیا میں مندر بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ فیصلہ بھارتی چیف جسٹس دیپک مشرا کی ریٹائرمنٹ سے قبل کا آخری فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

*****