- الإعلانات -

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیرخارجہ کا شاندار خطاب

adaria

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں سالانہ اجلاس سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی الزام تراشیوں اور اس کی امن دشمن پالیسی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا خطے میں امن کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جبکہ منفی رویے کی وجہ سے مودی حکومت نے تیسری مرتبہ امن کے حصول کے لیے موقع گنوادیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ پاکستان اس پر عمل کا مطالبہ کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کو خوش آمدید کرے گا۔قبل ازیں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں وہی گھسا پٹا راگ الاپا اور وزرائے خارجہ کی ملاقات کی منسوخی کا ذمہ دار الٹا پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے کہ یہ ہماری وجہ سے ہوا ہے۔سشما سوراج نے ایک بار پھر نجانے کس منہ سے یہ دعویٰ کر ڈالا کہ مختلف بھارتی حکومتوں نے امن کے لیے قدم اٹھائے لیکن ہر بار پاکستان کے رویے کی وجہ سے یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا، حالانکہ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی بھارت ایک دن’’ ہاں‘‘ اور دوسرے دن’’ ناں‘‘ کر کے رسوا ہوا ہے۔اپنی تقریر میں سشما سوراج نے ایک دفعہ بھی کشمیر کا ذکر نہیں کیا جو کہ اس ریجن کا کور ایشو ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسی لیے اپنی تقریر کا فوکس مسئلہ کشمیر رکھا اور کہا کہ بھارت نے اقوام عالم کے سامنے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا ہے جس کے سبب سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام انسانی حقوق کی پامالی سہتے آرہے ہیں۔انہوں نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی مسلسل خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے دنیا اور بھارت کو آگاہ بھی کیا کہ اگر اس نے اسے عبور کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے پلیٹ فارم یہ بھارت کو مسکت جواب دیا گیاہے۔شاہ محمود قریشی کا پورا خطاب قوم کی آواز ثابت ہوا کہ پہلی بار ایک بین الاقومی پلیٹ فارم پر سانحہ اے پی سی میں دہشت گردی اور کلبھوش یادیو کو کھل کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں ہونے والے بڑے دہشت گردی کے واقعات جیسے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ اور مستونگ میں بم دھماکے کے تانے بنانے بھارت سے ملتے ہیں۔اسکا جیتا جاگتا ثبوت پاکستان کے زیر حراست انڈین نیوی کا اہلکار کلبھوشن یادیو بھی ہے جس نے ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جس سے واضح ہو گیا ہے کہ انڈیا کا پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے مکمل ہاتھ ہے۔ساتھ ساتھ شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ بھارت بین الاقوامی برداری کے سامنے کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردی کھلے عام کر رہا ہے اور یہ بات تمام عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کہ وہ کس طرح انسانی حقوق سلب کر رہا ہے۔دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے مسئلہ افغانستان پر بھی سیر حاصل گفتگو کی اور کہا افغانستان اور پاکستان کافی عرصے سے بیرونی قوتوں کی غلط فہمیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔انھوں نے ایک بار پھر اس عزم کو دوہرایا کہ اسلام آباد امن عمل کے لیے کابل میں ہونے والی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے غیرملکی پناہ گزینوں کو پناہ دیتا آ رہا ہے جبکہ دوسری جانب دیگر ممالک پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا خواہاں ہے۔اس سلسلے میں دنیا کو پاکستان کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان ہمیشہ یواین کا ممد و معاون رہا ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کے سب امن مشن دستے حصہ لیتا ہے۔آزادی سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کے منشور کا پاسدار اور فعال رکن ہے ۔عالمی حالات کے بدلتے تناظر میں شاہ محمود قریشی نے نہایت جامع اور فکر انگیز تقریر کی،خصوصاً بھارت کے جارحانہ رویے اور اسکے جنوبی ایشیاء پر پڑنے والے منفی اثرات سے عالمی برادری کو بروقت آگاہ کیا ہے۔

چین کا امریکہ کو صائب مشورہ
چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر کونسل آن فارن ریلیشنز سے خطاب کے دوران امریکہ صائب مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ امریکی سمجھتے ہیں کہ چین عالمی تسلط قائم کرنے جا رہا ہے، وہ امریکہ کی جگہ لے گا یا اسے چیلنج کرے گا، یہ سنگین غلطی ہے جو امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچائے گی۔چینی وزیر خارجہ نے مغرب کی سطحی اور فاسد سوچ سے پردہ اٹھاتے ہوئے درست کہا کہ پچھلے چندسو برسوں کے دوران مغرب میں ہوتا یہ رہا ہے کہ جو ملک مضبوط ہو جاتا ہے، وہ دوسرے ملکوں پر تسلط جمانے کی کوشش کرتا ہے، اب امریکی دوست بھی یہ سمجھتے ہیں کہ چین بھی ایسا ہی کرے گا، وہ امریکی طاقت کو ہٹا دے گا یا اسے چیلنج ضرور کرے گا۔انہوں نے اس سوچ اور نظریے کو قطعی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ ایک سنگین اسٹریٹیجک غلطی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ گمراہ کن قیاس آرائی امریکی مفادات اور خود امریکہ کے اپنے مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگی۔چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ افسوس ہے کہ یہ خودساختہ اندیشہ پھیلایا جا رہا ہے اور اسے تقویت بھی دی گئی ہے، اس سے نئے شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں اور اہم مسائل کے حل میں مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔یہ بات سو فیصد درست ہے کہ عالم مغرب برس ہا برس سے اسی غاصبانہ پالیسی پر کار بند رہا ہے کہ جس ملک نے معاشی طور طاقت حاصل کی اس نے خطے کے پڑوسی ممالک میں مداخلت کی اور اسے عدم استحکام سے دوچار کردیا۔اس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔بلاشبہ چین معاشی استحکام حاصل کرچکا ہے مگر اس کی پالیسی نہ جارحانہ نہ غاصبانہ، جو یورپ اور مغرب کا طرہ امتیاز ہے۔چین چاہتا ہے کہ اس کے اقتصادی استحکام کے فوائد خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچیں ،یہی وجہ ہے کہ وہ ون بیلٹ ون روڈ کے ذریعے ریجن کو ایک لڑی میں پَرو رہا ہے۔یہ بات بھی درست ہے اس گیم چینجر منصوبے کے دور رس نتائج سے امریکہ اور اس کے حواری ملک خصوصاً بھارت کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں اور وہ منفی پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں،چین نے بے بنیاد خدشات کی نفی کر کے امریکہ کو صائب مشورہ دیا ہے کہ گمراہ کن قیاس آرائیاں خود امریکہ کے مفاد میں نہیں ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا احسن فیصلہ
حکومت نے اکتوبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھا کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے جبکہ اوگرا نے تو پٹرولیم ڈویژن کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں4روپے فی لیٹر اضافے کی سمری بھیجی تھی ۔گزشتہ روز وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ اسد عمر سے ملاقات کی اور انہیں ہدایت کی کہ پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں برقراررکھی جائیں تاکہ عوام پر بے جا بوجھ نہ پڑے،تیل مصنوعات میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے اسکا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑتا۔پی ٹی آئی حکومت سے یہی توقع ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو عوامی مفاد کے مطابق ڈھالے گی۔