- الإعلانات -

محترم جناب چور صاحب

بہت پہلے کی بات ہے کسی علاقے میں دو ،دوستوں کی دوستی کے بڑے چرچے تھے،ایک کا تعلق غریب گھرانے سے جبکہ دوسرے کا متوسط طبقہ سے تھا۔ونوں کام کچھ نہ کرتے ،سارا دن مستقبل کے سہانے سپنے بننے میں بتا دیتے ۔دونوں نے ایکدوسرے سے وعدہ کیا ،ایکدوسرے کا راز کبھی فاش نہیں کرنا اور لوگوں میں ایکدوسرے کو وہ نہیں کہنا جو وہ کرتے ہیں ،پیسہ بنا نے اور معاشرے مقام پا نے کی دھن ان پر ایسے سوار ہوئی کہ دونوں نے رات کو ناکے لگا کر عوام کو لوٹنا شروع کر دیا ،چوری کا مال ہاتھ لگا تو وہ ہتھیا لیا ،جب ان کے پاس کچھ دولت اکٹھی ہو گئی،تو ظاہری سی بات ہے بمطابق مال و دولت ان کے ٹھاٹھ باٹھ اور چال چلن میں تھوڑا فرق آنا شروع ہوا ۔پیسے اور مال و دولت کی ریل پیل خوشامدیوں کی بڑی تعداد ان کو ان کے ڈیرے پر کھینچ لاتی ،وہ لوگوں کے درمیان ان کے مسائل کے فیصلے کر نے لگے،گویا سارے کرتوت اور دولت کے حصول کے تمام ذرائع ایک طرف وہ خود سے حاجی سلتھی بن بیٹھے،اب انھوں نے تھوڑا اپنے کام کی وضع قطع کو درست کیا اور قبضہ مافیا کی شکل اختیار کرلی،تھانہ میں ان کی سنی جا نے لگی،دولت کی ریل پیل،اثر و رسوخ ،گویا سیاست میں آنے کے تمام تقاضے پورے ہوچلے تھے، سیاسی اختلاف نے ان کے درمیان اختلافات پیداکئے اور الزاات کا سلسلہ شروع ہوا ۔ایک کہتا تھامجھے پتا ہے تم ماضی میں کیا تھے،دوسرا کہتا ،تو بھی وہی تھا ،جو میں تھا،گویا راز افشاء نہ کر نے کا بندھن ان کے آڑے آتا رہا،گویا الزامات ،تووہ ہے ،تو بھی تو وہی ہے،تک محدود رہے۔اہل علاقہ ان کی تو تو ،وہ وہ، سے تنگ آگئے،کچھ بزرگوں کے مشورے سے طے پایا کہ انھیں ایک جلسہ میں بلا کر ان کی تو وہ ہے ،میں وہ نہیں کے راز سے پردہ اٹھا یا جائے۔باتیں شرو ع ہوئیں تھوڑی تلخی بڑھی ،تو ایک نے کہہ دیا ،تیری اوقات صرف اتنی ہے کہ تو نے گامو کے گھر سے ،وہ، کر لی تھی،اور تیرے ہاتھ محض چند انڈوں کے کچھ بھی نہ آیا تھا،محفل میں بیٹھے،چا چے گامو کے کان کھڑے ہوگئے کہ اتنی مرغیوں کے ہوتے انڈے ہمیشہ کم ہی نکلتے ،وہ تھوڑا اس کے قریب ہو گیا،دوسرا بولا تو کتنا ظالم وہ ہے کہ،پڑوسیوں کے گھر سے تونے ان کی بیٹیوں کے زیورات، وہ، کر لئے تھے،دو چار لوگ اسی کے پڑوسی بھی تھوڑا سٹیج کے قریب ہو گئے،میرا منہ مت کھلوا ،تو بھی ساتھ تھا جب ہم نے سر راہ چلتے مسافروں کو، وہ ،کر لیا تھا،جلسہ میں موجود لوگوں کے سامنے گزشتہ واقعات کی پوری فلم ریوائنڈ ہو نے لگی ،سب نے تقریبا آستینیں اوپر چڑھا لی تھیں کہ اتنے میں گاؤں کہ بزرگ نے زور سے کہا پکڑو، چوروں ،ڈاکوؤں کو،جب سب ان کی طرف لپکے تو دونوں سمجھ گئے کہ گاؤں والوں کے ارادے صحیح نہیں لگتے،دونوں دوستوں نے ایکدوسرے کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا ،گویا کہ رہے ہوں ،یہ وقت آپسی لڑائی کا نہیں ورنہ ،ان کا کچھ نہیں بچے گا،دونوں نے لہجے میں تھوڑی سختی لاکر سب کو کہا رک جاؤ،کوئی اپنی جگہ سے آگے نہ بڑھے،جب آج تک اتنے اختلافات کے باوجود ہم نے ایکدوسرے کو چور ڈاکو نہیں کہا ، ایک دوسرے کی تعظیم و تقدس کا خیال رکھا تم کون ہوتے ہو،بھری محفل میں ہمیں گالی دینے والے،تم سب جانتے ہو،ہمارا معاشرے میں ایک مقام ہے، عزت ہے،چور یا ڈاکو کے الفاظ ہمیں گالی لگتے ہیں ، خبر دار جو کسی نے آئندہ ہمیں چور یا ڈاکو کہ کر ہماری توہین کی،گاؤں کے چوہدری نے جب انکی باتیں سنیں تو بولا،اچھا لوگوں کا مال چرانے والے،سر عام لوگوں کو لوٹنے والے،لوگوں کو ان کی ساری جمع پونجی سے محروم کر کے،غریبوں کے لوٹے ہوئے مال پر اپنے ٹھاٹھ باٹھ کی عمارت کھڑی کر نے والے معزز کہا سے ہوگئے،لیکن اس سب کے باوجود دونوں اس بات پر بضد تھے کہ انھیں چور ڈاکو کہ کر ان کی توہین کی گئی ہے،گاؤں کے چودھری نے ان سے کہا چلو ٹھیک ہے ہم سب تم سے معافی مانگ لیں گے،اگر تم چور اور ڈاکو کا کوئی متبادل لفظ ہمیں بتادو،تمہیں اسی لفظ کے مطابق احترام دیا جائے گا۔دونوں نے گاؤں سے کچھ وقت مانگا ،اور سوچ کے گھوڑے دوڑانے لگے،مگر انھیں کامیابی نہ مل سکی۔پھر انھیں ایک تجویز سوجھی کہ چلو علاقے کے کسی سیانے دانا کے پاس جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں ،ہمیں چور یا ڈاکو کا کوئی متبادل قابل احترام لفظ بتا دیں تاکہ عوام میں ان کے بارے ان الفاظ کی بدولت ان کی سبکی نہ ہو،وہ جس کے سامنے بھی اس عجیب و غریب مسئلے کے حل کیلئے جاتے ،پہلے تو ان کو سرسے لیکر پیروں تک بغور سے دیکھتا پھر کہتا،چور کو چور نہ کہا جائے یا ڈاکو کو ڈاکو نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے،کسی ڈکشنری میں بھی ان الفاظ کے متبادل کوئی لفظ نہیں جو ان الفاظ سے متعلق پائی جانے والی نفرت،غصہ یا سزا کو ختم کر سکے ،ایک نے تو انھیں یہاں تک کہ دیا میرے خیال میں تو اگر چور اور ڈاکو سے متعلق کوئی اس سے بھی زیادہ کراہت،نفرت انگیز لفظ ہوتا تو وہ زیادہ موزوں تھا۔دونوں دوست مایوس ہو کر گاؤں لوٹ آئے، گاؤں کے چوہدری نے لوگوں کو جمع کیا ،اور انسے پوچھا اب بتاؤ ،کوئی لفظ چور یا ڈاکو کے متبادل تمہیں لفظ ملا،ان کا جواب نفی میں تھا،چور،چور ہی کہلائے گا ،بشک وہ اپنے کالے دھن دولت کی وجہ سے کتنا ہی با اثر یا دنیا کی نظر میں معزز ہو جائے ۔اتنے میں چا چا گامو کھڑا ہوا اور اسنے کہا چوہدری صاحب اجازت ہو تو میرے پاس ایک لفظ ہے،جو بولا جائے تو مطلب بھی واضح ہو جائے اور ان بیچاروں کی کچھ عزت بھی رہ جاے ،سب لوگ بڑی اشتیاق بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگے،چوہدری صاحب بولے بتاؤ،کیا لفظ ہے ان کے متبادل تمہارے پاس تو اس نے بڑی معصومیت سے کہا ،محترم جناب چور صاحب ،یہ کہنا تھا کہ سب چا چے گامو کی اس معصومانہ تشریح پر ہنسے بغیر نہ رہ سکے۔