- الإعلانات -

بلا امتیازکڑا احتساب ناگزیر

adaria

وزیرِاعظم عمران خان کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا،اجلاس میں قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق امور اور قوانین کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں لوٹی ہوئی دولت کی واپسی اور کرپٹ مافیا کے خلاف کارروائی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر وزیرِاعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ احتساب کے ادارے کو مزید موثر اور فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ نیب اپنے کام میں مکمل آزاد ہے، سب کا بلا امتیاز اور کڑا احتساب ناگزیر ہے، احتساب کے معاملےپر کوئی دباؤ قبول نہیں ہو گا۔پہلے دن ہی سے حکومت کو سب سے بڑامسئلہ کرپشن کادرپیش تھا اور وہ اب بھی موجودہے اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ کڑے احتساب کے سلسلے میں کوئی دباؤ قبول نہیں کرینگے اور یہ انتہائی ناگزیر ہے یہ بات بالکل حقیقت کے قریب تر ہے کہ جب بلا امتیاز احتساب ہوگا ،تب ہی کرپشن ختم ہوسکے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرپشن اور کرپٹ افراد کیخلاف احتساب کہاں سے شروع کیاجائے اور اس سلسلے میں آغاز اوپر سے ہوناچاہیے ۔عمران خان یہ بات بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی عنان اقتدار میں بیٹھا ہوا شخص بھی کرپشن میں ملوث ہوا تو اسے بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ بات تو بیانات کی حد تک سوفیصد درست ہے ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں اب چونکہ حکومت کے 100 دن ختم ہونے کے قریب تر آتے جارہے ہیں اس لئے امیدواثق ہے کہ عملی طورپربھی یہ چیزیں نظر آنا شروع ہوجائیں گی کیونکہ جب وزیراعظم نے حلف اٹھانے سے قبل سے قوم سے خطاب کیاتھا تو انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہاتھا کہ وہ مدینہ منورہ جیسی ریاست قائم کرنے کے خواہش مند ہیں اور جہاں تک کرپشن کے خاتمے کامعاملہ ہے اس سلسلے میں وہ چین کے اقدامات سے خاصے متاثر نظرآتے ہیں ۔اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ عمل کہاں تک نظر آتا ہے، مدینہ منورہ ایک فلاحی ریاست تھی اور چین میں بھی کرپٹ افراد کو جو سزائیں دی جاتی ہیں اسکے بارے میں پوری دنیا جانتی ہے ان سزاؤں پر عملدرآمد کرنے کے لئے مضبوط فیصلے کرنے ہونگے ،جب احتساب گھر سے شروع ہوگا تو پھرکوئی اس پرانگشت نمائی نہیں کرسکے گا۔گوکہ اس جانب قدم اٹھانا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں، 70سال سے بگڑے ہوئے حالات کو درست کرنے میں وقت تو ضرور لگے گا مگر جب بھی کوئی ایسا سخت فیصلہ کرکے اس پرعملدرآمد کرلیاگیاتو پھر یقینی طورپر دیگرکرپٹ افراد کواس سے سبق حاصل ہوجائے گا اس لئے بہت ضروری ہے کہ ادارے آزاد ہوں ، اُن کے کام میں کوئی مداخلت نہ کرے اور وقت کاقاضی جس کوچاہے وہ انصاف کے کٹہرے میں طلب کرسکتاہے تب جاکر ہمارا معاشرہ کسی مثبت جانب گامزن ہوگا ۔گزشتہ روز وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہوں نے یہ بات بالکل واضح کردی کہ احتساب کڑا اور بلاامتیاز ہوگا ،احتساب تو ہوتاہی کڑا ہے، اصل بات بلاامتیاز کی ہے حکومت اس جانب بالکل واضح اوردوٹوک انداز میں قدم اٹھائے کہ جس نے بھی کرپشن کی ہے اس کو قرار واقعی سزا ہرصورت میں ملے گی، سزا کاتعین کیاہوناچاہیے یہ بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اس کے بعد اہم پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ سزا کے احکامات تو ہو ہی جائیں گے جس نے جس سطح کی کرپشن کی ہوگی اسے قانون کے مطابق سزا دی بھی جائے گی ۔اصل بات ہے عملدرآمد کی، جب قائم کرنی ہو مدینہ منورہ جیسی ریاست تو آج فیصلہ ہو اور آمدہ جمعۃ المبارک ہو اسے سرعام سزا دے دینی چاہیے۔ ماضی میں کچھ ایسے تجربات سامنے آئے ہیں جب کسی نے قتل کیاتو اسے سرعام پھانسی دی گئی ، کوڑے بھی مارے گئے، دیکھنے میں یہ سزائیں بہت سخت لگتی ہیں مگر اسلام ان کی اجازت دیتا ہے ہماری مملکت خداداد ایک نظریاتی مملکت ہے اور اسکی اساس اسلام ہے اور اسلام میں جو احکامات ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کریمﷺ کے احکامات ہیں ،ان پرعمل کرنے سے نہ صرف امن وامان قائم ہوگا بلکہ کرپشن کاہمیشہ کے لئے قلع قمع ہوجائے گا۔جہاں تک ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کامعاملہ ہے ،حکومت کو چاہیے کہ جن کو وہ قومی خزانے کالٹیرا سمجھتی ہے ان پرجرم ثابت کرے اور پھر اس کے بعد ایک خاص وقت کے اندر سزا پرعملدرآمد کاآغاز کردیاجاناچاہیے۔ جب کسی ایک بڑے لٹیرے کو عبرتناک سزا ملے گی تو دیگر خودبخود راہ راست پرآنا شروع ہوجائیں گے لیکن اگر ایسا ہوا کہ سزا کے احکامات کے بعدمعاملات طویل ترین ہونے چلے گئے اورمجرم کے حیلے بہانوں کی وجہ سے فیصلوں پرعمل نہ ہوسکا تو کرپشن ختم کرنے کاخواب ایک خواب ہی بن کررہ جائے گا اس کی تعبیرکبھی بھی نہیں مل سکے گی۔

پائیدار امن تک آپریشنز جاری رکھنے کا عزم
پاک فوج کے سربراہ نے پائیدار امن کیلئے انسداد دہشت گردی آپریشنز جاری رکھنے کافیصلہ کیاہے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں جنرل ہیڈ کوارٹرزراولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس میں ملکی سلامتی،لائن آف کنٹرول، ورکنگ باونڈری کی صورت حال،جیو اسٹریٹجک معاملات،آپریشن ردالفساد کے تحت کارروائیوں اور ملکی استحکام سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ملک میں جاری آپریشن ردالفساد کے تحت استحکام آپریشنز کی پیشرفت پر بھی غور کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و استحکام شہدا کی قربانیوں کی وجہ سے ہے۔ہمارے پاک فوج کے جری جوانوں کی ہی بدولت اس وطن عزیز کی سرحدیں محفوظ ہیں ہم جب رات کو سکون کی نیندسوتے ہیں تو اس وقت ہمارے جوان سرحدوں پرالرٹ کھڑے ہوتے ہیں ۔اپنی جانیں نچھاور کرنے والے شہداء اس قوم کے وہ عظیم سپوت ہیں جن پرجتنا بھی فخرکیاجائے وہ کم ہے۔ کورکمانڈرزکانفرنس میں جہاں آپریشن ردالفساد اورجیواسٹریٹجک معاملات زیرغور آئے وہاں پر ورکنگ باؤنڈری کی صورتحال پر بھی بات کی گئی چونکہ بھارت نے ایل او سی پربلااشتعال فائرنگ کاایک وطیرہ بنارکھا ہے۔ اس کی ہرممکن خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس ملک کاامن تہہ وبالاکردے ہمیشہ ہماری پاک فوج نے دشمن کودندان شکن جواب دیا ملک کی حفاظت اور آزادی کیلئے پاک فوج اور پوری قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہے۔ دشمن کی بھول ہے کہ وہ پاکستان کیخلاف کسی بھی مذموم اقدام میں کامیاب ہوسکے گا۔تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی بھی دشمن نے گھات لگاکر حملہ کرنے کی کوشش کی تو اس کوآگے سے بہادر پاک فوج کاسامناکرناپڑا، دشمنوں کے ٹینکوں کے ٹینک اڑادیئے۔پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ جو صلاحیتیں پاکستانی افواج میں پائی جاتی ہیں، وہ دنیابھرکی کسی فوج میں نہیں ،پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اعتبار سے ہماری فوج دنیابھرکی نمبرون فوج ہے ،اس کاکوئی ثانی نہیں جب یہ میدان کارزار میں اترتی ہے تو بڑے بڑے دشمنوں کوبھاگنے کی جگہ نہیں ملتی۔لہٰذا بھارت کسی خام خیالی میں نہ رہے اگر کوئی مذموم قدم اٹھایا تو اسے منہ کی کھاناپڑے گی۔