- الإعلانات -

سی پیک سے پاکستان میں انقلابی تبدیلیاں

وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیارکا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت نے سی پیک میں غلط ترجیحات رکھیں۔ سی پیک کوبڑھایا جائے گا اور اس پر کام تیز کیا جائے گا۔سی پیک سے لاکھوں نوکریاں نکلنی تھی جس سے معیشت کا پہیہ چلنا تھا۔ اللہ کی طرف سے پاکستان کو دین اس کا جغرافیہ ہے اس لئے ہم نے چائنہ کے ساتھ مل کر ایسا فریم ورک بنایا ہے کہ ملک میں باہر سے سرمایہ کاری آئے گی۔سی پیک کے نو اکنامک زونز سے آج تک ایک بھی فعال نہیں ہوسکا ۔ گزشتہ حکومت نے پاکستان کے مستقبل کا نہیں سوچا ، سی پیک پانچ روزہ ٹیسٹ ہے جبکہ پچھلی حکومت نے اس کو ٹی ٹوئنٹی سمجھ کر کھیلا ہے۔پاکستان اور چین کے تعلقات کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں۔ جنرل مشرف کے آخری دور کے اندر سی پیک کے اوپر ایک پالیسی چل رہی تھی اور پچھلی حکومت نے سی پیک کا فریم ورک کیا اور ہم نے حکومت میں آتے ہی فیصلہ کیا کہ سی پیک کو وسعت دی جائیگی ۔ گوادرکایہ حال ہے کہ وہاں اب تک پانی کی اسکیم موجود نہیں۔ہم نے آتے ہی بجلی پیدا کرنے کے ہائیڈ ل پراجیکٹس پر توجہ دی۔ وزیر اعظم نے دورہ سعودی عرب سے واپسی پر کہا تھا کہ سی پیک میں اب ہمارا تیسرا سٹریٹیجک یا اقتصادی پاٹنر جو ہو گا وہ سعودی عرب ہو گا اور بہت بڑی سرمایہ کاری سعودی عرب سے پاکستان کو اس راستے میں ملیں گی۔ چین کے معروف اخبار ڈیلی چائنہ نے اس کو شاندار سفارتی کامیابی قرار دے دیا۔اس فیصلہ سے ون بیلٹ ون روڈ مزید فروغ پائے گا۔ سعودی عرب نے سی پیک میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے دلچسپی ظاہر کی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب اپنی معیشت کو وژن2030کے مطابق بہتر بنانے کیلئے چین کی معیشت کے ساتھ چلنا چاہتا ہے۔سی پیک کے ذریعے سعودی عرب چین کے لئے خام تیل کی سپلائی میں بھی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ چین دنیا میں تیل استعمال کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔پاکستان اور سعودی عرب بھی دونوں مشترکہ طور پر سی پیک سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں لہٰذا یہ بیلٹ اینڈ روڈ کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے اور اس کے بعد دیگر مسلم ممالک بھی سی پیک میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے خواہش کا اظہار کر سکتے ہیں۔خسرو بختیار نے امید ظاہر کی کہ مسقبل میں جرمنی،جاپان یافرانس جیسے ملک بھی سرمایہ کاری کریں گے۔خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان مل کر غربت کا خاتمہ کریں گے۔ عوام کے لئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ سی پیک کوکامیاب بنانے کیلئے نیا ورکنگ گروپ بنارہے ہیں۔پاکستان پر 28ہزار ارب کاقر ض ہے جبکہ پاکستان میں بہت کم لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے قرضے لیکر من پسند منصوبے شروع کئے ۔ عوام پر اس وقت 12سو ارب روپے گردشی قرضہ ہے ۔ اگر ہم پاکستان میں آئل ریفائنر ی لگادیں تو ہمارا تیل کا خرچ آدھا ہوجائیگا ۔ ہم یہ آئل ریفائنری لگائیں گے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) دْنیا میں جاری اس وقت سب سے بڑا اقتصادی و ترقیاتی منصوبہ ہے جسکی ابتدائی مالیت چھیالیس ارب ڈالر ہے جو مزید بڑھ کر باسٹھ ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ اس منصوبے میں طویل کشادہ اور محفوظ سڑکیں، توانائی کے منصوبے، انڈسٹریل پارکس اور گوادر بندرگاہ کی تعمیر و انصرام شامل ہے جسکی تکمیل، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ پاکستان کیلئے اقتصادی لحاظ سے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔ چین کو اس منصوبے سے کب فائدہ پہنچتا ہے یہ تو بعد میں پتا چلے گا مگر پاکستان پر چند برسوں کے اندر انقلابی تبدیلیوں کی بارش ہورہی ہو گی۔ ملک میں لوڈ شیڈنگ کا جن بوتل سے باہر آچکا تھا اور پورا ملک اندھیروں میں ڈوب چکا تھا مگر سی پیک کے تحت بجلی کے نئے منصوبے بنے اور ان میں سے کئی تو مکمل ہو چکے ہیں اور پیداوار دے رہے ہیں جس سے غیر اعلانیہ اور بے تہاشا لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے آٹھ ہزار ایک سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ ان میں تیرہ سو بیس میگا واٹ کا ساہیوال کول پروجیکٹ(جس سے نصف پیداوار ملنی شروع ہو گئی ہے) ۔ پورٹ قاسم کول پروجیکٹ بھی تیرہ سو بیس میگا واٹ ہے۔ حب کول پروجیکٹ سے بھی اتنی ہی بجلی حاصل ہوگی۔تھرکول پروجیکٹ کی صلاحیت نو سو میگا واٹ ہے۔ مائن ماوتھ کول پروجیکٹ بھی تیرہ سو بیس میگا واٹ ہے۔ اینگرو کول پروجیکٹ بھی تیرہ سو بیس میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا اور گوادر پاور پروجیکٹ سے چھ سو میگا واٹ بجلی ملے گی۔ اقتصادی منصوبوں کیلئے چھیالیس ارب ڈالر کی رقم میں سے تینتیس ارب ڈالر کی چینی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی ہے جبکہ بارہ ار ب ڈالر کا سستا ترین قرضہ بھی دیا جائے گا جو پندرہ سے بیس سال کی مدت میں آسان ترین شرائط پر واپس کیا جاسکے گا۔ یہ راہداری منصوبہ(سی پیک) پندرہ سال کیلئے ہے۔ پاکستان، ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے اس اقتصادی راہداری منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک کے تین ارب عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ گوادر پورٹ مکمل ہونے پر دوہزار تیس تک پاکستان کو تقریباًنو سے دس ارب ڈالر کا سالانہ ریونیو حاصل ہو گا اور پچیس لاکھ کے قریب پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہونگے۔ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا، صنعتی ترقی کاپہیہ چلے گا اور عوام خوشحال ہونگے۔