- الإعلانات -

علماء مدارس میں جدید نظام تعلیم رائج کریں

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مدارس کی خدمات کو نظر انداز کرنا اور ان کو دہشت گردی سے منسوب کرنا ناانصافی ہے۔ نظامِ تعلیم اور نصاب تعلیم کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ملک میں تین مختلف نظام تعلیم کی موجودگی قوم کی تقسیم اور مختلف کلچرز کو پروان چڑھانے کا باعث رہی ہے۔ ایک قوم کی تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ بنیادی نظام تعلیم اور نصاب تعلیم میں یکسانیت ہو۔ سماجی ترقی میں مدارس نے جو خدمات انجام دی ہیں انہیں نظر انداز کر دیا گیا اور مدارس کو دہشت گردی سے بھی جوڑا گیا جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ مدارس اور ان سے وابستہ تنظیموں پر الزام رہاہے کہ انہوں نے ملک میں فرقہ واریت پھیلائی اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا۔ ایسے میں ان مدارس کے سر پرستوں سے ملاقات انتہا پسند عناصر کی مزید حوصلہ افزائی بھی قرار دی جا رہی ہے۔ ماضی میں سعودی عرب پر یہ الزام رہا ہے کہ اس نے پاکستان میں ایسے مدارس کی مالی امداد کی، جو مذہبی منافرت، فرقہ پرستی اور انتہا پسندی پھیلانے میں ملوث رہے ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے خود اعتراف کیا کہ ان کے ملک نے ماضی میں مغرب کے کہنے پر مدارس کھلوائے تھے۔ اب وہ اپنے ملک میں تو انہیں لگام ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہاں ایسے کوئی آثار نہیں کہ ان مدارس کے کردار کو ختم کیا جائے یا ان کے نصاب میں تبدیلی لائی جائے۔ اگر ایسا ہوا تو سعودی دباؤ بھی دیکھنے میں آئے گا۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں دینی مدارس کے نصاب میں کوئی اصلاحات ممکن ہے۔ اصلاحات کا مطلب یہ ہے کہ آپ مدارس کے بچوں کو ریاضی، طبیعیات، کیمیا، کمپیوٹر سائنس اور دوسرے مضامین پڑھائیں۔ کیا ہمارے مولوی حضرات یہ مضامین پڑھا سکتے ہیں؟ وہ تو اورنگزیب کے دور سے درسِ نظامی پڑھا رہے ہیں، جس کی عملی دنیا میں کوئی کھپت ہی نہیں۔ تو یہ حلقے کسی بھی تبدیلی کی مخالفت تو کریں گے۔پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس خیال کے حامی ہیں کہ مدارس کی تعلیم کو جدید بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ طلبا معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ وہ مدرسوں کے خلاف نہیں لیکن دینی مدارس میں صرف اسلامی تعلیمات کافی نہیں۔ چونکہ ہمارے مدارس میں صرف مذہبی تعلیم دی جا رہی ہے اس لئے وہاں کے طالب علم دنیاوی اور جدید علوم میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مدارس کے طالب علم مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد کہاں جائیں گے، ان کا مستقبل کیا ہے؟ ‘‘کیا وہ مولوی بنیں گے یا دہشت گرد۔ مدرسوں سے فارغ اتنے زیادہ طالب علموں کو روزگار دینے کے لئے تو بڑی تعداد میں مسجدیں بھی نہیں بنا سکتے۔پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ملک میں 20000 سے زیادہ رجسٹرڈ مدارس ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مدرسوں کے نصاب میں اصلاحات کیلئے کام جاری ہے۔اگر علماء حضرات چاہیں تو مدرسوں میں اصلاحات ممکن ہیں۔گو کہ جنوبی ایشیا کے بہت سے دینی مدارس کے ارباب اختیار انگلش زبان اور کمپیوٹر ٹریننگ کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں اور کئی مقامات میں اس کا کسی حد تک اہتمام بھی موجود ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ اہتمام برائے نام ہے اور صرف کہنے کی حد تک ہے ۔ موجودہ حکومت کے وژن کے مطابق دینی مدارس سے تعلیم پانے والے فضلاء کو ایک بین الاقوامی زبان اور عالمی ذریعہ اظہار کے طور پر انگلش زبان کی مہارت حاصل کرنی چاہیے جو مضمون نویسی اور فی البدیہہ گفتگو اور تقریر کے معیار کی ہو۔ اسی طرح انہیں کمپیوٹر کے استعمال پر قدرت ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ لابنگ اور بریفنگ کی جدید ترین تکنیک بھی ان کی دسترس میں ہونی چاہیے۔ اس سے کوئی باشعور شخص انکار نہیں کرسکتا ۔ علماء حضرات بھی جدید معاشری چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے دینی مدارس میں عصری اور انفارمیشن ٹیکنالونی (آئی ٹی) کی تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ،نئے سال کی داخلہ مہم میں عصری تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی سیکھانے کی ضرورت پر زور دیں اور اپنے اپنے مدارس میں جدید تعلیم کو فروغ دیں۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ زمانے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مدارس نے دینی تعلیم کے ساتھ جدید عصری علوم کو بھی اپنے نصاب میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مدارس نے طلباء کی ذہنی تربیت کے ساتھ انہیں جسمانی طور پر بھی صحت مند رکھنے کے لیے مختلف کھیل سکھانے کو بھی اپنی داخلہ مہم میں نمایاں طور پر بیان کیا ہے۔ بعض مدارس طلبہ کو دینی تعلیم کی جانب راغب کرنے کیلئے مدارس عصری تعلیم اور کمپیوٹر کی تعلیم بھی اپنا رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہم طلبہ کا بہترین مستقبل چاہتے ہیں۔ حکومت عصری تعلیم کے لیے جو سہولیات دے رہی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر مدارس اپنے طلباء کو جدید تعلیم سے آراستہ کر کے نہ صرف ان کیلئے بلکہ پاکستان کیلئے ایک جدیدو ترقی یافتہ نسل کو جنم دے سکتے ہیں۔

*****