- الإعلانات -

دیش میں 2019 کے الیکشن ،آرایس ایس کی خطرناک سازشیں

انگلستان کے عظیم سیاسی رہنما’ دانشور اور مدبر سرونسٹن چرچل کامشہورمقولہ ہے کہ ‘خراب جمہوریت کاعلاج مزید جمہوریت ہے’چرچل جیسے سیاسی بصیرت افروزدانشورانہ بلند قدو قامت کے سبھی سیاسی وسماجی مدبرمانتے ہیں کل اور آج کے یہ سبھی ماہرین اسی جانب اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ جمہوریت کی اپنی پیداکردہ ثقافتی ومعاشرتی برائیاں اورسماجی وسیاسی تعصبات کی خرابیاں اسی طرح سے ختم کی جاسکتی ہیں کہ’جمہوریت کے سسٹم کورواں دواں چلتے رہنا چاہئیے’مغرب میں یہ جمہوری سسٹم بے انتہا کامیاب رہا ہے، آج بھی کامیاب ہے اور کئی دہائیوں سے اپنی تمام ترانسانی رویوں کی خوبیوں کی بدولت جمہوریت کے اصل فوائد عوام کے نچلے طبقات تک خودکار تکنیکی انداز میں پہنچ رہے ہیں پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ کیا ہوا یہ ایک علیحدہ بحث ہے یہاں جمہوریت کے جاری سسٹم کی بات ہورہی ہے کیا وجوہ ہے کہ گزشتہ 71 برسوں سے دنیا بھی دیکھ رہی ہے ہم اورآپ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بلا کسی رکاوٹ یا تعطل کے وہاں جمہوریت’ بظاہر‘چل رہی ہے، لیکن بھارت کی یہ نام نہاد ‘عظیم جمہوریت’بھارتی معاشرے اور سماج کے لئے آج تک عوامی فلاح وبہبود کے بنیادی فوائد اور ثمرات تو رہے ایک طرف’بھارتی جمہوریت کے ا س جاری سسٹم نے بھارت جیسے بڑے جغرافیائی بڑی آبادی رکھنے والے ملک میں عوامی سطح پرغربت و افلاس’ بھوک وننگ‘ تنگ دستی اوربے بسی و لاچاری کے علاوہ صحت وتعلیم کوعوامی دہلیزتک پہنچانے میں مستقلاً کامیابی حاصل کیوں نہیں کی؟دیش میں عدل وانصاف کا بلا امتیاز معیاری نظام قائم کرنے میں بھارتی جمہوریت اس قدر ناکام کیوں رہی ہے71 برسوں میں اورکچھ نہیں توبھارتی جمہوریت کے بطن سے دیش میں یکساں سماجی ومعاشرتی نظام کی کوئی ایک ہی جھلک دنیا دیکھ لیتی’ڈیموکریسی’جمہوریت کا مطلب یہی تو ہے’’عوام کی حکومت عوام کیلئے‘‘ 71 برس بیت گئے ،بھارتی جمہوریت کے خلاف دیش کے مختلف حصوں میں اپنے بنیادی حقوق کے لئے کئی ثقافتی وسماجی نسلوں نے ‘ہندواشرافیہ کی قائم کردہ جمہوریت کے مرکزیعنی’ نئی دہلی‘ کو للکارا ہوا ہے کئی بغاوتیں برپا کی ہوئی ہیں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’کیا نئی دہلی کے اقتدار میں آنے والی جمہوری حکومتیں( مختلف پارٹیوں کی شکل میں اقتدار میں آنے والی حکومتیں) پورے دیش کے عوام کے ساتھ یکساں مساوی سلوک اور برتاؤ رکھتی ہیں ؟نہیں رکھتیں تب ہی تو وہاں ’سماجی وثقافتی ناانصافیوں‘ کا طوفان امڈا ہوا ہے وسطی اورمشرقی علاقوں سمیت جموں کشمیرمیں ’بھارتی یونین‘ کوکروڑوں عوام نے چیلنج کیا ہوا ہے’ ڈیموکریسی کا یہی مطلب ہے ‘عوام کی حکومت عوام کے لئے’ کا اہم اصول اگرجموں وکشمیرمیں لاگو نہیں ہوتا ہے تو پھریہی اصول بھارت میں نسلی بنیادی پرست اچھوتوں کا استحصال کیوں کررہا ہے؟ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا کیوں رکھا جارہاہے؟ اب جبکہ بھارت میں ا گلے انتخابات اپریل مئی 2019 میں ہونیوالے ہیں، ایک بارپھر بابری مسجد کی جگہ رام مندرکی تعمیرکا نعرہ کیا بھارت میں نہیں گونجنے لگے گا؟ دیش میں’ گؤ رکھشا’کے جو شیلے بھجن نہیں گائے جائیں گے؟ گائے کی ذبیحہ کے نام پر ‘کسی مسلمان کے گھر سے گائے کے گوشت کی برآمدگی کے نام پر‘ مسلمانوں کو نماز کے کھلے اجتماعات کی اجازت نہ دینے کے نام پر غنڈہ گردی کرنے جیسی گھٹیا و مذموم سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی یا اسی ’ایشو‘ کو بی جے پی کسی اور انداز میں اپنا انتخابی نعرہ بناکر انتخابی میدان کو گرم کرئے گی مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کو’انتخابی نعروں میں ٹارگٹ نہیں بنایا جائے گا بعض نامی گرامی ممتازعالمی سطح کے شہرت یافتہ لبرل اعتدال پسند روشن خیال غیر مسلم بھارتی دانشور سمجھتے ہیں کہ آرایس ایس کے جنونی کارسیکوں نے سوچی سمجھی ایک سازش تیارکی تھی یہ مودی کون ہے؟ اِن کا اپنا آدمی ہے کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی تھی ’را‘ نے بھارت کی اندرونی سیاست کے خدوخال پر اثرانداز ہونے کے لئے کل بھی ڈوریاں ہلائیں آج بھی وہ سرگرم ہے اورنئی دہلی کے ا قتدارپر مکمل قبضہ کے لئے اپنے تربیت یافتہ لوگوں کو بی جے پی کے ذریعے سے آج ’را‘ نے اس مقام تک پہنچا دیا ہے۔اب یہی متعصب چہرے بھارت کی بیرونی شناخت اور علامت بن چکے ہیں، جنہوں نے بھارت کا روشن خیال اور اعتدال پسند جمہوری سیکولر چہرہ بُری طرح سے داغدار کردیا ہے، بلکہ دیش کے سیکولرسسٹم پر مبنی جمہوریت کا جنازہ ہی نکال دیا ہے، کاش! آج سرونسٹن چرچل زندہ ہوتے تو ہم اُن سے پوچھتے کہ ’سر! بھارتی جمہوریت کی عمر 71 برس ہوچکی ہے بلا تعطل اور کہیں رکے بغیر جاری وساری بھارتی جمہوریت کو لاحق کئی اقسام کی بیماریوں کا مزید ایسی ہی یکطرفہ انتہا پسندانہ جنونی جمہوریت کی ’سیاسی میڈیسن‘ سے تشفی بخش علاج ممکن ہوگا؟بھارتی سماج کے دشمنوں نے مذہبی فرقہ واریت کے نام پر ’ہندوتوا‘ کے زبردستی پھیلاؤ کے نام پر ‘ ہندواکثریت کے بل بوتے کے نام پر دیش کی جمہوریت کوآر ایس ایس نے اپنے جنونی شکنجہ میں یرغمال بنا لیا ہے دنیا کی سمجھ میں مگر نہیں آرہا نئے نعرے ‘نئے خدشات ‘نئے جنونی جذباتیت سے بھرپور جمہوری سیاسی بلکہ ’سازشی منصوبے‘ ابھی وہاں پائپ لائن میں ہیں اور دور پرے کہیں کوئی رکاوٹ کوئی متبادل آرایس ایس کے کارسیکوں کی راہ کو رکنے ٹوکنے والا کسی کو نظر نہیں آرہا اور تو اور یہ بھارت کل والا بھارت بھی نہیں ہے یہ بھارت انسانی تباہیوں کے جدید بائیو کیمیکل ہتھیاروں سے لیس ایک ایٹمی ملک ہے کیا دنیا یونہی چپ سادھے بیٹھی تماشا دیکھتی رہے گی ایک جانب ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسری طرف آرا یس ایس کا مودی یا اس جیسا کوئی اور جنونی نئی دہلی پر آدھمکا تو آئندہ جنوبی ایشیا میں کیسا منظر ہوگا دیش میں عین انتخابات کے نزدیک حکومتی سطح پر ’نئے اندیشوں ‘نئے وسووں اور نئے خدشات کا تبادلہِ عام دیکھنے سننے اور پڑھنے کو مل رہا ہے دیش بھر میں بڑی ہی خطرناک آلارمنگ صورتحال بنتی جارہی ہے ماو نواز نکسل مسلح گروہوں کے نام پر عام ہندوں کو خطرناک حد تک گمراہ کر نے کی ‘لِپس موومنٹ’چلائی جارہی ہے ’ہندو بیٹھکوں میں آنے والے چناؤ پر سیاست سے زیادہ اِن دِنوں تشدد کی باتیں زیادہ ہورہی ہیں جس کے پیچھے ہونہ ہو یقیناًآرایس ایس کے ٹاپ کے ا فراد ضرورشامل ہیں جو ماونوازنکسل مسلح علیحدگی پسندوں کے نام لئے کر یہاں تک بے سروپا لغویات دیش میں پھیلانے لگے ہیں کہ ماونوازنکسل گروہ کہیں نریندرامودی کو قتل ہی نہ کردیں ؟لہذاء مودی جی کی ضرورت سے ز یادہ اب سیکورٹی کوبڑھایا جا نا چاہیئے آرایس ایس والوں کی یہ کوئی معمولی شرارت نہیں ‘خطے کی سلامتی کے لئے بہت بڑی خطرناک سازش سمجھی جائے، بھارتی حساس سیکورٹی اداروں میں اعلیٰ پیمانے پر غیر ذمہ دار پیشہ ورانہ اہلیت وقابلیت کے اعتبار سے انتہائی ناموزوں واجبی سی تعلیم کے افراد کی تعیناتیوں سے دنیا کو عالمی امن کی خاطر اب تو ہوش آجانا چاہیئے مگرسی آئی اے اورموساد نے کہاں کہاں’اپنوں’کونہیں لابٹھلا دیا ‘ اُنہیں کی مرضی ومنشا کے مطابق بخوبی کام جو ہورہا ہے، پانچ برس مودی جی نے گزار لیے اقتدار کی قربت انسان کو کافی حد تک ’اچھا بُرا‘ سکھلادیتی ہے یہ سمجھنے کا موقع ہے لیکن ’امیت شا ‘ اجیت ڈول جیسوں کو شائد اب کچھ نیا چاہیئے وہ 2019 کے چناؤ کے سے قبل ’کچھ نیا‘ نہ کربیٹھیں؟لہٰذا دنیا اپنی آنکھیں اور اپنے کان کھول لے اور کچھ نہیں تو روس اور چین کو اس جانب متوجہ ہونا پڑے گا ، ایشیائی ترقیاتی دنیا کو نئے بھارتی چناؤ پر بڑی گہری وعمیق نظر رکھنی پڑے گی ایک ایشیائی ذمہ دار ایٹمی ملک پاکستانی فرد ہونے کے ناطے سے ہمارا یہ ایک صائب مشورہ ہے صاحبو!۔

*****