- الإعلانات -

انگلستان کے عظیم سیاسی رہن

adaria

حکومت کی جانب سے انقلابی اقدامات سامنے آتے جارہے ہیں ،گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گوادر میں ریفائنری کے قیام کے لئے سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے ساتھ پاکستان سعودی عرب کے مابین اربوں ڈالر کے معاہدوں کی منظوری دی گئی نیز حکومت نے100روزہ پلان کی تفصیلات کے لئے ویب سائٹ بھی لانچ کردی ہے یہ ایک خوش آئند اقدام ہے ۔ماضی میں رہنے والی حکومتوں نے غالباً ایساقدم نہیں اٹھایا جس سے ان کی کارکردگی اور نامکمل رہنے والے منصوبوں کاحکومتی ویب سائٹ سے علم ہوسکے ۔اس ویب سائٹ کے ذریعے عوام کو بہترانداز سے پتہ چل سکے گاکہ جووعدے وعید کئے گئے تھے ان پرکتناعمل کیاگیاہے۔ دوسری جانب اہم اداروں کے سربراہ بھی تبدیل کردیئے گئے ہیں جس میں نون لیگ کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے مقرر کردہ سٹیٹ بنک کے دو پٹی گورنر، چاربنکوں اورچارریگولیٹری اداروں کے سربراہ بھی شامل ہیں نیز وزیرخزانہ کاتقرری اختیار بھی ختم کردیاگیاہے۔کابینہ کے اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیرکااعلان اسی ماہ میں کیاجائے گا۔وزیراطلاعات فواد چودھری اوروزیرپٹرولیم وقدرتی وسائل غلام سرور نے میڈیا بریفنگ میں اعلان کیاکہ نیلم جہلم ہائیڈروپاورپراجیکٹ اورنیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کافرانزک آڈٹ کرایاجائے گا اور ذمہ داروں کوکیفرکردار تک بھی پہنچایاجائے گا۔یہ اقدام بھی اچھا ہے مگر اس کو صرف دو منصوبوں تک محدودنہیں رہناچاہیے آج سے پہلے جو بھی بڑے بڑے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے یازیرپایہ تکمیل ہیں اُن سب کافرانزک آڈٹ ہوناچاہیے اس میں جو بھی گناہ گار ثابت ہواسے نہ صرف سزادی جائے بلکہ پراجیکٹ پرخرچ آنیوالی رقم کی وصولی بھی کی جائے۔ سربراہان کی تبدیلی سے مسائل کچھ حل کی جانب ضرورگامزن ہوں گے لیکن ان کابھی چیک اینڈ بیلنس کانظام انتہائی ضروری ہے اس وقت حکومت اور اپوزیشن میں ایک عجیب وغریب کھیل معافی نامے کاشروع ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ چور کو چور ہی کہاجائے گا وہ شاہ نہیں ہوسکتا مگر جس پر الزام عائد کیاجائے اس کے حوالے سے حکومت کے پاس تمام تر ثبوت موجود ہونے چاہئیں اور جب عنان اقتدار میں بیٹھے ہوئے افراد کی جانب سے اپوزیشن کسی بھی شخص پرکرپشن کاالزام یا کوئی بھی لاقانونیت کے حوالے سے بات کی جائے تو اس کو ثابت کیاجائے پھرمعافی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی نہ مانگی،نہ دی جائے اوراگرالزام غلط ثابت ہوتوالزام عائد کرنے والے کے لئے بھی قرارواقعی سزا ہونی چاہیے اور جس نے کرپشن کی ہے اس کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیناچاہیے۔ الزام تراشی کی سیاست سے ہمیشہ نقصان ہی پہنچاہے حکومت حساب کتاب کرے کہ اگرگنجائش سے زیادہ کسی بھی محکمے میں بھرتیاں کی گئیں ان ملازمین نے اس عرصے میں جو بھی تنخواہیں یا اس کی مد میں مالی فوائد حاصل کئے وہ بھرتی کرنیوالے شخص سے برآمد کئے جانے چاہئیں۔ان فیصلوں اور ان پرعمل میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تب ہی نظام درست ہوسکے گا اگر صرف بات نشستاً اوربرخاستاً تک محدود رہے گی تو پھر بس حکومت کاوقت ختم ہوجائے گا اور ایک دوسرے کوموردالزام ہی ٹھہراتے رہیں گے۔کابینہ نے جو سعودی عرب سے معاہدوں کی منظوری دی ہے وہ بھی خوش آئند ہے ان کے تحت سعودی عرب تیل اور گیس کے شعبے میں کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گاچونکہ دونوں ممالک میں انتہائی قریبی اوربرادرانہ تعلقات ہیں پھروہاں حرمین شریفین کی وجہ سے مسلمان امہ کی تو ایک خاص عقیدت ہے اس اعتبار سے دیکھاجائے تو ہمارے لئے سعودی عرب انتہائی محترم حیثیت رکھتاہے ۔سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے ملک میں نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ترقی بھی کرے گا لیکن یہ ضروری ہے کہ ان میں شفافیت کوملحوظ خاطررکھاجائے۔

بھارتی مظالم،بین الاقوامی برادری کی خاموشی۔۔۔؟
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہاہوچکی ہے دفترخارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے ،معصوم کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کررہاہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے، لیکن دنیابھرنے اس پرآنکھیں بندکررکھی ہیں جہاں بھی دیکھیں مسلمانوں کوتختہ مشق بنایاجارہاہے افغانستان ، فلسطین ،عراق ،شام ،مصر،لیبیاغرض کہ جہاں مسلمان پائے جاتے ہیں وہاں پر کسی نہ کسی صورت میں ان پرظلم ڈھایاجارہاہے بھارت نے تو انتہاکردی ہے مودی کے دور حکومت میں پورے بھارت میں مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے مقبوضہ کشمیرمیں تو انسانی حقوق کی اتنیخلاف ورزیاں ہورہی ہیں جتنا کہاجائے وہ کم ہے نہ جانے بین الاقوامی برادری نے کیوں اپنی آنکھیں موندرکھی ہیں ۔دنیا کے کسی بھی خطے میں اگر کوئی جرم ہورہا ہو تو اقوام متحدہ، امریکہ اوربرطانیہ کی چیخ وپکاردیکھنے اور سننے کے قابل ہوتی ہے مگر جہاں مسلمانوں کاقتل عام ہورہاہووہاں پرسراسیمگی چھاجاتی ہے ۔وقت تقاضا کررہاہے کہ مسلم امہ اپنے مفادات کی خاطر متحد ہوجائے ورنہ اسی طرح خوار ہوتی رہے گی اور یہ ہماری آزادیاں سلب کرتے رہیں گے۔
وزیرخارجہ کاامریکہ کاکامیاب دورہ
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی12روزہ امریکی دورے کے بعدوطن واپس پہنچ گئے ہیں،اس دوران انہوں نے اقوام متحدہ میں وفد کے ہمرا ہ پاکستان کی نمائندگی کی،مختلف تقریبات میں شرکت کی۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔اُن کاخطاب قومی زبان اردو میں تھا اس پر شاید کچھ سیاسی رہنماؤں کو اعتراض بھی ہوا لیکن یہ ایک عظمت والی قوم کی نشانی ہے جس نے اپنی پہچان کو برقراررکھا آخروقت تک ہم فرنگی اوراس کی زبان سے متاثر رہیں گے جن جن قوموں نے ترقی کی انہوں نے ہمیشہ اپنی ہی روایات کاعَلم بلندرکھا۔ اس اعتبار سے وزیرخارجہ کو خراج تحسین پیش کرناچاہیے ان کے دورے کاکُلی جائزہ لیاجائے تو وہ کامیاب رہا۔ امریکہ کے لب ولہجہ میں بھی تبدیلی آئی افغانستان طالبان مذاکرات کے حوالے سے بھی انہوں نے اپنا نقطہ نظر واضح طورپر بیان کیا۔اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کے دوران واضح کیاگیا کہ پاک امریکہ تعلقات کو افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں نہیں دیکھناچاہیے اور امریکہ کہ یہ باورکرایاگیا کہ پاکستان کے بغیر افغانستان کے معاملے پرپیشرفت ممکن نہیں۔اب امریکہ پریہ بات بھی واضح ہوچکی ہے پاکستان کی سول وفوجی قیادت ایک صفحے پر ہیں ۔اس پیغام کے جانے سے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیابھرمیں ہماری عزت وتکریم میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا جب ہم باہمی اتحادکامظاہرہ کریں گے تو کبھی بھی دشمن یہ جرات نہیں کرسکتا کہ وہ آنکھ میں آنکھ ڈال کربات کرے۔