- الإعلانات -

اندوہناک داستانیں

بلاشبہ ’سچائی‘ ایک پیچیدہ تصور ہےسچائی تک پہنچنااور عین ویسے ہی من وعن بیان کردینا بڑی ہمت وجرات کی بات ہوتی ہے اور خاص کر بھارت جیسے ملک میں جہاں آپ دیش بھرمیں پھیلی ہوئی سرکاری سرپرستی کی جنونی انارکی کوللکارنے نکل پڑیں’ایسی ہی کڑوی کسیلی اورتلخ سچائی سے وابستہ حیات آفریں تصور کے ساتھ چند دوسرے تصورات بھی آپ کے ذہنوں پریعنی سچائی لکھنے اوربولنے والوں کے ذہنوں پرلگاتاردستکیں دینے لگتی ہیں، مثلا تصدیق کی دستک ‘دیانت اورمحنت کی دستکیں’ان بے آوازدستکوں کااحساس اْنہیں یہ باور کراتا ہے کہ وہ انسانیت کے وقار کے لئے کمربستہ ہوچکے ہیں’لہذاء کسی قسم کے خوف کو اپنے قریب پھٹکنے نہ دیں جو سچ بولنے جارہے ہیں وہ سچ بول دیں، بھارت کی نامورعالمی شہرت یافتہ مصنف’صحافی اورممتازٹی وی اینکرپرسن محترمہ برکھادت نے زمینی وواقعاتی سچائی کی سرشاری میں محو ہوکردیش بھرمیں آباد مختلف نسلوں جنہیں ہمہ وقت انسانی محرومیوں نے اپنے حصار میں گھیرا ہوا ہے ایسوں کے ساتھ پیش آنے وا لے دردوالم کو محسوس کرکے بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی نسلی ولسانی فرقہ واریت کی متشدد جنونی مشکلات کی کھائی میں اس بہادرمصنفہ نے بلاآخر چھلانگ ہی لگادی ممکنہ پیش آنے والی مشکلات کی بالکل پرواہ نہ کی اور نکسل عوام کی ایک بڑی واضح اکثریت جوغربت وافلاس میں گھری ہوئی ہے اْن کی انتہائی لاچاریوں اوربے بسیوں کی جانب توجہ دلانے کے لئے برکھا دت نے’نکسل وادی’کے عوام کی آوازکواپنی عالمی شہرت یافتہ کتاب کاموضوع بنایا ہے’شورش زدہ سرزمین۔اوراندوہناک داستانیں’مس برکھادت نے ا پنی مقبول عام کتاب میں مغربی بنگالی صوبہ میں واقع نکسل باڑی کے بہادراورغیورمحنت کش عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والی نئی دہلی سرکار کی برسہا برس کی متعصبانہ اور بے حس پالیسیوں پربڑے تفصیل سے گہری تفتیشی اندازمیں تنقیدی تاریخی رویہ اپنایا اوردنیا میں بھارتی جمہوریت کے داغدار چہرے کو بے نقاب کرکے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کا حق اداکردیا ہے دنیا جاننا چاہتی ہے تو سن لے کہ’ نکسل عوام’ نے نئی دہلی اقتدارکو اگرچیلنج کیا ہے تو کیوں کیا ہے؟کوئی یہ سب کچھ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتا ‘نکسلائٹ آئیڈیا لوجی’کے مسلح پس منظر میں ایسے کون سے عوامل کارفرما رہیں یا آج بھی کل کی طرح تروتازہ ہیں بقول مصنفہ برکھادت کہ نکسل عوام تک نئی دہلی سرکار نے انسانی سہولتوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کوممکن بنانے میں ہمیشہ تنگ نظری اور صرف نظر سے کام لیا ہے، مگراس ضمن میں نکسل عوام کوجو سب بڑا فائدہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ نکسل عوام کی نئی دہلی کی حاکمیت سے علیحدگی کی تحریک کی بابت بھارتی معاشرے میں اب ایک واضح لکیر وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں ترہوتی جارہی ہے نکسل عوام اپنی الگ آزاد ریاست کے لئے اپنی کئی نسلوں کی قربانیاں دینے کے لئے ا پنے آپ کومکمل طور پر تیارکرچکے ہیں ،جس پرسینٹرل دیش کے اکثرسیاسی تجزیہ کار اور صحافی نکسلائٹ چھاپہ ماروں کوکسی طور بھی ‘ریاست مخالف’یا’دیش کے معاشرے کا دشمن خیال نہیں کرتے’بلکہ اکثرحلقوں کی ایک پختہ رائے یہ بھی ہے کہ نکسل عوام کاتعلق بھارتی معاشرے کے اْن محروم طبقات سے ہے جن کے ساتھ بھارتی ریاست’حکومت اور بھارتی ایلیٹ معاشرہ ہمیشہ سے بہت ہی بْری طرح کا غیر انسانی ظلم وستم کرتا چلاآیا ہے’لہذاء ان محروم اور پسماندہ طبقات نے اپنے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی جدوجہد کے لئے اب اپنا ‘مسلح راستہ’اپنا لیا ہے مصنفہ برکھادت نے اسی جانب اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے کہ جب کوئی بھی ریاست اپنی مجموعی آبادی کے ایک بڑے واضح حصہ کو زندہ رہنے کے لئے پینے کا صاف پانی تک فراہم نہ کرئے اْن کی ضروریات زندگی کے لئے روزگارکا کوئی بندوبست نہ کرئے اْنہیں صحت کی سہولیات میسرنہ ہوں علاقہ کے بڑے امیر و کبیر بڑی زمینوں وا لے جاگیرداراْن کی زمینوں پرقبضہ جماتے رہیں علاقائی پولیس تھانوں میں آئے روزاْن کی ظالمانہ چھترول کی جاتی ہو’پہلے سے محروم پسے ہوئے طبقات کوغلام بناکر زندہ رہنے پرمجبورکردیا جاتا ہواْن کی خواتین کی کھلے عام عصمت دری کی جاتی ہو توکیا ایسے محروم اور نادارعوام ہمیشہ کے لئے مہربہ لب اورخاموش رہ سکتے ہیں؟’نکسلائٹ آئیڈیا لوجی‘ کا یہی واحد ٹھوس نظریہ ہے جس نے اْنہیں باہم متحدہ ویکجا کیا ہے، نکسل باڑی تنظیم کی بحثیں کرتے ہوئے نام نہاد’متحدہ بھارت’ کے نام لیواوں کاجوخیال بھی ہو،مگر معروضی سچائی معروضی حقائق اورنظرآنے والے واقعات کو وہ یوں یکسررد نہیں کرسکتے’جیسا کہ مس دت نے محسوس کیا اور اپنی کتاب کے صفحات میں اْنہیں رقم کردیا کہ نکسل عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والا متعصبانہ سلوک تاریخ کا حصہ بن سکے وہ بالکل حق بجانب ہیں گزشتہ 70 برسوں میں نئی دہلی سرکار نے چاہے کسی جماعت کی بھی مرکز میں حکومت رہی ہو یا آج بھی موجود ہے نکسل عوام کو کسی نے بھی وہ توجہ نہیں دی جو بھارت کے عام ‘ہندوجاتیوں’ کو دی جاتی ہے، بلکہ سنجیدگی سے اس کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی تو پھراْنہوں نے بندوق اْٹھالی، نئی دہلی کے علاوہ علاقائی اورعالمی طاقتیں فورا سمجھ گئیں کہ ‘جنوبی ہند میں ضرورت سے زیادہ شورش برپا ہے جو بڑھتی جارہی ہے ا گرفکر نہیں ہے توجانتے بوجھتے ہوئے بھی نئی دہلی سرکارہے جوبے فکرہے کبھی چین پرالزام دھردیا جاتا ہے’ کبھی پاکستان کو اڑے ہاتھوں لے لیا جاتا ہے لیکن مسئلہ کا بامقصد حل تلاش نہیں کیا جاتا نئی دہلی کی اسی ناعاقبت اندیش اور تساہل پرست ہٹ دھرم سیاست نے دیش کو آج کل بارود کے ڈھیر پر ضرورپہنچا دیا ہے، مقبوضہ کشمیر سے لے کر جنوبی ہند تک سے ‘نئی دہلی حاکمیت’کی مرکزیت کے خلاف اْٹھنے والی جاندار اور موثرآوازوں پراپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے والوں کوکیا اب یہ ہم بتائیں گے کہ اگر اُنہیں فرصت ملے تووہ مس دت کی کتاب کا مطالعہ کریں تاکہ اْنہیں علم ہوجائے کہ’نکسلائٹ تحریک’وسطی اورمشرقی دیش کے سبھی دیہی علاقوں تک پھیلتی ہی چلی جارہی ہے مس دت کی متذکرہ کتاب کافی ضخیم ہے اپنی کتاب میں مس دت نے بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی ہندوتوا تحریک پر بڑے زور دار سوالیہ انداز میں طنزیہ تبصرے کیئے ہیں خاص کر بی جے پی کی موجودہ سرکار پر جنہیں درپردہ آرایس ایس کی مکمل حمایت حاصل ہے دیش بھر میں ’ہندوتوا‘ کی نفرتوں بھری سیاست کی گندگی کو نمایاں کرکے دنیا تک مصنفہ نے پیغام پہنچا دیا ہے کہ بھارت میں جنونی انتہا پسندوں نے ایسا تنگ نظر ماحول پیدا کردیا ہے کہ یہ دیش اب ’لبرل اور روشن خیال اعتدال پسند سیکولر ازم پر چلنے والوں کے لیئے جہنم بنتا جارہا ہے جہاں نسل کی بنیادوں پر اچھوتوں کا کھلے عام استحصال ہوتا ہے، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک سرکاری سرپرستی ہوتا ہے، مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساسات بڑھتے چلے جارہے ہیں بھارت کی انتشار پسند ریاستوں کا یہ رخ کتنا بھیانک ہے بھارت اپنے پڑوسی ممالک کو گیدڑ بھبکیاں دینے میں بڑااتراتا ہے ذرا جھک کر اپنے ہی گریباں میں تو جھانک لے دنیا بھر کے تجزیہ نگاراس امر پر متفق ہوچکے ہیں نکسل وادی گوریلوں کی مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں بھارت کے40% حصے پر 92000 مربع کلومیٹر علاقے میں نکسل اپنی عملداری قائم کرچکے ہیں ’ہندوتوا کی فرقہ واریت ‘کی نفرت نے آج بھارت کوکس قدر منقسم کردیا ہے ۔