- الإعلانات -

کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی

کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم اور نوجوانوں کی شہادت کوئی نئی بات نہیں۔ جب سے کشمیریوں نے آزادی کی تحریک شروع کی ہے تب سے وہ بھارتی تشدد برداشت کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکامی پر قابض بھارتی فوج نے ظلم و ستم کے نئے سے نئے حربے آزمانے شروع کر دیے۔ کبھی کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور بعض کو شہید کرکے جعلی مقابلوں کا ڈرامہ رچایا جاتا۔پاکستان نےبھارت پر مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے قصبہ بانڈی پورہ میں بھارتی فورسز نے کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ برس بھی بھارتی فورسز کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ اٹھایا تھا اوریہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت نے کبھی اس الزام کی تردید نہیں کی۔ ترجمان دفتر خارجہ مقبوضہ کشمیرمیں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی خبروں کی تصدیق لازمی ہونی چاہیے۔ نئی دہلی معاملے کی تحقیقات کے لئے بین الاقوامی مبصرین کو وادی تک رسائی دے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ تہاڑ جیل میں تامل ناڈو پولیس نے کشمیری نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس پر پاکستان نہتے کشمیری نوجوانوں پر بھارتی مظالم کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔ کشمیریوں کی نسل کشی حق خود ارادیت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی ضمیر کو جاگنا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین کارروائیوں کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ کشمیر جنوبی ایشیا کا فلیش پوائنٹ ہے۔ بھارت طاقت اور قوت کے ذریعے کشمیروں کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔ آج کشمیریوں کی تیسری نسل میدانِ عمل میں موجود ہے۔پیلٹ گنز کے استعمال کے ذریعے نوجوانوں کو اندھا کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تہاڑ جیل میں قید سید صلاح الدین کے بیٹے سمیت 18 بے گناہ قیدیوں کو بھارتی خصوصی پولیس ٹیم نے بری طرح زودوکوب کیا جس کے نتیجے میں تمام قیدی بری طرح زخمی ہوگئے۔ سر اور کندھے پر چوٹیں آئیں۔ اہلخانہ نے بتایا انہیں کینسر ہے۔ دہلی ہائیکورٹ نے بھی جیل حکام کو ہدایت کی کہ شاہد یوسف سمیت تمام متاثرہ قیدیوں کو طبی معائنے کیلئے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ سید علی گیلانی نے بھارتی وزیراعظم مودی کے بیان کہ ’’ہمیں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو ختم کریں گے، کی رٹ لگانے سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دہشت گردی کیا ہے اور کون اسے بڑھاوا دے رہا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی پوری طرح عکاسی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین دشمنی کی مثال قائم کررہا ہے۔رپورٹ میں یہ چشم کشا انکشاف بھی کیاگیا ہے کہ بھارتی فوجی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کی مدد سے آزادی کے لیے جدوجہد کرنے اور بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیری نوجوانوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاراستعمال کررہا ہے۔ اسرائیل غزہ اور لبنان میں فاسفورس بم استعمال کرتا رہا ہے۔مودی کے دورہ اسرائیل کے بعد نہتے کشمیریوں پر فاسفورس بم استعمال کیا گیا۔ گزشتہ روز بھارتی فوج نے پلوامہ میں 4 گھروں کو کیمیائی ہتھیاروں سے اْڑا دیا۔ 3 کشمیری شہید ہو گئے۔گزشتہ سال سے بھارتی فوج نے کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال کر کے بربریت کی نئی تاریخ رقم کی اور سیکڑوں کشمیریوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنا ڈالا۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ بھارتی فوج کے اس مظالم پر عالمی برادری نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اپنے لب سیے رکھے۔ گزشتہ سال جولائی میں بھارتی فوج نے حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کو شہید کر دیا۔ برہان وانی سوشل میڈیا پر بھارتی مظالم کو منظرعام پر لانے کے باعث کشمیریوں میں بہت مقبول تھا۔بھارتی ظلم و ستم کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ بھارتی فوج کی تشدد کی ہر کارروائی کے بعد کشمیری پہلے سے زیادہ جوش و جذبہ سے گھروں سے باہر نکل آتے اور بھارتی فوج پر پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں۔ بھارت کا ظلم و تشدد امن کی عالمی قوتوں کیلئے ایک چیلنج بن چکا ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ مغربی دنیا میں کہیں بھی کوئی المیہ رونما ہو جائے تو یہ امن پسند قوتیں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں لیکن کشمیر میں ہونے والے ظلم و تشدد پر یہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔بھارت نے 1948میں خودمختار ریاست کشمیر کے غالب حصے پر اپنا تسلط جمانے کے بعد حق خودارادیت کیلئے آواز اٹھانے والے کشمیری عوام پر مظالم کا جوسلسلہ شروع کیاتھا وہ آج بھی جاری ہے۔ گزشتہ 70 برس کے دوران بھارتی فوجوں کے ظلم و جبر سے بچوں اور خواتین سمیت لاکھوں کشمیری عوام جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت کشمیری عوام کو ان کی آزادی کی جدوجہد کے راستے سے نہیں ہٹا سکا اور نہ ہی ان کی آواز خاموش کراسکا ہے۔کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی اور تنازع کا کلیدی محرک ہے۔ اس تنازع کو حل کرنے کیلئے دونوں ممالک نے جنگوں سے لے کر مذاکرات تک ہر مرحلہ طے کیا مگر اس کا کوئی حل نہ نکل سکا اور یہ جوں کا توں چلا آ رہا ہے بلکہ اب کشمیریوں کی تحریک آزادی میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ بھارتی ظلم و تشدد میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان کو ان بھارتی مظالم کے خلاف اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے پلیٹ فارم پر بھرپور آواز اٹھانی چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ کئی کشمیری نواجونوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔پوری امت مسلمہ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے۔ عالمی برادری کا اس کا نوٹس لینا چاہیئے۔

*****