- الإعلانات -

مریم نوازاور ان کا انقلابی ویژن

مریم نواز کے بارے میں لکھناکچھ اس لئے بھی مشکل ہے کہ ان کے والد اس ملک کے اقتدار اعلیٰ کے سربراہ ہیں ۔ حکومت میں شامل کسی فرد کے حوالے سے اگر اچھی بات لکھی جائے تو اسے خوشامد کہا جاتاہے اور اگر تنقید کی جائے تو الزام لگتا ہے کہ اپوزیشن سے مفاد حاصل کیے جارہے ہیں میں کافی دن پہلے مریم نوازکے حوالے سے لکھنا چا رہا تھا مگر اسی گومگو کا شکار تھا کہ لکھوں یا نہ لکھوں بالآخر فیصلہ کیا کہ جو اچھی بات ہے اسے اچھا کہنا چاہیے کیونکہ اگر اچھا نہ کہا جائے تو یہ بھی قلم کا حق ادا نہ کرنے کے مترادف ہوتاہے ۔ ایک عام کہاوت ہے کہ بڑے درخت کے نیچے کوئی نیا پودا نہیں پنپ سکتا اور نہ ہی اس کا قد کاٹھ بلند ہوسکتا ہے مگر برصغیر پاک و ہند میں کچھ خاندان ایسے ہیں جن سے وابستہ افراد نے اپنی الگ پہچان بنائی ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بینظیر بھٹوایک طویل جدوجہد کے بعد اپنا مقام بنایا اوروزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچیں اور پھر اسی مقام کی حق دار ٹھہری جہاں ان سے قبل ان کے والد اور دوبھائی پہنچ چکے تھے ۔ اسی طرح گجرات کے دو بھائیوں نے ایک ہی دائرے میںرہتے ہوئے اپنا الگ الگ سیاسی مقام بنایا۔ بات مریم نواز شریف کی ہورہی تھی کہ برسبیل تذکرہ ان افراد کا ذکر بھی آگیا۔ مریم نواز وزیراعظم کی صاحبزادی ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سیاسی و اخلاقی اقدار کی بھی مالک ہیں ان کا اپنا ایک ویژن ہے اور ایک اپنی الگ سوچ ہے ۔ مریم نواز سے میری پہلی
ملاقات برادرن مظہر برلاس نے برسوں قبل کروائی تھی اور یہ ملاقات صرف تعارف تک ہی محدود تھی اور یہ بھی اتفاق ہے کہ میری ان سے دوسری ملاقات بھی مظہربرلاس کے توسط سے ہوئی۔ اس ملاقات کا پھر کبھی بیان کرینگے ۔ زیر نظر تحریر میں مریم نواز شریف کی جانب سے شروع کیے جانے والے ان انقلابی اقدامات کا تذکرہ کرناہے کہ جن پر وہ عمل کرنا چا رہی ہیں۔ مریم نواز کو پہلی بار جب موجودہ حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سربراہ بنایا تو پاکستان سے غربت کے خاتمے کیلئے ان کے ذہن میں ایک طویل پروگرام تھا جس پر اگر عمل کیا جاتا تو پاکستان میں بسنے والا کوئی بھی غریب ہاتھ نہ پھیلاتا بلکہ وہ اپنے پیروں پر خود کھڑا ہوکر معاشرے کی خدمت کرتا۔ ایک نشست میں مریم نواز شریف نے اس بارے میں تفصیل سے بات کی میری خوش قسمتی تھی کہ میں بھی اس نشست میں موجود تھا۔ بھلا ہو میرے ساتھی اخبار نویسوں اور کالم نگاروں کا کہ جب انہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سربراہ مقرر کیا گیا تو ان کے خلاف کچھ کالم لکھے گئے اور خدشہ یہ ظاہر کیا گیا کہ کھرب پتی باپ کی بیٹی جو غیر منتخب ہے وہ اس ادارے کا سربراہ بنا کر ظلمِ عظیم کردیا گیا ہے کہ اب اس فنڈ کی رقم غریبوں پر صرف ہونے کی بجائے رائیونڈ پہنچ جائے گی، الزام شدید تھا چنانچہ مریم نواز نے اس عہدے سے استعفیٰ دینے میں ہی عافیت سمجھی۔ میرا بسیرا اسلام آباد میں ہے اور کئی سالوں سے یہ میرا جائے مسکن بھی ہے۔ یہ شہر مجھے اچھا بھی لگتا ہے کہ میرے بچپن ، میرے لڑکپن اور میری جوانی کی بہت ساری یادیں اس شہر بے مثال سے وابستہ ہیں اس لئے ہر وہ شخص مجھے اچھا لگتا ہے جو اس شہر کی بہتری کیلئے کوئی قدم اٹھاتا ہے یا اس بارے میں سوچتا ہے ۔ اسلام آباد شہر اقتدار ہے مگر یہاں کم آمدنی والے طبقہ کی بھی اکثریت ہے اور اسلام آباد کے فیڈرل ایریا میں جا کر یقین نہیں آتا کہ یہ وفاقی دارالحکومت کا حصہ ہے ۔ مریم نواز نے یہاں دو انقلابی اقدامات شروع کیے ہیں جن کی ستائش لازم ہے ۔ ایک روز وہ وزیراعظم ہاﺅس سے چادر اوڑھے بغیر کسی پروٹوکول سے نکلیں اور انہوں نے اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں قائم لڑکیوں کے تمام پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں کا خودجاکر معائنہ کیا اور ان کی حالت زار کو خود اپنی آنکھ سے دیکھا۔ وزیراعظم کی سیکورٹی پر مامور عملے کو جب علم ہوا کہ وزیراعظم کی صاحبزادی فیڈرل ایریا میں سکولوں کے دورے کرتے پھر رہی ہیں اس سے پہلے کہ سیکورٹی سٹاف الرٹ ہوتا وہ اپنا دورہ مکمل کرکے واپس وزیراعظم ہاﺅس پہنچ چکی تھیں اب انکا ارادہ ہے کہ وفاق کے دیہی علاقوں میں جتنے بھی لڑکیوں کے پرائمری ، مڈل اور ہائی سکول ہیں انہیں اپ گریڈ کیا جائے اس اقدام کی بدولت وفاقی علاقے میں کوئی بچی تعلیم حاصل کیے بغیر نہ رہے گی ۔ مریم نواز کا دوسرا انقلابی اقدام صحت کے حوالے سے ہے انہوں نے ایک روز اچانک پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں یہ حالت زار دیکھی اس پر انہوں نے ڈاکٹر مصدق ملک سے مل کر ہیلتھ انشورنس کا پروگرام بنایا کہ وہ تمام لوگ جو غربت کی زیرو لائن پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کیلئے سوشل سیکورٹی کے ذریعے علاج معالجہ کا اہتمام کیا جائے ۔ اس ضمن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کرائے جانے والے غربت کے سروے میں شامل تمام افراد کا ڈیٹا اٹھا لیا گیا ہے اور ان کے قریب ترین ہسپتالوں کو پینل پر شامل کرلیا گیا ہے ۔ اسلام آباد کے دو بڑے معروف ہسپتال اس پروگرام کے تحت اب غرباءکا علاج بھی کریں گے۔ ابتداءمیں یہ پروگرام اسلام آباد سے شروع ہوگا اور پھر ملک بھر میں پھیل جائے گا۔ کسی غریب کو ہنگامی حالت میں علاج کیلئے اگر 6لاکھ روپے کا آسرہ مل جائے تو اس سے بڑی نیکی کیا ہوگی ۔ اگر پرویز الٰہی اپنے دور میں 1122 پولیس وارڈن نظام اور پٹرولنگ پولیس کا نظام بنائے اور مریم نواز صحت عامہ اورتعلیم کے حوالے سے کوئی انقلابی اقدام کرے تو اس کی ستائش بھی ملک گیر سطح پر ہونی چاہیے۔ میں نے گزشتہ روز اس پروگرام کے حوالے سے اپنے دوست اور بھائی ڈاکٹر عاشر سے بات کی تو وہ حسب عادت مسکرایا اور کہا ۔
آﺅ ریت کی دیوار پر وہ نقش قدم چھوڑ چلیں
جس کی آتی ہوئی نسلوں کو ضرورت ہوگی