- الإعلانات -

جنرل راحیل شریف قوم اورپاکستان کو آپکی ضرورت ہے

اس میں شک کوئی نہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت ختم ہونے میں ابھی10مہینے باقی ہیں ۔ مگرراحیل شریف نے سیاسی لیڈروں کے بیانات اورگر دشی افواہوں کے پیش نظر اس بات کی وضا حت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی دوران ملازمت میں تو سیع کے خواہاں نہیں۔ ملک کے مختلف سیاسی پا رٹیوں،جس میںپاکستان پیپلز پا رٹی، پی ایم ایل (ن)،تحریک انصاف ،اور ایم کیو ایم شامل ہے ،انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی اس بیان کو سراہا اور اس کو جمہور یت اور ملکی جمہوری نظام کے لئے نیک شگون قرار دیا۔ایک معقولہ ہے کہ بغل میں چھری اور مُنہ پہ رام رام۔ پاکستان پیپلز پا رٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کسی صورت راحیل شریف کی مدت ملازمت کی تو سیع کی حق میں نہیں۔وہ ملک میں اپنی مر ضی کی حکومت کرنا چاہتے ہیں جسکی راہ میں بڑی رکا وٹ فوج اور موجودہ سپہ سالار ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ فوج کا ماضی میں کردار زیادہ اچھا نہیںرہا اور اُس سے ایسے ایسے غلطیاں سر زد ہوئی ہیںجو نا قابل معافی ہے۔ مگر ملک میںدہشت گردی اور انتہا پسندی کے پسے پاکستانی ،راحیل شریف کے ماضی قریب کے اقدامات سے متا ثر ہوکرآس لگائے بیٹھے ہیں کہ سپہ سالار وطن عزیز میں امن وآمان بحال کرنے میںضرور کامیاب ہوگا ۔ مسلح افواج اور سپہ سالار نے وطن عزیزمیں بحالی امن کے لئے جو اقدامات کئے ہیںعوام اُس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں تو سیع چاہیں یا نہ چاہیں مگر 90 فی صد عوام، مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین کی اس بات کی قطعاً حمایت نہیںکرتے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جنگ سپہ سالار کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے پایہ تکمیل کو نہ پہنچے۔عوام چاہتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی ، انتہا پسندی کی جنگ کو جاری رکھنے اور امن و آمان کی بحالی تک چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی دوران ملازمت میں تو سیع کرنی چاہئے۔ پا کستانیوں کاعوامی ر د عمل، اپنے 90 فی صد منتخب نمائندوں اورسیاست دانوں سے قطعاً مختلف ہے۔ 90 فیصد سیاست دانوں کے مطابق فو ج ایک ادارہ ہے اور فوج کی اداراتی سٹرکچر میں کسی کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ الحمد اللہ اس میں کوئی شک نہیں کہ راحیل شریف کی قیادت میں مسلح افواج ایک مضبوط اور منظم ادارہ ہے۔سیاست دانوں کی اس بات سے اتفا ق نہیں کیا جا سکتا ،کیونکہ جس طرح ہاتھ کی تمام انگلیاں ایک برابر نہیںہیں اسی طر ح فوج کے سارے جنرلز بھی ایک جیسے نہیں ۔ اُنکے مزاج، سوچ ، فکر اور لائن آف ایکشن میں ہمیشہ فرق ہوگا اور رہے گا۔ میں ایسے بُہت سارے اداروں کی مثالیں دے سکتا ہوں کہ ایک سربراہ کے دور میں اسکی کا رکر دگی ایک ہوتی ہے اور دوسرے سربراہ کے دور میں اسکی کا رکر دگی کچھ اور ہو تی ہے ۔ پاکستان سٹیل ملز ما ضی میں منا فع بخش ادارہ ہوا کرتاتھا مگر اب نا اہل سربراہوں کی وجہ سے یہ مل بند پڑا ہے۔ اسی طر ح ہم پی آئی اے کی مثال بھی دے سکتے ہیں۔ جنرل نو ر خان کے دور میں پی آئی اے ایک منافع بخش ادارہ ہوا کرتا تھا اور پی آئی اے نے دنیا میں کئی ایر لائن کھڑے کئے جس میں بنگلہ دیش کی بو جا ائر لائن اور متحدہ امارات کی امیرٹ ائر لائنEmirat Air Line شامل ہے۔ مگر پی آئی اے اب خود نارمل قیادت کی وجہ سے تباہی اور بر بادی کے دہانی پرہے اور کئی سو ارب روپے خسارے میں ہے۔ ہم اپنی ملک کی مثال بھی دے سکتے ہیں جس وقت ما ضی میںوطن عزیز کو اچھی اور مخلص قیا دت میسر تھی تو اُس دور میں پاکستان بیلجیم، انڈونیشیائ، جرمنی اور دوسرے کئی ممالک کو قرضے دیا کرتا تھا مگر اب وہی پاکستان ناا ہل قیادت کے ہاتھوں میں ہے جسکی وجہ سے پاکستان 100 ارب ڈالر کا مقروض ہے اور اپنی جی ڈی پی کا 50 فی صد قرض اور سود کی ادائیگی میں دے رہا ہے۔ ان تمام باتوں سے میرا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ترقی یافتہ ممالک کی طر ح ادارے اُ س مقام تک نہیں پہنچے جو کسی کے آنے اور جانے سے نہ بدلے ۔ خداوند لا عزال نے پاکستا ن کو جنرل راحیل شریف کی شکل میں ایک بھر پور صلاحیت والا اچھا لیڈر عطاکیا ہے اور وطن عزیز کو جتنے بھی اندرونی اور بیرونی مسائل درپیش ہیں اُسکو موثر انداز سے حل کر سکیں۔ وطن عزیز کاسب سے بڑا مسئلہ دہشت گر دی اور انتہا پسندی ہے جسکی وجہ سے ۰۶ ہزار پاکستانیوں کی قیمتی جانوں کی ضائع ہونے کے علاوہ پاکستان کو اقتصادی طورپر ۰۰۱ ارب ڈالر کا نُقصان بھی پہنچا ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں مسلح افواج نے دہشت گر دی اور انتہا پسندی پر بڑی حد تک قابو بھی پالیا ہے۔ اگر موجودہ سپہ سالار کی مدت ملازمت میں تو سیع کی جائے تو پو را یقین کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں اس نا سو ر پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قابو پالیا جائے گا۔پاکستانی سیاست دان بڑے بڑے دعوے کر تے ہیں مگر سیاسی پا رٹیوں اور قیادت کی نااہلی اور بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان کی سماجی، اقتصادی اور بد حالی ہمارے سامنے ہیں۔ اُس وقت تک ملک میں بے روز گاری، لاقانونیت، مہنگائی قابو کرنے میں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب اورپاکستانی وسائل سے استفادہ نہیں کیا جا سکتاجب تک ملک سے دہشت گر دی کو جڑ سے نہیں اُکا ڑا جائے گا۔ اگر ہم موجودہ چیف آرمی سٹاف کی شخصیت پر نظر ڈالیں تو میرے خیال میں راحیل شریف واحد سپہ سالار ہے جو ملکی مسائل کو سمجھنے اور انکو حل کرنے کا ادارک رکھتے ہیں۔ اب تک پاکستان اورپو ری دنیا میں پاکستان کے موجودہ مقبول ترین کے بارے میں سروے کئے جا چکے ہیں اوران سروے اوررائے عامہ کے رپورٹس کے مطابق جنرل راحیل شریف پاکستان کے مقبول ترین جنرل اور لیڈر ہیں۔ میرے خیال میں یہ واحد پاکستانی جنرل یا لیڈر ہے جنکو پاکستانی عوام نے دور اقتدار اُنکی زندگی میں انتہائی پسند کیا ۔ میں پاکستانی عوام اور مختلف سیاسی پا رٹیوں کی لیڈران سے استدعا کرتا ہوں کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اورفی ا لوقت مسلح افواج کی کمان کسی اور کو دینے سے پاکستان کی پالیسیوں کی تسلسل میں رکا وٹ ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں کسی کے آنے یاجانے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر پاکستان میں اداروں کی حالت وہ نہیں جو ترقی یافتہ اقوام میںہے یہاں جنرل راحیل شریف کے جانے سے اور دہشت گر دی کے خلاف جنگ کی تسلسل پر ضرور اثر پڑے گا۔ جنرل راحیل شریف شاید پاکستانی سیاست دانوں اور حکمرانو کو آپکی ضروت نہ ہو مگر ملک اور قوم کو آپکی ضروت ہے۔