- الإعلانات -

بابری مسجد کی شہادت

بھارت کے صدر پرناب مکھرجی نے اپنی نئی کتاب میں سنسنی خیز انکشافات اور سیاسی شخصیات پر کھل کر تنقید کی ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر کھولنا راجیو گاندھی کا غلط فیصلہ تھا اور بابری مسجد کو شہید کرنا ایسی غداری تھا جس پر تمام بھارتیوں کے سرشرم سے جھک جانے چاہئیں۔ مسجد شہید کرکے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ 1980ءسے 1996ءکے دور کا احاطہ کرنے والی پرناب مکھرجی کی کتاب ”دی ٹربولینٹ ڈائیرز“ میں لکھا ہے کہ بابری مسجدکی شہادت اس دورکے صدرنرسیما راو¿ کی سب سے بڑی ناکامی تھی۔ انہوں نے نرسیما راو¿سے کہا تھا کہ کیا انہیں کسی نے بھی خطرے سے خبردار نہیں کیا تھا کہ بابری مسجدکی شہادت کے عالمی اثرات بھی ہوں گے۔ انہیں سینئر رہنماو¿ں سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ انہیں ایک اسلامی ملک کے وزیر خارجہ نے کہاکہ اس طرح مسجد تو اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں بھی شہید نہیں کی۔ ایک اور مقام پر پرناب مکھرجی نے لکھا ہے کہ جنگ عظیم دوم کی فتح کی تقریبات میں شرکت تحریک آزادی کی بے عزتی کے مترادف ہے۔مسجد کی شہادت سے قبل نرسمہا راو¿ سارے ملک کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے رہے کہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں بھی مسجد کی برقراری اور نقصان نہ پہنچانے کا حلف نامہ نرسمہا راو¿ نے اپنے دوست کلیان سنگھ سے داخل کروایا اور جس وقت مسجد شہید کی جارہی تھی ،نرسمہا راو¿ سوتے رہے۔ کارسیوکوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل تھی۔ پولیس اورنیم فوجی دستوں کو مداخلت سے روک دیا گیا اور نہ صرف مسجد شہید کردی گئی بلکہ اس کی جگہ عارضی مندر کی تعمیر تک نرسمہا راو¿ کی مجرمانہ لاعلمی برقرار رہی ہے ۔اس لئے بابری مسجد کی شہادت کا کلیدی مجرم نرسمہا راو¿ کو کہا جاتا ہے۔مسجد کی شہادت یقینی طورپر دنیا بھرکے مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیز اقدام تھا اس لیے پوری دنیا میں مسلمان ہندوﺅں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ حکومت وقت نے مسجد کی شہادت کے وقت فوج اورپولیس کومشتعل ہندوﺅں کے کیخلاف مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا وہی حکومت مسجد کی شہاد ت کے بعد مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتی رہی اوراندرون خانہ ہندو انتہا پسندوں کی سپورٹ کرتی رہی۔ بعد میں بھارت کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے بابری مسجد پراپنی سیاست چمکائی لیکن کسی میں اس مسجد کو تعمیر کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کا وقت آیا تودوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ مسجد کی شہادت میں اس وقت کی حکومت کا بہت بڑا عمل دخل تھا۔ رپورٹ میں ایل کے ایڈوانی منوہر جوشی اورکاٹھیا کومسجد کی شہادت کے منصوبے میں براہ راست ملوث پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مرلی منوہر جوشی اورایڈوانی نے اپنی نگرانی میں تمام انتظامات کو حتمی شکل دی اورمسجد کی شہادت کے وقت یہ دونوںلیڈر مسجد کے سامنے واقع ”رام کتھا کنج“ کی عمارت میں موجود تھے جوبابری مسجد سے صرف دوسومیٹر دورتھا اس رپورٹ نے جہاں ہندوﺅں کے سکیولر ازم اورلبرل ازم پر سے پردہ اٹھایا وہاں بھارتی لیڈروں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ۔بابری مسجد کی شہادت کے الزام میں ایل کے ایڈوانی اعترافی بیان بھی دے چکے ہیں لیکن بھارتی ایوان انصاف کوان کے اندرموجود مجرم دکھائی نہیں دے رہا اس لیے وہ اب تک آزاد پھر رہے ہیں۔ہندوو¿ں کا الزام ہے کہ مسلمانوں نے ظہیر الدین بابر کی بادشاہت کے زمانے میں رام کی پیدائش کے مقام پر مندر کو تباہ کرکے مسجد بنادی تھی۔اس واقعے کے بعد ہندو ستان میں ایک تنازعہ اٹھا اورواقعے عدالتی تحقیق کا کام الہ آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردیا گیا۔ 30 ستمبر 2010 ءکو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا تاریخی فیصلہ سنایا جس کے مطابق بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ بابری مسجدکی اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔بابری مسجد شہید کرنے کے واقعہ کے دس دن کے بعد جسٹس لبراہن کمیشن کا قیام عمل میں آیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر یعنی 16 مارچ 1993ءتک اس بات کا پتہ لگا کر اپنی رپورٹ دینی تھی کہ کن حالات کے نتیجے میں بابری مسجد مسمار کی گئی۔ لیکن یہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے طویل انکوائری کمیشن ثابت ہوا اور اس کی مدت کار میں ریکارڈ 48 مرتبہ توسیع کی گئی اورکمیشن میں متعدد مرتبہ توسیع دیے جانے کے باعث لیبرہان کمیشن کافی عرصے سے تنازعات کا شکار رہا اور بالاخر17 سال بعد جسٹس لیبرہان نے 30 جون 2009 ءکو رپورٹ ہندوستانی وزیراعظم کو پیش کردی اور یہ رپورٹ نومبر2009ءکو ہندوستانی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔ تاہم اس دوران بابری مسجد کی عدالتی کارروائی بھی جاری رہی اور دونوں فریقوں کی جانب سے15 ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی پیش کی گئیں ۔اس وقت سب کی نظریں اس ملک کی سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں اور فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ تاہم آج دنیا بھر میں عدالتیں متعلقہ مقدمات کو مقررہ وقت پر نمٹا کر مظلوم کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن ہندوستان کی عدلیہ نے ایک انتہائی اہم نوعیت کے مقدمہ کو گزشتہ 22 سال سے لٹکا کر رکھا ہوا ہے اور اس عرصے میں قتل و غارت میں ملوث کئی اہم مجرم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں جبکہ کئی دندناتے پھر رہے ہیں۔اگر بھارتی صدر یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ اپنے منصب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عدالت میں حقائق بیان کریں تاکہ عدالت کو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو اور حق دار کو حق مل جائے ۔