- الإعلانات -

امریکی کانگریس

امریکا ماضی میں کبھی فراخ دل رہا نہ ہی حقیقت پسند’ہمیشہ امریکا نے صدیوں کی اپنی تنگ نظری کی پالیسی کل بھی اختیار کیئے رکھی آج جب دنیا انسانی ترقی کی انتہاؤں کوچھورہی ہے امریکا’ بڑی عالمی کرنسی کے اجارہ دار کا علم تھامے وہیں پہ کھڑا ہے’ڈالرکے استحقاق کے زعم میں وائٹ ہاؤس اپنے آپ کو’عالمی سرمائے’کا جیسے کوئی آقا سمجھتا ہو؟’بہت تکبرہے امریکا کے علاوہ دنیا کی ان چند منہ زور سامراجی چلن رکھنے والی طاقتوں کوجودنیا کے ترقی پذیر ممالک کو زمین پررینگنے والے حشرات الاارض سمجھنے کی عادتوں میں مبتلا ہیں ، جبکہ اصل میں وہ صریحاً غلطی پر ہیں افسوس! اکیسیویں صدی کا دوسرا عشرہ ختم ہونے کو آرہاہے امریکا مگرمکمل انسان پروری کی راہ پرنہیں آیا’ بلیوں’ کتوں’خچروں’پرندوں سے تواس کی محبتیں سنبھالی نہیں جاتیں مگرکمزوراوربے بس انسانوں سے ا مریکا نفرت ہی نہیں کرتا بلکہ ترقی پذیر ممالک کے اقوام کے بنیادی حقوق غصب کرتا ہے، ان کے قدرتی وسائل کومختلف حیلے بہانوں سے لوٹتا ہے اورانکی زیرزمین دولت کوچھینے کے جواز کا متلاشی رہتا ہے ۔پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے متوقع سربراہ کے نرم دمِ گفتگو کا نپا تلا اورکچھ کردکھانے کے انداز سے دنیا یہ نتیجہ اخذ کرلے کہ اب اسلام آباد میں وہ ہی کچھ ہوگا جو پاکستان کے کروڑوں عوام چاہیں گے قوموں کی زندگیوں میں اکثروبیشتر ایسے تازہ’جوشیلے اور امیدافزاخوشگوارسیاسی وثقافتی فضاؤں کے مقبولیت کی انتہاؤں کو چھونے والے مواقع آتے ضرور ہیں دیرآید درست آید کے مصداق امریکی حکام کوبہرحال تسلیم کرنا ہوگا کہ ماضی کے برعکس اب پاکستان کے تجارت پیشہ حکمران طبقات میں پروان چڑھنے والی کرپشن آلودہ جمہوریت کے نام پر’جمہوری ملوکیت’کا ناپسندیدہ سلسلہ منقطع ہوچکا ‘ پاکستان چلے گا’ملک میں ترقی ہوگی اور پاکستان میں آج کے بعدخالص عوامی پائیدار جمہوری راج اور زیادہ مستحکم ہوگا جیسا امریکا چاہے گا پاکستان میں ویسا اب نہیں ہوگا امریکا کوپاکستان کی آزادی پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرنا ہوگا پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہونگے۔ امریکی کانگریس کے منظورکردہ بل کے تحت پاکستان کو150 ملین ڈالرکی دفاعی امداد کینسل کی گئی۔ واہ سبحان اللہ پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کاعندیہ بھی دیاگیا ، پینٹاگان’ وائٹ ہاؤس اورادھرنئی دہلی کے ایوانِ اقتدارمیں نجانے کس مفادی نے اپنے کس مذموم ایجنڈے کے گھناؤنے تصورات کوعملی جامہ پہنانے کی بد نیتی سے مفروضہ پھیلایا تھا کہ پاکستان میں دومخصوص سیاسی پارٹیوں کے بغیرجمہوریت کا سسٹم قائم نہیں رہ سکتا لہٰذاکبھی ‘اے’ اورکبھی’بی’ پارٹی ہی کی حکومتیں جمہوریت کے نام پرچلتی رہیں گی اورعوام کی اکثریت ہرپانچ سال تک اِن ہی کے اشاروں پر ووٹ بکس بھرتے رہیں گے پاکستان میں اعلیٰ عدالتیں کیا متحرک ہوئیں کروڑوں عوام کی سنی گئی، پاکستان کے اقتدار کو جواپنے گھروں کی لونڈی سمجھتے تھے آج کہاں ہیں؟ پاکستان کو اپنی وراثت اور جاگیر سمجھنے والے نشانِ عبرت بن گئے کچھ بننے والے ہیں، اب پکڑ نیچے سے نہیں اوپر سے ہوگی، پاکستانی قوم کی عوامی شعور میں بیداری کی لہر نے جنوبی ایشیا میں امریکی چھتری تلے بھارتی بالادستی کے خواب کے تاروپود کو قوم نے منتشرکرکے رکھ دیا اب افغانستان میں امن ہوگا اور بھارت کو مسئلہِ کشمیر کے پرامن حل کیلئے اپنے قدم بڑھانے ہونگے، حقیقی عوامی طاقت اپنے حکمرانوں کی پشت پر موجود رہے تو سامراجی عزائم کے حامل ممالک ایسی بیدار صفت اقوام کا بال تک بھی بیکا نہیں کرسکتیں ،یقیناًامریکی اور بھارتی فیصلہ ساز جان گئے ہونگے کہ پاکستان میں دوپارٹی سسٹم کی ریت روایت قائم کرنے والے غلط تھے ‘را، موساد اورسی آئی اے’کی مشترکہ پروپیگنڈا مشنری ناکام ہوئی ہے، پاکستانی عوام کے جمہوری شعورکے رجحانات اور میلانات کا متذکرہ بالا تینوں خفیہ ایجنسیوں نے غلط من گھڑت اور بے سروپا مفروضات پر رپورٹیں مرتب کیں ایسی بوگس ڈیسک رپورٹس ٹرمپ اورمودی جیسے ناتجربہ کارجنونی اورانتہا پسندوں نے مان لیں وائٹ ہاؤس اورنئی دہلی سمیت پینٹاگان بھی اِسی فرضی نکتہ نظر کے اسیرمعلوم دئیے ،جنہوں نے پاکستان کی سابقہ کرپٹ حکمران طبقات کے منہ میں اپنے متعصبانہ الفاظ دے کر انہیں انکے انجام تک پہنچا دیا،یوں پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا روشن سورج طلوع ہوا اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ منتخب حکمران جماعت کوملک میں درپیش اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا،آئی ایم ایف سے انہیں اپنے محدودمالیاتی انفراسٹرکچرکے دائرے میں اپنی مہارت’ صلاحیت’جرات اورپیشہ ورانہ حکمتِ عملی سے باعزت مذاکرات کرنے ہونگے’بیس پچیس برس کی اختیار کردہ گمراہ کن غلط اقتصادی پالیسیوں نے پاکستان پر بیرونی قرضوں کاحجم بڑھا کر قوم اورملک کو آج اِس بد حالی پر لا کھڑا کیا ہے پھر بھی مایوسی کا مقام نہیں آئی ایم ایف کے دیوہیکل قرضوں کی ضمانت اب پاکستان کے بہادر اور محبِ وطن عوام کے علاوہ کوئی اور نہیں دے سکتا، پاکستان کی قیادت اگر جرات مند ہو’بے داغ ہو’صاحبِ کردار ہو’ ایمان داراورصالح ہو’ تویہ کوئی مشکل مرحلہ نہیں عمران خان کی مقبولِ عام شخصیت نے پاکستان کی جمہوری قیادت کی تاریخ میں یقیناًایک نیا باب رقم کیا ہے، عوام نے ان پر بھروسہ کیا خان کہتا ہے کہ وہ سادگی اپنائیں گے قوم سادگی اپنائے’قومی سیاست کے مفلوج زدہ جسم میں عمران خان نے ‘لیکجز’ کا کھوج لگا کر انہیں اگر بند کر دیا لوٹی گئی قومی دولت بیرونِ ملک سے واپسی کیلئے انہوں نے فوری ہنگامی اقدامات اٹھانا شروع کردئیے اور دنیا کے سامنے جرات مندی اور دلیرانہ سچائی سے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ کرلیا تو بھاڑ میں جائیں امریکی کانگریسی کی بلیک میلنگ اور خطہ میں بھارتی بالادستی کے عزائم جنوبی ایشیا میں پاکستان کی بھی اپنی ایک حقیقی جغرافیائی حیثیت ہے عمران خان نے یہ حقیقت دنیا سے منوانی ہے پاکستان کا مالیاتی بحران چٹکیوں میں حل ہوگا کئی ایشیائی ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے امریکی اور آئی ایم ایف کی مالی مداخلتوں کے بغیر بھی پاکستان ترقی خوشحالی اور امن کی نعمتوں سے مالا مال ہوسکتا ہے ۔