- الإعلانات -

لطیف اللہ محسود کا اعتراف اور پاکستان میں دہشتگردی

آج کے کالم کیلئے موضوع تو پانی و توانائی کا بحران اور پاکستانی دریاﺅں پر بھارتی ڈاکے چنا تھا کیونکہ بھارت بڑی تیزی سے پاکستان کے حصے کے پانی پر قبضہ کرتا جارہا ہے جبکہ اس آبی تنازعے پر وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت کوئی بات سننے اور ماننے بھی کو تیار نہیں اور روایتی ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے لہذا پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو جلد از جلدورلڈ بنک تک لے جائے کیونکہ سندھ طاس معاہدے کا ثالث ورلڈ بنک ہی ہے ۔ یہ ایک تفصیلی موضوع ہے اس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے لیکن اس دوران حکیم اللہ محسود کے بھائی لطیف اللہ محسود کے اعترافی بیان کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے جسمیں انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ اور افغانستان ایجنسی NDS کے گہرے مراسم اور روابط ہیں ۔ لطیف اللہ محسود 2013ءسے گرفتار ہے اسے امریکی فورسز نے اس وقت گرفتار کرلیا تھا جب وہ افغان فوج کے ایک قافلے میں خفیہ طریقے سے اس وقت کے صدر حامدکرزئی کی ایما پر افغان خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ حکام سے ملنے جارہے تھے۔ بعدازاں امریکی فورسز نے اسے پاکستان کے حوالے کردیا تھا لیکن حامد کرزئی نے اس پر امریکی حکام سے خوب احتجاج کیا تھا۔ لطیف اللہ محسود کا یہ اعترافی بیان یقیناً نہایت ہی اہم ہے۔ انہوں نے وہی کچھ کہا ہے جو پاکستان ایک عرصہ سے کہتا آرہاہے کہ پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی کے پیچھے بھارتی اور افغان ایجنسی این ڈی ایم کا مشترکہ ہاتھ ہے۔ محسود نے برملا کہہ دیا ہے کہ یہ دونوں ایجنسیاں پاکستان میں دہشت گردی کراتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”را“ مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان کے عبدالولی کو پیسہ اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ اغواءکیلئے لوگوں کو ٹیلی فون پر دھمکیاں دیتا تھا ۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پٹھان کوٹ حملے کے بعد پاکستان پر دباﺅ بڑھایا جارہا ہے کہ وہ بھارت کو مطلوب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے ٹھوس شواہد اورخودبھارتی آلہ کاروں کے اعتراف کے باوجود کسی کے کان پر جوں نہیںرینگتی ۔ پاکستان کی بھارتی سازشوں کےخلاف دہائی پر عالمی طاقتوںکا گونگا اور بہرہ ہو جانا پاکستانی عوام میں ان طاقتوں کے خلاف نفرت کو مہمیز دیتا ہے ۔کئی پاکستانی سیاسی حلقے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور نیٹو حکام سے عدم تعاون پر زور دینا شروع کردیتے ہیں۔ لطیف اللہ محسود کا یہ بیان امریکی حکام کے کان کھول دینے کیلئے کافی ہے جو پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ اٹھتے بیٹھتے کرتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دنیا نے یہ کیوں طے کرلیا ہے کہ خطے میں ہونے والی ہردہشت گردی کی کارروائی کے پیچھے پاکستان کاہاتھ ہے۔ افغانستان میں کوئی واقعہ ہوتو الزام پاکستان کے سر، اور بھارت میں کوئی دہشت گردی ہوتو ذمہ دار پاکستان کوٹھہرا دیا جاتا ہے ۔کیا بھارت جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے جہاں صرف فرشتوں کا بسیرا ہے کیا دنیا نہیں جانتی کہ بھارت میں کتنی علیحدگی پسند تحریکیں مودی کے بھارت سے الگ ہونے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں۔ کیا سکھوں کو گولڈن ٹیمپل میں زندہ جلا دینا اور ٹیمپل کو ان کا قبرستان بنا دینا کیا کبھی سکھ برادری بھول سکتے ہیں کبھی نہیں ۔ خالصتان تحریک ایک بار پھر منظم ہورہی ہے ۔بھارت کو اپنے دشمن اپنے گھر سے ڈھونڈنے ہونگے۔ پرائی منجی تلے ڈانگ پھیرنے سے معاملہ حل نہیں ہوگا۔ عالمی برادری خصوصاً امریکی حکام کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حقائق کو نظر انداز کرکے صرف پاکستان کا بازو مروڑنے کی کوشش میں لگے رہیں۔یہ رویہ پاکستان کو بلاجواز دباﺅ میں رکھنے کے مترادف ہے جبکہ بھارت کے پاکستان کے خلاف ارادے اور کارروائیاں تسلیم شدہ ہیں مگر امریکی حکام پھر بھی اس تاثر کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر آئندہ بھارت میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہوا تو پاک بھارت جنگ بھڑک سکتی ہے۔ ابھی گزشتہ ماہ امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف انتھونی بلنکن نے دورہ بھارت میں ایک بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو انٹرویو میں یہی کچھ کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک غیر ارادی جنگ کا امکان ہے اور امریکہ کو اس پر تشویش ہونی چاہیے۔ امریکی اہلکار نے ارادی طورپر اس تاثر کوہوا دی ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی وجہ پاکستان کی طرف سے ہونے والی دہشت گردی ہوگی لیکن کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کوئی دہشت گردی نہیں ہوسکتی ۔ بھارت نے براستہ افغانستان جو سلسلہ شروع کررکھا ہے وہ پاکستان کے صبروتحمل کے امتحان سے کم نہیں ہے۔ لہذا امریکی حکام معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے حقائق کوTwist نہ دیں اور ایسا ماحول نہ پیدا کریں کہ جس سے بھارت کو کسی قسم کی ہلہ شیری ملے۔ یہ دو ایٹمی قوتوں کا معاملہ ہے جبکہ تیسری ایٹمی قوت چین سے بھی بھارت کی کشیدگی بھی ڈھمکی چھپی نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں بھارت کو ذرا سی بھی ہلہ شیری یا تھپکی پورے جنوبی ایشیاءکو ایٹمی جہنم میں دھکیل سکتی ہے۔ بھارت خطے کا وہ ملک ہے جس کی جارحیت پسند سوچ کے باعث اپنے تمام پڑوسیوں سے بیسیوﺅں تنازعات ہیں ۔پاکستان کا وجود تو اسے قیام پاکستان سے ہضم نہیں ہوتا اوروہ اسے ختم کرنے کے درپے رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں مودی حکومت کے کئی وزراءکھلم کھلا دھمکی دے چکے ہیں کہ پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھے تو اب چار اور پھر اسے ہمیشہ کیلئے ختم کردیں گے۔ اسی ناک پاک سوچ کو لے کر ہر حربہ آزماتا رہتا ہے چاہے وہ سیاسی ہو ، معاشی ہویا سرحدی۔ مشرقی سرحد پر گولہ باری اور اشتعال انگیزی کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد پر دہشت گردی کروانا اور کشمیر میں پاکستان کی آبی ناکہ بند ی کرنا اس کے مذموم عزائم کا حصہ ہیں جو وہ برسوں سے پال رہا ہے۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی تو ٹی ٹی پی کے ذریعے کرواتا ہے مگر آبی دہشت گردی کو وہ براہ راست خودکروارہاہے ۔پاکستان میں آنے والے تمام دریاﺅں کے منبعے مقبوضہ کشمیر میں ہیں جنہیں وہ پاکستان کےخلاف استعمال کررہا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعہ بھی پچھلے پچاس سال سے چل رہا ہے۔سندھ طاس معاہدے کے باوجود بھارت پوری ڈھٹائی کےساتھ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کے لئے بڑے بڑے ڈیم بنا رہا ہے جبکہ بعض دریاﺅں سے پانی نہروں کے ذریعے موڑ کر دوسرے دریاﺅں میں ڈال رہا ہے۔ جس سے دریائے چناب اور جہلم کا دامن خشک ہوچکا ہے۔ کشن گنگا ہائیڈروپراجیکٹ اور ریٹلے ہائیڈرو پروجیکٹ ایسے منصوبے ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔پاکستان اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے اس سلسلے میں پاکستان بھارت کا منتظر ہے لیکن اب جب بھارت اس سلسلے میں تعاون کرنے کو تیار نہیں ہے تو پھر حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری طورپر یہ کیس ورلڈ بنک تک لے جائے،یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ڈبلیو بی کی ہی نگرانی میں طے ہوا تھا اور وہی اسکا ضامن بھی ہے۔ حکومت مزیدکسی قسم کی تاخیر نہ کرے ورنہ پانی سر سے گزر جائے گا اور آنے والی نسلیں پیاسی مر یں گی۔