- الإعلانات -

دولت مند اشرافیہ کی دنیا

جنوری 2016ءمیں آکسفیم نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا کے امیرترین 62افراد دنیا کی آدھی آبادی سے زیادہ امیرہوچکے ہیں۔دنیا کی امیرترین ایک فی صدآبادی یعنی 73ملین افراد دنیا کی آدھی دولت پرقابض ہےں نچلی 50فیصد آبادی دنیا کی کل دولت کے محض ایک فی صد حصے کی مالک ہے۔ دنےا کی 80فیصد نچلی آبادی کے پاس دنےا کی کل دولت کا 5.5 فیصد حصہ ہے جبکہ بالائی 20صد طبقہ امراءکے پاس دنےا کی کل دولت کا 94.5فیصد حصہ ہے۔ دنیا کے ہر 9میں سے ایک آدمی کو دووقت کا کھانا میسرنہیں اورایک ارب افراد 1.9ڈالر روزانہ سے بھی کم پرگزارا کر رہے ہیں۔گزشتہ پچیس سالوں میں نچلے 10فی صد لوگوں کی تنخواہوں میں محض 2.6ڈالرفی کس کے حساب سے اضافہ ہوا ۔اجرت پرہاتھ سے کام کرنے والوں اورعورتوں کو دنیا میں سب سے کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔جبکہ 2008ءکے بعدامریکہ میں ہائی ٹیک ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مالیاتی اداروں سے منسلک منیجروں اورتکنیکی سٹاف کی تنخواہوں میں 54.3فی صداضافہ ہواہے۔
جی7اورجی 20مملک کے رﺅساء،ہائی ٹیک ملٹی نیشنل کمپنیوںکے منیجروںاورتکنیکی سٹاف اورترقی پذیرممالک میں ان سے گٹھ جو ڑ کیئے ہوئے امیرطبقوں پرمشتمل ایک دولت مند اشرافیہ کا طبقہ جنم لے چکا ہے ۔اس امیر(Super rich) طبقہ کی وابستگی اوروفاداری اپنے آبائی ممالک کی نسبت اپنے طبقہءامراءکے کلب کے ساتھ ہوتی ہے۔اس اشرافیہ اورذیلی اشرافیہ کا گٹھ جوڑاپنے لوگوں کے مفادات کے برعکس اپنے گروہی مفادات کے فروغ کے لےے ساری دنیا میںسرگرم ہوتا ہے۔ان کی ایک اپنی قوم اوربین الاقوامی نقطہ ہائے نظر ہے۔ان کی شہریت بین الاقوامی اورمفادات بین الاقوامی منڈیوں سے منسلک ہوچکے ہیں۔ کسی ایک ملک کے بجائے ان کے اثاثے ،محل اورکاروبار ی مراکز ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔بین الاقوامی دولت منداشرافیہ کی زیادہ تردولت اپنے آبائی ملک کی نسبت دوسرے ممالک یعنی آف شور(Offshore)میں بکھری ہوئی ہے۔اس وقت بین الاقوامی دولت مند اشرافیہ کی آف شوردولت 7.6ٹریلین ڈالر کے قریب ہے جوکہ جرمنی اوربرطانیہ کی مشترکہ جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔بین الاقوامی کمپنیوں اورطبقہءرﺅساءکی اپنے ممالک سے باہردولت ہراس خطے میں سرمایہ کاری،اثاثوں اوربنک ڈپازٹ کی صورت میں موجود ہے جہاں ٹیکسوں سے بچا جاسکے،دولت پوچھنے والا کوئی نہ ہواورجہاں ٹیکس سے استثناءموجودہو۔ 2011ءکی نسبت 2014ءمیں میں بڑی کمپنیوں کی سرمایہ کاری ان علاقوں میں چارگنا بڑھ چکی ہے جہاں پرسرمایہ کاری کو ٹیکس سے استثناءحاصل ہے۔افریقہ کے امیرترین لوگوں نے ٹیکس سے مستثناءعلاقوں میں 500ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔جس سے افریقی ممالک کو سالانہ 14ارب ڈالر کا ٹیکس خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔دنیا کی دس بڑی کمپنیوں میں سے 9نے ایسی جگہ سرمایہ کاری کررکھی ہے جہاں انہیں ٹیکس استثناءملا ہوا ہے۔دنیا کے امیرترین افراداورکمپنیوں کو نہ صرف مختلف ممالک میں ٹیکس سے استثناءملا ہوا ہے بلکہ یہ ٹیکس چوری اورمالی کرپشن کے ذریعے بھی اپنی دولت میں بے دریغ اضافہ کررہی ہیں۔اگرصرف یورپی یونین رﺅساءاوربڑی کمپنیوں کے ٹیکسوں پرچھوٹ ختم کردے تو 100سے 120ارب پاﺅنڈ کی آمدن ہوگی۔یہ رقم دنیا بھر کو دی جانے امداد سے دوگنا ہے۔امریکہ کی 24ملٹی نیشنل کمپنیاں جن میں امازون،والٹ ڈزنی اوروال مارٹ شامل ہیں ،کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ مل کر کینیڈا کو خریدسکتی ہیں۔
کاروبارمیں اختراع،سرمایہ کاری،قرضوں پرسود،سٹاک مارکیٹ میں اتارچڑھاﺅاورخفیہ گٹھ جوڑ کے ذریعے 1988ءاور2011ءکے درمیان دنیا کی مجموعی دولت میں جتنا بھی اضافہ ہوا ہے اس میں سے 46فی صد محض 10فی صد بالائی امراءکے طبقہ کی دولت میں ہوا۔یہ طبقہءرﺅساءہرقسم کے قانون سے اس وقت تک ماوراءہوتا ہے جب تک کہ ان کا تصادم کسی اپنے طبقہءامراء سے نہ ہوجائے۔یہ اتنے قوی اوروسیع الجثہ ہوتے ہیں کہ جیل کی کوٹھڑی انہیں پابند سلاسل نہیں کرسکتی۔امریکہ میں ادویہ سازکمپنیوں نے 2014ئمیں واشنگٹن میں لابی کے لےے 224ملین ڈالرخرچ کئے۔امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق کانگریس کے ہررکن پر 200افراد لابی کررہے ہوتے ہیں۔تھائی لینڈکی حکومت نے مقامی سطح پرسستی ادویات تیارکرنے کے لےے مقامی کمپنیوں کواجازت دیناچاہی تو ادویہ سازکمپنیوں نے امریکی حکومت سے لابی کرکے تھائی لینڈ پر تجارتی پابندیاں لگوانے کی دھمکی دلوادی۔امریکی جمہوریت میں دولت اورسرمائے کے اسی کردار کی بناءپرچومسکی نے امریکی جمہوریت کو "ڈالرڈیموکریسی”کانام دیاہے۔
بیشتر ماہرین نے بین الاقوامی طبقہءرﺅساءکے ظہور کے موجودہ دورمیں دنیا کی سیاسی اورجغرافیائی بلاکوں میںتقسیم کے برعکس دومعاشی بلاکوں یعنی 0.1فی صد بمقابلہ 99.9فی صدیعنی ”دولتمنداشرافیہ بمقابلہ بقایادنیا ”کا نام دیا ہے۔سوویت یونین کے ٹوٹنے ،دنیا میں سوشلزم کے خوف کے خاتمہ،رسمی معیشت اورمزدوریونین تحریک کے کمزور پڑجانے کے بعد جو منڈی کی معیشت کا نیا ورلڈآرڈر قائم ہواہے اس میں فنانس میں عالمگیریت آچکی ہے۔کنٹرول منصوبہ بندی کی جگہ کھلی منڈی کی معیشت نے لے لی ہے۔ریاستوں کی معاشی پالیسیاںخفیہ کمروں اوربین الاقوامی اداروں کے دباﺅ میں بن رہی ہیں۔جمہوریت میں سے جمہور کا کردارختم ہورہا ہے اورریاستی مالیاتی اورصنعتی اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے۔ان تمام تبدیلیوں کے نتیجے میں عام لوگوں کی دولت میں کمی اورامراءکی دولت میں اضافہ ہورہا ہے۔2010ءکے بعد امراءکی دولت میں1.76ٹریلین ڈالر یعنی 44فی صداضافہ ہواہے جب کہ 3.5ارب غریب ترین دنیا کی نصف آبادی کی غربت میں ایک ٹریلین ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔
یعنی غربت میں میں گزشتہ پانچ سالوں میں 41فی صداضافہ ہواہے اس کا مطلب ےہ بھی لےا جا سکتا ہے کہ طبقہءرو¿ساءکی دولت مےںزےادہ تراضافہ عام آدمی کی غربت مےں اضافہ کر کے ہوا ہے۔پوسٹ ماڈرن نظریہ سازوں کے نزدیک موجودہ دورمیںمشترکہ نظریہ اوربیانیہ کے خاتمہ کے بعددنیا میں دولت مندوں کی دولت میں ہوش رباءاضافہ برائی کی فتح سے زیادہ اچھائی،نیکی اورجدوجہد کے مشترکہ معیار اوربیانیہ کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ” جب کوئی بھی چیزمقدس نہ رہے توطاقتور کو روکنے والے آدرش ختم ہوجاتے ہیں اورعام آدمی تباہ ہوجاتا ہے”۔