- الإعلانات -

یہ NGOs ، دوست یا۔۔۔؟

asgher ali shad

سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان نے ٹھوس معلومات کی بنیاد پر قومی سلامتی کے لئے خطرات کا باعث بننے والی 18 عالمی این جی اوز کو دو ماہ میں ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا ہے ،ان میں 9 کا تعلق امریکا، تین کا برطانیہ، 2 کا ہالینڈ جبکہ دیگر این جی اوز کا تعلق آئرلینڈ، ڈنمارک، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ سے ہے۔اس کے علاوہ کئی تنظیموں کو اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کا کہا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان نے 72 انٹرنیشنل این جی اوز پر پابندی برقرار رکھتے ہوئے کاغذات مکمل کرنے کیلئے مہلت دے دی جبکہ 141 این جی اوز کو گرین سنگل دیتے ہوئے 66 اداروں کو باقاعدہ کام کرنے کی اجازت دی ہے۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ اس کھلے راز سے بھلا کسے آگاہی نہیں کہ دہلی کے حکمران طبقات نے پاکستان کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ گاہے بگاہے وہ وطن عزیز کے اندر مختلف نو کے تعصبات کو فروغ دینے کی ہر ممکن سعی کرتے آ رہے ہیں۔ اس معاملے کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے سنجیدہ حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ 1965 کی جنگ کے بعد جب ہندوستانی حکمرانوں کو حسب خواہش نتائج نہ ملے تو وہاں کی حکومت نے مسلمان قوم کی نفسیات پر ریسرچ کے لئے اپنے یہاں کئی نئے ادارے قائم کئے جن میں سر فہرست ریسرچ اینڈ انیلے سس ونگ (RAW ) ہے۔ اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کی قدرے تفصیل کا جائزہ لیں تو یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ دہلی سرکار نے مسلمان خصوصاً پاکستانی قوم کے مختلف زاویوں سے تجزیے کئے جن کے تحت سبھی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، اس مقصد کے لئے درگاہ پرشاد دھر (ٹی پی دھر) کی قیادت میں بھارتی ماہرین تقریباً دو برس تک اندلس (سپین) کی لائبریریوں کو کھنگالتے رہے اور ان اسباب و عوامل کے مطالعے میں مصروف رہے جن کے تحت اندلس میں صدیوں سے قائم مسلمان حکومت کا نہ صرف خاتمہ ہوا بلکہ اس خطہ زمین سے مسلمان قوم کا نشان ہی کسی حد تک مٹا دیا گیا۔ تجزیہ کا یہ سارا عمل حکومت ہند اور راء کی باقاعدہ نگرانی میں انتہائی سائنٹیفک بنیادوں پر عمل میں لایا گیا اور اسی تحقیق کی بنیاد پر مرحوم مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش کے آپریشن کا آغاز کیا۔ اس کے انجام سے ہم بخوبی آگاہ ہیں !واضح رہے کہ اونچی ذات کے عیار ہندو ذہن نے اپنا یہ مشن تاحال جاری رکھا ہوا ہے اور تقریباًہم سبھی شعوری یا غیر شعوری طور پر شکست و ریخت کے اس عمل میں حصہ بقدر جثہ ڈالتے چلے آ رہے ہیں۔ بھارت میں اسی مقصد کے لئے 20 سے زائد ایسے ادارے قائم ہیں جو ’’پاکستان سٹڈیز‘‘ کے بہانے ہمارے ہر عمل پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور راء اور انڈین آئی بی کے یہ ادارے ایسا کھلا راز ہیں جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دوسری جانب اس ضمن میں ہماری ’’باخبری ‘‘کا عالم یہ ہے کہ اگرچہ ہم اپنی تمام تر پالیسیاں بالعموم بھارت کو مد نظر رکھ کر ہی ترتیب دیتے ہیں مگر تلخ زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارتی امور کے ماہر ہمارے بہت سے دانشور بھارت کے تمام صوبوں کے نام بھی پوری طرح سے نہیں جانتے حالانکہ ہندو ازم بہت سے گروہوں پر مبنی مجموعہ اضداد ہے۔ ان کے یہاں بھی بہت سے ایسے تضادات ہیں جن کی جڑیں ان کے کلچر میں بہت گہرائی تک موجود ہیں، ایسے میں اگر ہم جواب آں غزل کے طور پر ان بھارتی تضادات کو ایکسپلائٹ کر سکتے ہیں مگر اس ضمن میں تاحال ہم اپنی ذمہ داریاں کم حقہ ہو پوری نہیں کر پا رہے، حالانکہ اس بدیہی حقیقت کو بخوبی سمجھنا ہو گا کہ اگر ہمیں اپنے قومی وجود کو مستحکم بنانا ہے تو اپنے مد مقابل کے مزاج کی ساری جہتوں سے پوری طرح آگاہ ہونا ہو گا وگرنہ کوئی بیرونی طاقت ہماری بقا کی ضامن نہیں ہو سکتی اور قانون فطرت میں جرم ضعیفی کی سزا تو بہرحال طے ہے۔ اس پیرائے میں یہ بات بھی خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ بھارتی راء اور این ڈی ایس نے موساد اور سی آئی اے کی پیروی کرتے ہوئے اپنے یہاں بہت سی خوبصورت خواتین کو بھی اپنے اداروں میں سمویا ہوا ہے جو ان کیلئے خدمات انجام دے رہی ہیں، کیونکہ اس ضمن میں راء نے اپنے طویل مشاہدے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایک سو مرد بھی وہ کام نہیں کر سکتے جو ایک خاتون بشرطیکہ وہ خوبصورت اور پڑھی لکھی ہو، انجام دے سکتی ہے۔ یوں بھی ہندو مذہب میں عورت کی عصمت کا تصور ہمارے یہاں سے قدرے مختلف ہے اور دھرتی ماتا کی سیوا کے لئے روٹھے ہوئے یار کو ’’نچ ‘‘ کے منانا وہاں کوئی اتنی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی۔ بہرحال یہ تو شاید جملہ معترضہ ہو ۔ اگرچہ ملک کے اندر این جی او ز کی خاصی تعداد ایسی بھی ہے جو حقیقی طور پر شاید انسانیت کی خدمت انجام دے رہی ہو مگر اس ’’تعداد‘‘ سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا جو خواتین، بچوں، اقلیتوں کے حقوق اور جمہوریت کے نام پر اپنی دکانداریاں سجائے بیٹھے ہیں اور قومی سلامتی تک کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ سبھی متعلقہ ادارے اس ضمن میں اپنا فریضہ زیادہ موثر ڈھنگ سے انجام دیں گے۔

*****