- الإعلانات -

پاک سعودی عرب تعلقات میں نئی گرمجوشی

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جب زمام اقتدار سنبھالی تو اسے سب سے بڑا چیلنج تباہ حال معیشت کی بحالی کا تھا،اس مقصد کیلئے اس کی ٹیم سر جوڑ کر بیٹھی تو اسے آئی ایم ایف سے رجوع کے سوا کوئی چارہ دکھائی نہیں دے رہا تھا تاہم کچھ دوست ممالک سے امید کی کرن بھی باقی تھی کہ شاید وہ ماضی کی طرح اس مشکل وقت میں ہاتھ تھام لیں۔چین اور سعودی عرب دو ایسے ممالک ہیں جن سے پاکستان نے ہمیشہ بڑی امیدیں وابستہ کئے رکھیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے ان دونوں ممالک نے کبھی پاکستان کو مایوس بھی نہیں کیا چاہے جتنی بڑی مشکل آ جائے.اسی امید کا دامن تھامے عمران خان نے اس اعلان کے باوجود کہ وہ تین ماہ تک کوئی بیرونی دورہ نہیں کریں گے سب سے پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا بلکہ مختصر وقفے سے دوسرا دورہ بھی کیا جو اپنے مقصد کے حوالے مکمل کامیاب رہا، دورے کے اختتام پر وزیراعظم کی سربراہی میں سعودی قیادت سے بات چیت کرنے والے پاکستانی وفد نے اسی شام قوم کو خوشخبری سنائی کہ سعودی عرب پاکستان کو مالی بحران سے نمٹنے کیلئے نقد اور ادھار تیل کی شکل میں امداد دینے کو تیار ہے ۔قبل ازیں جب عمران اپنے پہلے دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے تو سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں سرمایہ کاری کا مژدہ بھی سنایا گیا تھاجسے قابل تحسین نظروں سے دیکھا گیا۔ سعودی عرب اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں۔تاہم گزشتہ تین چار برسوں میں قدرے سردمہری سی در آئی تھی۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ آگے چل کر یہ سرد مہری کسی کشیدگی میں نہ بدل جائے۔عمران خان کے اوپر تلے دو دوروں کے بعد دونوں ممالک میں نئی گرمجوشی دیکھنے میں آرہی ہے جو انتہائی خوش آئند ہے.جیسے کہ اوپر ذکر کیا ہے کہ سعودی حکومت نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کو سہارا دیا ہے۔ماضی قریب کا جائزہ لیں تو 1998 میں جب ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں عائد کر دی تھیں تو تب بھی شدید مالی بحران پیدا ہو گیا تھا اور اس بحران سے نکلنے میں بھی سعودی حکومت نے بھر پور مدد کی تھی. اس وقت بھی سعودی حکومت نے پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ کا تیل ادھار دینے کا پیکج دیا تھا۔ دراصل یہ تیل ادھار نہیں بلکہ مفت تھا صرف امریکہ کو جھانسہ دینے کیلئے ادھار کا نام دیا گیا.اسی طرح 2014 میں پاکستان کو ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کیلئے سعودی عرب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کیش لینا پڑا تھا۔ اس ڈیڑھ ارب ڈالر میں سے آدھی رقم گرانٹ کے نام سے تھی۔ماہرین کے مطابق تازہ ملنے والی مالی مدد زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کیلئے قومی خزانے میں نقد کی صورت پڑی رہے گی جو کسی اور مد میں خرچ نہیں ہو سکے گی۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تعاون کے نتیجے میں پاکستان شاید اب آئی ایم ایف سے اتنی بڑی رقم نہ لے کیونکہ تین سال میں نو ارب کا تیل اور تین ارب کیش یوں کل ملا کر یہ معاہدہ 12 ارب ڈالر کا بنتا ہے۔ اسی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے عمران خان نے عندیہ دیا تھا کہ شاید آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پی ٹی آئی حکومت کی کامیاب حکمت عملی اور سعودی حکومت کے بے لوث تعاون کا نتیجہ ہو گا۔حکومت کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کو ایڈ کے ساتھ ساتھ ٹریڈ کی طرف بھی لے کر آئے تاکہ دو طرف تعلقات مزید مستحکم ہوں۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان شراکت داری میں جو نئی گرم جوشی پیدا ہوئی ہے اس کے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔برادر اسلامی ملک کو چین کی مشاورت کے ساتھ سی پیک میں شامل کرنا اور گوادر میں آئل سٹی کا قیام دونوں احسن امور ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے سی پیک منصوبے میں شامل ہونے سے سہ فریقی تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔ پاکستان سعودی عرب یا چین کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی قسم کی سردمہری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔