- الإعلانات -

پاکستان سٹیزن پورٹل کاافتتاح

adaria

عوام کی حکمرانوں کے ایوانوں تک آوازپہنچانے کا سب سے موثرذریعہ میڈیا ہے اوراس کے تحت مختلف خبریں ایوان اقتدارمیں بیٹھے بااختیارلوگوں تک پہنچتی ہیں۔ اب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پاکستان سٹیزنز پورٹل کاافتتاح کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ عوامی شکایات کی خودنگرانی کریں گے وزراء ، بیوروکریٹ، سرکاری ملازمین سب قابل احتساب ہوگئے ہیں ۔یہ اقدام انتہائی خوش آئند ہے کیونکہ اس سے قبل جوبااختیار ہوتے تھے ان کے بارے میں اگر کوئی معمولی سی بھی آوازاٹھائے تو اس کو قرارواقعی سزاملتی تھی یاپھراس کی آواز کوئی سنتاہی نہ تھا لیکن اب اس اقدام کے بعد ہر کوئی چاہے وہ کسی بھی شعبے سے متعلق ہو اگر غلط کام کیا ہے تو قابل سزا ہوگا۔ پاکستان سٹیزنز پورٹل کاافتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ سسٹم سے معلوم ہوجائیگاکہ کون سا سرکاری افسر کرپشن کررہاہے یا رشوت مانگ رہاہے۔ اس نظام کے ذریعے عوام نجی اداروں کے خلاف بھی شکایت درج کراسکیں گے۔ پہلا چیلنج ہی طرز حکمرانی کو صحیح کرنا ہے ،وفاقی حکومت صوبائی معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گی بلکہ چیف سیکرٹری کے ذریعے ہدایت کی جائے گی کرپشن کے خاتمے اور اداروں کی مضبوطی سے ہی ملک ترقی کر سکتا ہے ۔ سعودی عرب سے ملنے والے پیکج پر کوئی شرائط نہیں یہ غیرمشروط ہے مزید بھی خوشخبریاں ملیں گی ،آنے والے دنوں میں وزیراعظم کو دنیا میں جا کر قرض نہیں مانگنا پڑے گا، قرضوں کا جو پہاڑ ورثہ میں ملا ہے اس سے نکلنے کیلئے سرمایہ کاری لانا ہو گا، نیا پاکستان شہریوں کی جانب سے حکومت کو اپنا سمجھنے سے بنے گا ،ابھی تو ہم نے کچھ کیاہی نہیں یہ سب پرانے کیس ہیں،انہوں نے اپوزیشن کو وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ خبردار کررہا ہوں جب ہم کچھ کریں گے تو شکایت آئے گی کہ جمہوریت خطرے میں ہے ۔اس نظام کے تحت کرپشن کم ہو گی اور جن کو کھانا پینا بند ہونے کا ڈر ہو گا تو انہیں عوام میں جا کر کہنا پڑے گا کہ مجھے کیوں نکالا ۔ وزیراعظم آفس میں مختلف محکموں، وزارتوں اور دفاتر سے متعلقہ شکایات کے اندراج اور ان کے فوری حل کیلئے وضع کیاگیا نظام نئے پاکستان کی علامت ہے پرانے پاکستان میں عوام کو غلام سمجھا جاتا تھا اور باہر سے آ کر حکمرانی کرنے کا تصور تھا، عوام دفاتر میں دھکے کھاتے تھے، پیسے اور طاقت پر ناجائز کام بھی ہو جاتے تھے تاہم کمزور کا جائز کام بھی نہیں ہوتا تھا۔پہلی بار اس نظام کے تحت تمام حکومتی محکمے، ملازمین اور اراکین پارلیمنٹ کا احتساب ہو سکے گا۔ اب اندرون ملک کیا بیرون ملک بیٹھا پاکستانی براہ راست اپنی شکایات وزیراعظم کے پاس درج کرا سکے گا اور متعلقہ محکمے اس بارے میں جوابدہ ہوں گے۔چیف سیکرٹری کے ذریعے صوبے بھی اس سے منسلک ہوں گے ،صوبائی محکموں کے حوالے سے جو شکایات ہوں گی اس سے بھی وزیراعظم آگاہ ہو گا۔یہ نظام سرکاری ملازمین کے احتساب کا ذریعہ ہو گاجبکہ اس نظام کے تحت میرٹ پر ترقی میں بھی آسانیاں ہوں گی۔ نظام کے تحت ملک میں سرمایہ کاری آئے گی۔ وزیراعظم پورے ملک کے کسی بھی محکمے سے وضاحت مانگ سکتا ہے، ٹاسک کی نوعیت کے مطابق اس کا ٹائم فریم دیا جائے گا۔ہر ماہ شکایات کا ڈیٹا جاری کیا جائے گا۔سرمایہ کاروں کو جب یہ اعتماد ہو گا کہ ان سے کمیشن نہیں مانگا جائے گا، ان کے کاموں میں رکاوٹیں نہیں ڈالی جائیں گی تو وہ خوشی سے سرمایہ کاری کریں گے۔حکومت کی جانب سے اس اقدام کے بعد سزاوجزا کانظام بھی بہتری کی جانب گامزن ہوجائے گااورہرکوئی شخص الرٹ ہوجائے گاکہ وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے وہ سزا کامستحق قرارپائے۔ وزیراعظم کا یہ اقدام لائق تحسین ہے۔

مولانافضل الرحمن کونوشتہ دیوارپڑھ لیناچاہیے
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اس وقت فضل الرحمان بہت زیادہ متحرک نظرآتے ہیں، مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی میں دوریاں ختم کرنے کے لئے اہم کردار ادا کررہے ہیں چونکہ شاید طویل عرصے کے بعد فضل الرحمن ایوان سے باہرنظرآرہے ہیں اور اس بات کاانہیں انتہائی دکھ ہے، اسی وجہ سے وہ کوشا ں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اپوزیشن کی جماعتوں کوایک پلیٹ فارم پراکٹھاکرکے حکومت کادھڑن تختہ کرسکیں لیکن انہیں تاحال اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی خصوصی طورپراس وقت فضل الرحمن کو شدید مایوسی کاسامناکرنا پڑا،جب وہ نوازشریف کوجاتی امراء میں ہونیوالی ملاقات کے دوران اے پی سی میں شرکت کے لئے راضی نہ کرسکے۔نوازشریف نے واضح کردیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام میں شامل نہیں ہونگے جس سے محسوس ہوکہ حکومت کے خلاف سازش ہورہی ہے۔ میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن نے جو دو ٹوک انداز میں رائے دی کہ اس حکومت کو گرانے کی ضرورت نہیں یہ خود اپنے زور سے منہ کے بل گرے گی۔ کانفرنس میں مسلم لیگ ن کا اعلیٰ سطح وفد شرکت کرے گا۔ فضل الرحمن نواز شریف کو اے پی سی میں ذاتی طور پر شرکت کیلئے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اے پی سی کا ایجنڈا واضح ہونا چاہئے۔ مسلم لیگ کو اے پی سی سے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم ملک کو بحرانوں سے بچانا چاہتے ہیں جنھیں سنبھالنا موجو دہ حکومت کے بس کی نہیں ہے جے یو آئی اپوزیشن کے اکٹھ کے لیئے کام کرتی رہے گی سی پیک منصوبے کو بڑے دھچکے لگائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے یہ منصوبہ بے حد ضروری ہے۔ بھارت آئے دن کشمیری عوام پر گولیاں برسا کر ان کی تحریک دبانے کی کوششیں کر رہا ہے لیکن اس کی تمام تر سازشوں کے باوجود تحریک مزیدزور پکڑ رہی ہے۔فضل الرحمن کو چاہیے کہ وہ ایسی پراگندہ سیاست سے پرہیز کریں جس سے ملک میں سیاسی انارکی پھیلے اور ترقی کاعمل بھی رک جائے۔ چونکہ انہوں نے سیاست کے بہت سے ادواردیکھے ہیں اس لئے صبروتحمل سے کام لیناہوگا۔ حکومت جو کررہی ہے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
پنجاب میں شا م کی عدالتوں کا قیام
عرصہ دراز سے ہمارے عدالتی نظام میں یہ مسئلہ درپیش رہا ہے کہ مقدمات کاڈھیرلگارہتا ہے اور ان کے فیصلے تاخیر سے ہوتے ہیں اس سلسلے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پنجاب میں شام کے اوقات میں عدالتیں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اب پنجاب میں عدالتیں شام کے وقت بھی کام کرینگی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ہفتے کو افتتاح کرینگے،فیملی کورٹس شام کو لگانے کا مقصد بچوں کو عام عدالتی ماحول سے محفوظ رکھنا ہے، ماں یا باپ سے ملاقات بھی شام کو کرائی جائیگی ،وقت 2 سے 6 بجے ہوگا، گرمیوں میں 4 سے 8 بجے کردیا جائیگا،شام کی فیملی کورٹس کا آغاز لاہور سے ہوگا، تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو پنجاب بھر میں ایسی عدالتیں لگائی جائیں گی، دوسری سول اور فوجداری عدالتیں بھی شام کو لگانے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔یہ انتہائی خوش آئند اقدام ہے اس کے ذریعے عوام کو انصاف کی جلد فراہمی یقینی ہوجائے گی اور مقدمات کی تعداد بھی کم ہونا شروع ہوجائے گی۔