- الإعلانات -

اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کوچیئرمین پی اے سی نہ بنانے کافیصلہ

adaria

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن اتحاد اوراحتجاج سے متعلق پارٹی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کا ملک میں اداروں کی مکمل آزادی اوراحتساب کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم اپوزیشن سے بلیک میل نہیں ہوں گے، شہباز شریف کو کسی صورت بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنایا جائے گا، اس عہدے کیلئے مشاورت سے غیرجانبدارشخصیت کا انتخاب کیا جائے گا، اس کیلئے اگر کمیٹیاں بنانی پڑیں توبنائیں گے۔امورحکومت کو بہتر طریقے سے چلانے کیلئے اراکین بھی اپنی تجاویز دیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے اراکان پارلیمنٹ کو وزیراعظم آفس تک براہ راست رسائی دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے موبائل ایپ بنانے کا فیصلہ کیا ، جس کے بعد ارکان پارلیمنٹ کسی مسئلے کی صورت میں وزیراعظم آفس سے براہ راست رابطہ کرسکیں گے۔ عموماً ماضی میں اسی طرح دیکھاگیا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کاچیئرمین اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے یہ روایت برقرار رہی تاہم یہ کوئی ایسی آئینی ضرورت نہیں کہ اس کو ہی چیئرمین بنایاجائے جواپوزیشن لیڈرہو۔ پی اے سی کااصل مقصد تو بہ دیگرالفاظ احتساب کرتے ہوئے ماضی کی حکومتوں کے کھاتوں کی جانچ پڑتال ہوتاہے جو بھی کوئی غلط منصوبہ بندی یا سرمایہ کاری یاپھرغلط فیصلے کئے گئے ہوں وہ سارے معاملات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آتے ہیں اور پھر چیئرمین اس کے حوالے سے مزید آگے ضروری کارروائی کرتا ہے۔ اس وقت جو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو مسئلہ درپیش ہے وہ ملک میں احتساب کاہے۔ احتساب کے سلسلے میں میاں برادران پرمختلف مقدمات زیرسماعت ہیں کچھ کافیصلہ بھی ہوا اور کچھ کے حوالے سے تحقیقات بھی ہورہی ہیں۔ یہاں اگر منطق کے اعتبار سے دیکھاجائے تو وزیراعظم عمران خان درست نظرآتے ہیں کہ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کو کسی صورت پی اے سی کا چیئرمین نہیں بننے دیں گے۔ اس سلسلے میں وہ اس بات کے متمنی ہیں کہ اپوزیشن کسی اور کانام دے۔اب جبکہ حکومت کا سب سے اہم اور بالاترنکتہ احتساب ہے تو شہبازشریف کے خلاف مختلف تحقیقات نیب کے تحت چل رہی ہیں ایسے میں اگر وہ پی اے سی کے چیئرمین بن جاتے ہیں تو ان کی جو گزشتہ عرصہ حکومت رہی تو اگر اس کے کوئی سکینڈل سامنے آتے ہیں تووہ کیونکراس کااحتساب کرسکیں گے۔ یہ وہ خلافت راشدہ کا زمانہ تونہیں ہے جہاں پرخلیفہ اپنے تمام معاملات کاجوابدہ قاضی کے سامنے ہوتاتھا اور بھرے دربار میں بھی اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہوتی حتیٰ کہ وہ خلیفہ کی جانب سے ہی کیوں نہ ہو تی وہ اس سے سوال کرسکتاتھا اور خلیفہ جواب دینے کاپابند ہوتاتھا اگر سزا و جزا کا موقع آن پہنچے تو قاضی کی خلیفہ کو دی ہوئی سزا پر بھی عملدرآمد ہوتاتھا ۔اب تو یہ زمانہ ہے کہ’’ اندھابانٹے ریوڑیوں والی صورتحال ہے‘‘ اگر خود کوئی غلط کام کرلیا ہے تو کسی قانون کااطلاق نہیں البتہ دوسری کی آنکھ کابال بھی نظرآنا شروع ہوجاتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم بالکل درست ہیں بلکہ ہم یہاں یہ ضرور کہیں گے کہ پی اے سی کاچیئرمین اس شخص کو ہوناچاہیے جس کا دامن بالکل صاف ہو ہرقسم کے دباؤ سے آزاد ہو اور چاہے حکمران طبقہ یااپوزیشن جس کی بھی بدعنوانی پکڑی جائے اس کے ساتھ بلاتفریق سلوک ہوناچاہے اسی طرح دیگراداروں کی آزادی بھی ضروری ہے کیونکہ ابھی حکومت کے سودن پورے نہیں ہوئے تو ان سودنوں میں پنجاب کے ایک ڈی پی او کو ذاتی معاملات کی وجہ سے عتاب کانشانہ بننا پڑا ۔ابھی یہ مسئلہ چل ہی رہاتھا کہ وزیراعظم کی جانب سے پنجاب پولیس کاقبلہ درست کرنے والے ناصردرانی نے استعفیٰ دے دیا ان کی جگہ ابھی تک عمران خان نے کسی شخص کو تعینات نہیں کیا ابھی اس کی دھول اڑ ہی رہی تھی کہ اسلام آباد کے آئی جی کو وفاقی وزیراعظم خان سواتی کی شکایت پرمعطل کیاگیا جسے سپریم کورٹ نے بحال کردیا۔اس کے علاوہ وزیرمملکت شہریارآفریدی کی جانب سے بھی کچھ اس طرح کاقدم اٹھایا گیا جس پرعملدرآمدنہ ہوسکا جبکہ عمران خان نے وزارت عظمیٰ میں آنے سے قبل واضح طورپر کہہ دیاتھا کہ وہ پولیس کوآزاد بنائیں گے اب یہ جو اوپردوتین مثالوں کاذکر کیاگیا ہے یہ اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ اداروں میں کہیں نہ کہیں مداخلت جاری ہے ایسے میں وزیراعظم کو اس جانب خصوصی طورپرتوجہ دینا ہوگی اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ادارے آزاد ہیں پولیس قانون کے مطابق جو بھی فرائض انجام دے رہی ہے اس میں قطعی طورپر کوئی بھی رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی جب تک ہرشخص قانون وآئین کی نظرمیں برابر نہیں ہوگا اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوسکتے چاہے حکومت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کاچیئرمین کسی فرشتے کو بھی کیوں نہ تعینات کردے۔یہاں صرف مسئلہ پی اے سی کاہی نہیں دیگراداروں کابھی ہے چونکہ بقول حکومت ہم اس وقت ایک نئے پاکستان میں داخل ہورہے ہیں اور وزیراعظم کی خواہش ہے کہ وہ وطن عزیز کو مدینہ پاک جیسی ریاست بنائیں تو پھر اس مدینہ کی ریاست میں تو سب برابر ہوتے ہیں وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ اگر کسی کے محل کے آگے پیچھے کوئی جھونپڑی بنی ہے تو اسے مسمارکردیاجائے بلکہ غریب اوربے آسرا لوگوں کی آواز کو سنناچاہیے تب ہی انصاف کابول بالا ہوگا ترجیحی سلوک سے مسائل حل نہیں ہوں گے تمام ترذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کرفیصلے کرنے ہونگے احتساب شفاف بنانا ہے تو اقرباء پروری کو بھولنا ہوگا تب ہی جاکر ہم اس ملک کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بناسکیں گے ۔اگر اسی طرح ذاتی پسندوناپسند پرفیصلے ہوتے رہے توپھر حالات مشکل سے مشکل ہوتے چلیں جائیں گے۔

پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی کی گفتگو
نوازشریف کی خاموشی کے حوالے سے ایس کے نیازی نے واضح طورپر کہا ہے کہ یہ کسی سمجھوتے کانتیجہ ہے اس بات میں کوئی دوسری رائے بھی نہیں کہ جب سے نوازشریف جیل سے باہرآئے ہیں اس دن سے لیکرآج تک ان کاکوئی ایسا قابل ذکربیان سامنے نہیں آیا جو میڈیا کی ہیڈلائنوں کاسہرا بنا ہو اس لحاظ سے یہ بات درست ہے کہ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتادیاکہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف مہم جوئی سے نقصان ہوگا یہ بات بھی بالکل درست معلوم ہوتی ہے کہ کوئی بھی ایسا اقدام اٹھانے سے عوامی سطح پربھی کوئی خاص پذیراتی نہیں ہوگی اس وجہ سے نون لیگ کو ویسے ہی محتاط ہوکر چلناچاہیے ۔ایس کے نیازی نے مزید کہا کہ نواز شریف کی فطرت میں خاموشی نہیں ہے،نواز شریف کی خاموشی کسی سمجھوتے کا نتیجہ ہے،عمران خان ذاتی مفاد یا ذاتی آرام کیلئے کام نہیں کررہا،عمران خان کیخلاف مہم جوئی سے نقصان ہوگا۔ بیگم کلثوم نواز کی وفات قومی نقصان ہے۔نواز شریف کا کوئی بیان نہ دینا این آر او کی کڑی ہے،نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا،نواز شریف علاج کے بہانے باہر چلے جائیں گے،نیب کا ادارہ بنا ہی احتساب کیلئے ہے،آصف زرداری پر کئی عرصے سے کیسز چل رہے ہیں،آصف زرداری اور نواز شریف اندر سے ایک ہیں،چوہدری نثار نے ساری عمر سیاست کی،آگے بھی کریں گے،چوہدری نثار کو دونوں حلقوں میں بری طرح شکست ہوئی،چوہدری نثار کو حلقوں میں اپنی کریڈیبلٹی بڑھانا ہوگی،چوہدری نثار کو ان کے بیانات کی وجہ سے نقصان پہنچا۔مجھے لگتا ہے کہ نیب پہلے بڑے لوگوں کا احتساب کرنا چاہتی ہے،عمران خان نے کبھی پولیس کے معاملات میں مداخلت نہیں کی۔عمران خان نے پہلے پولیس میں مداخلت نہیں کی اب کیوں کرینگے۔