- الإعلانات -

رحمتیں جو سمیٹ نہیں سکتا

2016ءکا سال یقینی طور پر راقم کیلئے انتہائی رحمتوں والا بن کر آیا ہے ۔ان رحمتوں کا میں جتنا بھی رب تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر ادا کرں انتہائی کم ہے۔اگرباقی ماندہ ساری عمربھی سجدہ ریزی میں گزار دوں تو پھر بھی جو رحمتیں رب باری تعالیٰ نے عطا کی ہے ان کا شکر ادا نہیں کرسکتا ۔یہ بابرکات لمحات جب آنکھوں سے آنسوﺅں کی لڑی جاری تھی محفل میلادﷺ پوری عقیدت واحترام سے جاری تھی ۔حاضرین محفل باادب دست بستہ ہاتھ باندھے کھڑے تھے ۔ہرعاشق رسولﷺ کی آنکھوں سے حب رسولﷺ میں آنسوﺅں کی جھڑی جاری تھی ۔راقم کی حالت بھی کچھ مختلف نہ تھی ۔میرے اہلخانہ کی بھی آنکھیں نم تھیں ۔یقینی طور پر اس وقت میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص بن چکا ہوں ۔یہ دنیاوی معاملات اب راقم کیلئے ثانوی حیثیت اختیار کرگئے ہیں اور شاید خاصے عرصے سے کوئی کالم بھی نہیں لکھا ۔اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس متبرک تحریرسے پہلے کوئی اور تحریر نہ لکھوں ۔بس یہ سب اللہ تبارک وتعالیٰ کے فیصلے ہوتے ہیں ۔میرا رب جیسے چاہتا ہے ویساہی ہوتا ہے ۔ذکر ہے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا ۔ویسے تو یہ اتنی طویل بات ہے کہ اس کو اس کالم میں محیط کرنا ممکن نہیں ۔جب سے اس دنیا میں آنکھ کھولی ،ہوش سنبھالا تو ایک مگن تھی کہ مجھے میرا رب اپنے گھر خانہ کعبہ کا دیدار نصیب کرادے ۔اپنے محبوبﷺ کے گنبد خضریٰ کی ٹھنڈی چھاﺅں میں بیٹھنا مقدر بنا دے ۔پھر 2007ءمیں والدہ مرحومہ مغفورہ کے ہمراہ یہ سعادت حاصل ہوئی ۔روضہ رسولﷺ کے گنبد خضریٰ کی چھاﺅں میں ایک ماں جو کہ ولی تھیں ان کے ہاتھ اٹھے اور راقم (بیٹے)کے مقدر کو چار چاند لگے ۔بھلا رحمت اللعالمین ﷺ کا در پاک ہو،والدہ کے ہاتھ ہوں اور مجھ جیسے گہنگار کیلئے ایک ماں نہیں بلکہ ولی کی صورت میں ماں دعا مانگ رہی ہو پھر کیوں نہ مقدر جاگیں ۔وہ دن اور آج کا دن بس رحمتیں ہی رحمتیں ہیں ۔2012ءپھر 2014ءکا حج اکبر جو کہ والدہ مرحومہ مغفورہ کا حج بدل ادا کررہا تھا یہ جو تمام سفر حج مبارک تھے ۔ایک خیال بار بار امڈ کر آتا تھا کہ وہ دنیا کا کتنے خوش نصیب ترین شخص ہوگا ۔جس کے پاس آپﷺ کی زلف مبارک،ریش مبارک،موئے مبارک ہونگے ۔یقینی طور پر ان افراد کو اس دور کا خوش نصیب ترین کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔عمر پھر کی تپسیا،والدین کی دعائیں ،بیوی،بچوں،بہن بھائیوں کی نیکیاں ،سب کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے راقم کو آپﷺ کی زلف مبارک عطا کی ،ساتھ ریش مبارک اور موئے مبارک بھی عطا ہوئے ۔بات یہاں تک ہی نہیں ٹھہری،مزید رب کی ذات راضی ہوئی اس کے محبوب کریمﷺ کی نظر کم ہوئی ۔راقم کو آپﷺ کا پسینہ مبارک بھی عطا ہوا ۔یہاں میں الحاج خورشید اورالحاج غلام مرتضیٰ کاذکرکرنا انتہائی ضروری سمجھتا ہوں ۔2016 کا 31جنوری کا دن الحاج خورشید صاحب کا گھر اورالحاج غلام مرتضیٰ کی آمد ،یہاں پر وہ وہ پرنور تقریب کاانعقاد ہونے جارہا تھا جس کے بعد راقم اس دنیا کا خوش نصیب ترین شخص بن گیا ۔جی ہاں رسول کریمﷺ کی زلف مبارک،ریش مبارک اور موئے مبارک کے غسل مبارک کی تقریب ہوئی ۔مشتاق صاحب نے نعتیہ کلام پیش کیا،دورد وسلام کے گلہائے عقیدت نچھاور کیے ۔الحاج غلام مرتضیٰ نے غسل مبارک دیا ،الحاج خورشید صاحب نے اس پاک محفل کے انعقاد کا بندوبست کیا ،آپ ﷺ کی زلف مبارک،ریش مبارک اور موئے مبارک جو کہ میری صاحبزادی کو عطا ہوا اور پسینہ مبارک میرے صاحبزادے کو عطا ہوا ۔ایک خوبصورت کیس میں سجایا گیا ۔اس متبرک محفل کے یوں تو تمام لمحات ہی اتنی رحمتوں والے تھے کہ ان کو قلمبند نہیں کیا جاسکتا ۔تاہم ایک بات انتہائی ا ہم ہے کہ جیسے ہی آپﷺ کی زلف مبارک کو غسل مبارک دینے کا آغاز ہوا ۔آب زم زم سے زلف مبارک ﷺ کو غسل دیا گیا ،جیسے ہی زلف مبارک آب زم زم میں رکھی گئی تو آب زم زم میں واضح طور پرزلف مبارکﷺ سے ”م ح“ یعنی محمدﷺ لکھا گیا ۔کیا روح پرور منظر تھا جو کہ بیان سے باہر ہے ۔اس موقع پر مشتاق صاحب نے جو گلہائے عقیدت پیش کیے ۔
الحاج غلام مرتضیٰ صاحب نے بھی بتایا کہ جب انہیں لندن میں زلف مبارکﷺ عطا ہوئی تو اس وقت بھی یہ گلہائے عقیدت بارگاہ رسول کریمﷺ میں پیش کیے جارہے تھے ۔اس میں سے ایک نعت شریف کا مصرعہ بار بار دہرایا گیا ۔اسی وقت الحاج غلام مرتضیٰ صاحب کو زلف مبارکﷺ عطا ہونے کی اطلاع مبارک ملی جبکہ راقم کیساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ درپیش ہوا ۔وہ نعت کا مصرع کچھ اس طرح ہے باقی مکمل نعت آگے چل کر پیش کرنے کی جسارت حاصل کرونگا
آجائیں مقدر سے میرے گھر جو شہہ دیں
واللہ میں کیسا لگوں گا میرا گھر کیسے لگے گا
مجھے جو رحمتوں کی صورت میں آپﷺ کے تبرکات عطا ہوئے اورغسل مبارک دیا گیا تو اس وقت بھی مشتاق صاحب نے اسی نعت کے گلہائے عقیدت پیش کیے ۔آج جس فرط جذبات سے لکھ رہا ہوں میرے الفاظ ختم ہورہے ہیں ۔وہ جملے ،وہ الفاظ ہی نہیں ،جن سے میں رب تعالیٰ اوررحمت اللعالمین ﷺ کا شکر ادا کروں۔میںتو اس درکی خاک در خاک درخاک در خاک ہوں ۔میری اتنی حیثیت کہاں ”یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات ابتک بنی ہوئی ہے “ آج راقم اتنا خوش ہے کہ پھولے نہیں سمارہا ۔ہر لمحے یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر اپنے در پر بلالے ،پھر روضہ رسولﷺ پر حاضری دینے کی توفیق عطا کرے ۔بس زندگی میں اللہ تعالیٰ ویسا بنا دے جیسا کہ وہ چاہتا ہے ،کم ازکم اس قابل بنا دے کہ راقم ان کو چاہنے والا بن جائے جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کا محبوبﷺ چاہتے ہیں ۔دنیاوی چیزوں کی زندگی میں کوئی حیثیت نہیں ۔جورحمتیں اللہ تعالیٰ نے عطا کیں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ بس اب رب تعالیٰ باقی ماندہ زندگی میں رحمتیں ہی رحمتیں عطا کرے ۔(آمین ثمہ آمین)۔ نعت شریف پیش خدمت ہے

” نعت شریف“
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگے گا
رکھ دوں درِ سرکار پہ سر کیسا لگے گا
آجائیں مقدر سے میرے گھرجو شہہِ دیں
واللہ میں کیسا لگوں گامیرا گھر کیسا لگے گا
جب دور سے ہے اتنا حسیں گنبدِ خضرا
اس پار سے ایسا ہے ا±دھر کیسا لگے گا
سرکار نے در پہ تجھے بلوایا ہے منگتے
جب کوئی مجھے دیگا خبر کیسا لگے گا
جس ہاتھ سے لکھوں گا محمدﷺکا قصیدہ
ا±س ہاتھ میں جبریل کا پر کیسا لگے گا
غوث الوریٰ سے پوچھ لو اک روز یہ چل کر
بغدا د سے طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
آجائیں مقدر سے میرے گھر جو شہہِ دیں
واللہ میں کیسا لگونگا میرا گھر کیسا لگے گا
رکھ لوںگا جو سر پر میں وہ نعلینِ مقدس
شاہوں کے مقابل میرا سر کیسا لگے گا