- الإعلانات -

وقت نازک ہے، جوش نہیں ہوش سے کا م لیا جائے

adaria

پاکستان کو ایک بار پھر نازک صورتحال درپیش ہے۔ ہوش کی بجائے جوش کا غلبہ ہے۔ آسیہ بی بی کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں صورتحال خاصی کشیدہ ہے اور جلاؤ گھراؤ سے کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔اس پس منظر میں وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے آسیہ بی بی کیس کے فیصلہ کے بعد سڑکوں پر آنے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کے اکسانے میں نہیں آنا ہے، یہ کوئی اسلام کی خدمت نہیں ہو رہی ہے انہوں نے یہ اپیل بھی کی کہ ریاست سے نہ ٹکرائیں،ورنہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی جائے گی، ہم توڑ پھوڑ اور سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے، ریاست کو اس سطح پر نہ لے جائیں کہ وہ ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے۔ وزیراعظم نے آسیہ مسیح کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ملکی آئین وقانون کے مطابق قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلہ کے بعد ردعمل میں جس طرح کی زبان استعمال کی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان وہ ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نام پر بنا ہے، اسلام کے نام پر بننے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا، سپریم کورٹ کے ججز نے جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے اور ملک کا آئین قرآن و سنت کے تحت ہے۔انشااللہ جب پاکستان عظیم ملک بنے گا تو وہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چل کر بنے گا۔ جس مقصد کیلئے پاکستان بنا اور جب تک وہ فلاحی ریاست نہیں بنتا اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ موجودہ حکومت نے عملی طور پر وہ کام کیا جو آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا۔ جب ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی والے خاکے بنوائے تو پاکستان وہ واحد ملک تھا جس نے فارن منسٹرز سے بات کی اور اس ڈچ رکن پارلیمنٹ سے خاکے واپس کرائے۔ پاکستان نے پہلی مرتبہ او آئی سی میں جا کر اس مسئلے کو اٹھایا اور ملک کے وزیرخارجہ نے پہلی بار اس ایشو کو اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہیومن رائٹس کورٹ نے قرار دیا کہ حضورﷺ کی شان میں گستاخی کرنا آزادی اظہار رائے کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہم باتیں نہیں کرتے ہم نے عملی طور پر کام کر کے دکھایا۔ ہم واقعی نبی ﷺکی شان میں کسی قسم کی گستاخی نہیں دیکھ سکتے ۔وزیراعظم نے یہ یقین بھی دلایاکہ ہم مشکل معاشی بحران سے نکل سکتے ہیں، میں اور میری کیبنٹ نے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی، مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی قوم کو بحران سے نکالیں، پسے ہوئے غریب آدمی کے لئے حالات کو بہتر کریں، دوست ممالک سے بھی بات کر رہے ہیں کہ یہاں سرمایہ کاری کریں، مقصد یہ ہے کہ یہاں بے روزگاری کم ہو۔ سڑکیں بند کرنے کا نقصان غریبوں کو ہے، میں اپنے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ کسی صورت میں آپ کو ان عناصر کے اکسانے میں نہیں آنا ہے، یہ ملک سے دشمنی ہو رہی ہے۔ عوام سے درخواست ہے انتشار پھیلانے والوں کے فریب میں نہ آئیں۔ فوج نے ہمیں دہشتگردی کی مشکل جنگ سے نکالا ہے، انہوں نے قربانیاں دی ہیں، نقصان کس کا ہے اس سے فائدہ دشمنوں کا ہے۔ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ملک کی خاطر ان عناصر کی باتوں میں نہیں آئیں ، میں ان عناصر سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ریاست سے نہ ٹکرانا، اپنی سیاست چمکانے اور اپنا ووٹ بینک بڑھانے کیلئے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں آگے اچھا وقت آ رہا ہے۔ درپیش حالات کا یہ تقاضا ہے کہ ریاست بھی سوجھ بوجھ سے کام لے ایسے میں ذرا سا بھی کوئی غلط اقدام خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے، حکومت اور دوسرے فریق کیلئے ضروری ہے کہ معاملات کو سڑکوں کے بجائے آپس میں بیٹھ کر حل کریں۔
آصف زرداری کی حکومت کو پیشکش
آصف علی زرداری جنہیں مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح طورپر کہہ دیا کہ ہم حکومت سے تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں ان کا یہ بیان نہایت خوش آئند ہے کیونکہ جمہوریت کے دور میں ہی ملک اور قوم پھلتے پھولتے ہیں، یہ الزام تراشیوں کی سیاست جو دہائیوں سے ہم وراثت میں لیکر چلتے آرہے ہیں اس کو ختم کرنا ہوگا ، آخر کوئی تو ہوگا کہ جو پہلا قدم بڑھائے گا ، حکومت کی جانب سے بھی زرداری کے بیان کو سراہا گیا ہے انہوں نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کردی ۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیارہیں، 5 سال کے دوران ہم حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے، میاں صاحب کے ساتھ بھی کام کرنے کو تیارتھے بالکل اسی طرح اس حکومت کے ساتھ بھی تیارہیں لیکن شرط یہ ہے کہ جوکام کا پیمانہ ہووہ صرف انصاف پرمبنی ہو۔ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، جمہوریت میں کمزوریاں ضرورہیں، سب بیٹھ کرایک حل تجویزکریں جس سے ہم پاکستان کومسائل سے نکال سکیں، اگرہم توجہ نہیں دیں گے تومسائل بڑھتے جائیں گے۔ میں نے سی پیک کا نظریہ سوچا، اگرگوادرپورٹ کونکال دیں تو آگے سی پیک کیا بنتا ہے، پاکستان کی ترقی کا سب سے چھوٹا راستہ سی پیک ہے، ہمیں پاکستان کو مضبوط بنانا ہے لیکن شارٹ ٹرم ٹرانزیشن سے نہیں۔ پانی کا مسئلہ بنیادی طور پر انسانی حقوق کا معاملہ ہے، کراچی کی آبادی 3 کروڑ ہے، جس میں ایک کروڑ بہاری، بنگالی اور خیبر پختونخوا سے آنے والے دوست ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو گندم اور چینی درآمد کی جارہی تھی، ہم نے سندھ میں دراوڑ ڈیم بنایا، ایک ایکڑ پر تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار گیلن پانی ہر فصل کو دیتے ہیں، اگر اتنا پانی فصل کو دیا جاتا ہے تو کتنا پانی بچایا جاسکتا ہے، ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بہترین فارمولا آپس میں مفاہمت ہی ہے اور مل جل کر ہی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
تیل مصنوعات کی قیمتوں میں نا مناسب اضافہ
حکومت نے دگرگوں حالات کے دوران ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا، عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبتی جارہی ہے مگر چونکہ حکومت نے کہا ہے کہ مزید مہنگائی ہوگی سو وہ اسی فارمولے پر گامزن ہے، دوسری جانب وزیراعظم آئی ایم ایف جانے کے بجائے دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں جن سے مالی امداد کیلئے مذاکرات جاری ہیں ، سعودی عرب نے تو قابل ذکر مدد کردی ہے دیگر ملکوں کی جانب سے ابھی جواب آنے کا انتظار ہے ، حکومت ایسے میں مزید مہنگائی کرنے کی بجائے اسے کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کرے کیونکہ صرف ایک پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے دیگر تمام زندگی سے متعلق ضروری اشیاء مہنگائی کے آسمان چھونے لگتی ہیں ایسے میں جب عوام کو دووقت کی روٹی اور بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا مشکل ہو تو ہوشربا مہنگائی کی وجہ سے مزید مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔