- الإعلانات -

مولاناسمیع الحق کی شہادت پاکستان اورعالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان

adaria

مولاناسمیع الحق ایک جیدعالم اوردارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اعلیٰ تھے، مولانافضل الرحمان نے بھی ان کے مدرسے میں آٹھ سال تک تعلیم حاصل کی، اس طرح فضل الرحمان کاشمار بھی ان کے شاگردو ں میں ہوتا ہے۔مولاناسمیع الحق کوفادرآف طالبان سمجھاجاتاتھا وہ افغانستان سے غیرملکی فوج کے انخلاء کے حامی تھے انہوں نے کبھی بھی پرتشدد کارروائیوں کی حمایت نہیں کی اور جب بھی پاکستان پر کوئی ایساوقت آیا تو ہمیشہ انہوں نے امن ہی کی بات کی اور پاکستان کی حمایت میں بولے ۔تحریک طالبان پاکستان اور افغانستان میں انہیں انتہائی قدرومنزلت سے دیکھاجاتاتھا۔ گزشتہ تین پشتوں سے ان کاخاندان پارلیمنٹ میں نمائندگی کررہاتھا مولاناسمیع الحق کے والدمحترم عبدالحق قومی اسمبلی کے رکن رہے بعدازاں 1985ء سے 1991 اور 1991 سے 1997تک مولاناسمیع الحق سینیٹ کے رکن رہے ان کے صاحبزادے حامدالحق بھی قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔مولاناسمیع الحق کو پاکستان میں امریکہ مخالف تصور کیاجاتاتھا وہ ساری عمرکسی نہ کسی صورت میں دینی جماعتوں سے وابستہ رہے ،متحدہ مجلس عمل کے قیام میں ان کابڑاعمل دخل تھا وہ دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ تھے ۔مولاناسمیع الحق ایک ایسی آواز تھی جس کو امن کاداعی کہاجائے توغلط نہ ہوگا ۔ایسے وقت میں ان کی شہادت جب ملکی حالات نا گفتہ بہ تھے بہت سے معنی خیزسوال چھوڑ جاتی ہے۔ گزشتہ روز راولپنڈی میں وہ اپنی رہائش گاہ میں مقیم تھے کہ نامعلوم افراد نے انہیں چھریوں کے وارکرکے شہید کردیا اور قاتل موقع واردات سے فرار ہوگئے ۔ کمال حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جہاں پر مرحوم قیام پذیرتھے وہاں پر سیکیورٹی کا انتہائی اعلیٰ انتظام ہے لیکن تاحال کوئی ایسی بات سامنے نہیں آسکی جس سے پتہ چل سکے کہ ان کے قتل میں کون ملوث تھا البتہ وقوعہ کے روز مولاناسمیع الحق اپنی رہائش گاہ پرآرام کررہے تھے کہ دو افراد ان سے ملاقات کرنے کے لئے آئے ۔مولانانے خود ہی اپنے خدمت گار اورگن مین کومہمانوں کے لئے سوداسلف لینے کے واسطے باہربھیجا جب یہ واپس آئے تومولاناسمیع الحق بیڈ پرشدید زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے انہیں فوری طورپر قریبی نجی ہسپتال پہنچایاگیا لیکن زخم اتنے شدید تھے کہ وہ راستے ہی میں شہید ہوگئے اور جانبرنہ ہوسکے۔ پولیس نے ذاتی ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے کہاجارہاہے کہ مبینہ قاتل پہلے بھی ملنے کے لئے آتے رہتے تھے۔وزیراعظم عمران خان نے فوری تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے مولاناکی شہادت کے بعد مثبت سیاست کاایک باب بن ہوگیا ہے ان کی آواز کو کس نے اور کیوں دبایا اس کے بارے میں قبل ازوقت کہنا کچھ بھی درست نہیں یہ تو ابھی تحقیقات ہوں گی ،ملازمین سے تفتیش ہوگی اس کے بعد پتہ چلے گا کہ کون سی قوتیں ان کے قتل میں ملوث ہیں۔

حکومت اورتحریک لبیک کے مابین کامیاب معاہدہ
آسیہ ملعونہ کے حوالے سے ملک بھرمیں جو احتجاج چل رہاتھا اور سارا ملک بند پڑا ہواتھا، دھرنوں کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج تھی دھرنا دینے والے اس بات پر بضد تھے کہ آسیہ ملعونہ کو پھانسی دی جائے اس کے بغیر وہ کسی نکتے پررضامندنہیں ہونگے،حکومت نے اس سلسلے میں اہم کردارادا کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے جاکر دھرنے والوں سے کامیاب مذاکرات کئے اوراس کے نتیجے میں دھرناختم ہوگیا باقاعدہ معاہدہ طے کیاگیاجس میں کہاگیا کہ حکومت نظرثانی درخواست پراعتراض نہیں کرے گی،نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے کارروائی کی جائے گی اس موقع پرتحریک لبیک کی جانب سے جو بیانات دیئے گئے جن سے کسی کی دل آزاری ہوئی اس پرمعذرت بھی کی گئی، معاہدے پر حکومتی ٹیم کے نورالحق قادری، راجہ بشارت، تحریک لبیک کے پیرافضل قادری اور وحیدنور نے دستخط کئے،یہ پانچ نکاتی معاہدہ ہے جس کے تحت آسیہ بی بی کے مقدمے میں نظرثانی کی اپیل دائرکردی گئی ہے جو مدعاعلیہان کا قانونی حق واختیار ہے جس پرحکومت اعتراض نہیں کرے گی ،آسیہ مسیح کانام فوری طورپر ای سی ایل میں شامل کرنے کیلئے قانونی کارروائی کی جائے گی، آسینہ کی بریت کے خلاف تحریک میں اگرکوئی شہادتیں ہوئی ہیں ان کے بارے میں فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، آسیہ کی بریت کے خلاف تیس اکتوبر اور اس کے بعد جوگرفتاریاں ہوئیں ان افراد کو رہا کردیاجائے گا، معاہدے میں آخری اورپانچواں نکتہ یہ ہے کہ اس واقعہ کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یاتکلیف ہوئی تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے۔یہ ایک انتہائی خوش آئند اقدام ہے اور حکومت نے جو بھی اس حوالے سے قدم اٹھایا وہ لائق تحسین ہے کیونکہ کسی بھی ناخوشگوارواقعہ کے پیش آنے سے قبل ہی اس مسئلے کو انتہائی خوش اسلوبی سے حل کرلیاگیاہے اور اب امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی انتہائی زیرک انداز سے اس مسئلے کو حل کیاجائے گا اورآئندہ کے لئے ایسا لائحہ عمل طے کیاجائے کہ کوئی بھی شخص آپﷺ کی شا ن میں گستاخی کرنے کی جرات نہ کرسکے ۔
عمران خان کی چین کے صدر سے ملاقات
وزیراعظم عمران خان چین کے دورے پر موجود ہیں جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے علیحدہ اور وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔ وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی، اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ آپ کا ویژن اور قیادت رول ماڈل ہے، غربت اور کرپشن جیسے مسائل سے جس طرح چین نے نمٹا یہ اپنی مثال آپ ہے۔ چینی صدر کا بات چیت کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نہ صرف باہمی بلکہ خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی فائدہ مند ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے سٹرٹیجک تعلقات مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے پاکستان کو ملنے والے مالیاتی پیکج پر بات چیت کی۔چونکہ اقتدار میں آنے سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اورموجودہ وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں قوم سے کہاتھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے اس سلسلے میں وہ سرگرداں ہیں اور اس وقت وہ اس ملک کے دورے پرہیں جس کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے زیادہ گہری ،شہدسے زیادہ میٹھی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرمشکل وقت میں چین پاکستان کے ہم قدم نظرآیا ہے جہاں پاکستان نے چین کاساتھ دیاہے اور سب سے پہلے دنیا میں چین کے معر ض وجود کوپاکستان نے ہی تسلیم کیاتھا یہ وہ لمحہ تھا جس وقت دونوں ممالک کے درمیا ن دوستی اورمحبت کی داغ بیل پڑی اورآج وہ اپنے مکمل عروج پرہے ۔سی پیک کامعاہدہ گوادر بندرگاہ اور دیگرمعاہدات اس بات کاثبوت ہیں ۔اب جبکہ وزیراعظم وہاں دورے پرموجود ہیں تو ایسے میں واضح طورپر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ چین پاکستان کو کسی صورت بھی مایوس نہیں کرے گا اور وہ ایک بھاری امداد فراہم کرے گا جس سے پاکستان معاشی طورپراپنے قدموں پرکھڑاہونے کے قابل ہوجائے گا پھر سی پیک کا منصوبہ بھی پاکستان کو مزید چارچاندلگادے گا اس کی پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد ہمارے معاشی زون میں دن دگنی را ت چوگنی ترقی ہوگی معاشی اعتبار سے ہٹ کردفاعی حوالے سے بھی ہمیشہ چین پاکستان کے ہم قدم ہی رہا اور بین الاقوامی سطح پربھی اس نے کھل کرپاکستان کی حمایت کی ہے۔