- الإعلانات -

تھر، پیاس، بیماری اور میٹھے پانی کے کنوئیں

تھرپارکر، سندھ کے جنوب مشرق میں واقع صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے، جس کا ہیڈ کوارٹر مِٹھی میں ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریباً 23 ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی 17 لاکھ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تھر میں 2500 کے قریب گوٹھ ہیں۔ زیادہ تر گوٹھ کچے کے علاقے میں ہیں اور ان میں مختلف تعداد میں لوگ مقیم ہیں۔ قدیم دور میں یہ علاقہ سرسوتی دریا کے ذریعے سیراب ہوتا تھا۔ بعد ازاں ’’مہرانوں نہر‘‘ کے ذریعے اسے سیراب کیا جاتا رہا۔ اس کے علاوہ تھرپارکر کی سیرابی کے لیے دریائے سندھ سے ایک بڑی نہر ’’باکڑو‘‘ نکلا کرتی تھی، جسے 17 ویں صدی میں کلہوڑا حکم رانوں نے سیاسی مخالفت کی بنیاد پر بند کروا دیا، جس کے سبب تھر مزید خشک سالی کا شکار ہوا۔ تھر کے مقامی لوگ ’’کرنل تھروٹ‘‘ کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے 1882ء میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کئی مقامات پر تالاب بنوائے تھے، جہاں سے عام لوگوں کو پانی دست یاب ہوتا۔ آج کل تھر پیاسا ہے۔ پچھلے سال سے اب تک بہت کم بارشیں ہوئیں۔ ان دنوں سے تھر سے نقل مکانی جاری ہے۔ تھر میں بھوک، پیاس بیماری اور موت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ روزانہ بچوں کی اموات کی خبریں آ رہی ہیں۔ جانوروں کے لیے چارہ ہے اور نہ خوبصورت موروں کے لیے خوراک۔ بچوں کی اموات کے ساتھ، موروں اور جانوروں کی اموات کی بھی خبریں مسلسل آ رہی ہیں۔ تھر کا بنیادی مسئلہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی مہیا ہو جائے تو پیاسا تھر سیراب ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر آصف محمود جاہ اور ان کی کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی میڈیکل شعبے میں جو خدمات ہیں اور غریب خاندانوں کو زندگی کی ضروریات کی ہر چیز فراہم کرنے کی جو کاوشیں ہیں، ان کا احاطہ کرنے کے لئے تو پوری ایک کتاب تحریر کی جا سکتی ہے۔حال ہی میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی نے تھر میں پینے کے پانی سے لے کر خوراک اورادویات کی فراہمی کو جس طرح ممکن بنایا وہ ایک خوبصورت عمل ہے۔ راقم الحروف سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف جاہ نے بتایا کہ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیمیں تھر کے صحرا میں مارچ 2014ء سے مصروفِ عمل ہیں۔ اب تک تھر کے صحراؤں میں 600 سے زیادہ کنوئیں بنوائے جا چکے ہیں جن سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں انسان اور جانور سیراب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں تھر میں خوراک اور پانی کی کمی، بیماری اور انفیکشن کی وجہ سے 400 سے زائد بچے فوت ہو چکے ہیں۔ بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ ماؤں کی چھوٹی عمر میں شادی اور خوراک کی کمی کی وجہ سے ان کا وقت سے پہلے اور کم وزن میں پیدا ہونا ہے۔ اکثر بچے غذا کی کمی کی وجہ سے انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماؤں کی چھاتیاں پیاسے تھر کی طرح خشک ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ بچوں کو اپنا دودھ بھی نہیں پلا سکتیں۔ آج بھی پیاسے انسانوں اور جانوروں اور خوبصورت موروں کی پیاس بجھانے کے لیے کنواں بنوانا بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے۔ تھر میں ایک کنوئیں پر جو 100۔ 350 فٹ تک گہرا ہوتا ہے، 2 سے ڈھائی لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ صحیح طریقے سے بنا ہوا کنواں 50 سال سے لے کر 100 سال تک پانی دیتا رہتا ہے۔ روزانہ اس سے سینکڑوں گھڑے بھرے جاتے ہیں اور لاتعداد جانور اس کا پانی پیتے ہیں۔ اس صدقہ جاریہ میں جو بھی حصہ لے گا، اس کے لیے اجر عظیم ہے اور جنت کا وعدہ ہے۔ ہادئ دو جہاںؐ کے ارشادات سے ثابت ہوتا ہے کہ کنواں بنوانا اور اس سے پیاسوں کو پانی پلانا اصلی صدقہ جاریہ ہے۔ ہم نہیں ہوں گے مگر یہ کنوئیں انسانوں اور جانوروں کو سیراب کرتے رہیں گے جس سے کنواں بنوانے والے قبریں ٹھنڈی ہوتی رہیں گی۔کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کا یہ طُرّۂ امتیاز ہے کہ جہاں بھی کوئی آفت ہوتی ہے وہاں علاج اور خدمت کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ تھر میں نئے کنوئیں بھی بن رہے ہیں۔ گوٹھ ڈھونج، تھر پارکر اور بدین میں قائم 4 ڈسپنسریوں میں اب تک 5 لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ لاکھوں روپے کی اشیائے خورد و نوش تھرپارکر کے مکینوں میں تقسیم کی گئی تھیں۔ جب سے تھر میں دوبارہ سے قحط کے آثار پیدا ہوئے، دوبارہ سے ریلیف کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ مٹھی سے ڈھونج، ننگر پارکر اور اسلام کوٹ تک مختلف گوٹھوں میں 2500 خاندانوں میں کروڑوں روپے کی ریلیف اشیاء دوبارہ تقسیم کی جا چکی ہیں اور روزانہ کی بنیادوں پر مزید اشیائے خورد و نوش اور دوسری ریلیف اشیاء کی تقسیم جاری ہے۔ جن جن گوٹھوں سے کنوؤں کی درخواست آ رہی ہے، وہاں نئے کنوئیں بنوائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ غریب اور نادار مریضوں کے علاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سوسائٹی کی طرف سے تھر میں تمام کنوئیں ضرورت کی بنیاد پر بلا تخصیص رنگ و نسل و مذہب بنائے گئے ہیں۔ تھر کی آدھی آبادی ہندوؤں پر مشتمل ہے۔ ان میں زیادہ تر کوہلی، بھیل، میگھواڑ اور غریب ہندو شامل ہیں۔ اس دفعہ تھر جانا ہواتو مختلف گوٹھوں سے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس دو چار مرد صرف چھوٹی سی دھوتی میں ملبوس اور ننگے بدن، پاؤں جوتوں سے بے نیاز، پیچھے پانچ چھ ناریاں رنگی برنگی ساڑھیوں اور کندھے تک چوڑیاں پہنے ہوئے سب ڈرتے ڈرتے آگے بڑھے۔ آگے آتے ہی گڑ گڑانے لگے، بولے۔ ہم بھیل اور کوہلی ذات کے ہندو ہیں غریب ہیں، لاچار ہیں، بے بس ہیں، ذریعہ آمدنی کوئی نہیں۔ دو چار جانور تھے۔ وہ بھی بیماری سے مر گئے۔ آپ مختلف گوٹھوں میں کنوئیں کھدوا رہے ہیں۔ اپنے اللہ اور رسولؐکے نام پر ایک کنواں ہمارے لیے بھی کھدوا دو۔ ہندو بھائیوں بہنوں کی فریاد سن کر فوراً گل دراز خان اور سکھیا کو ان کے علاقے کا سروے کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے اگلے دن ہی آ کر رپورٹ دی کہ واقعی وہاں کنوئیں کی ضرورت ہے۔ اگلے روز ان کے گوٹھ کے لیے کنواں بنوانے کا کہہ دیا گیا۔ سامان پہنچ گیا اور کنوئیں کی تعمیر شروع کی۔ علاقے کے سارے لوگوں بلکہ عورتوں نے کنوؤں کی تعمیر میں بھرپور مدد کی۔ ایک مہینے کی کھدائی اور بھرائی کے بعد کنواں مکمل ہو گیا اور اللہ کے فضل سے میٹھا پانی بھی نکل آیا۔ اب ان نچلی ذات کے ہندوؤں کا اپنا کنواں ہے، جہاں سے وہ خوشی خوشی پانی نکالتے ہیں۔اب تک ہندوؤں کے گوٹھوں میں 250 سے زائد کنوئیں بنائے گئے ہیں۔ اس دفعہ بھی 1000 سے زائد ہندو خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا۔ ہندوؤں کے گوٹھوں میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا گیا۔ کنوئیں بنانے کے ساتھ ساتھ میں تھر کو سرسبز بنانے کی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی طرف سے بنائے گئے کنوؤں کے ساتھ لوگوں نے پہلے سے کاشت کاری شروع کر دی ہے۔ گذشتہ دن ننگرپارکر میں ایک کنوئیں کے ساتھ لوگوں نے پیاز کی کاشت کی جس سے ایک سال میں 5200 من پیاز اُگایا گیا۔ کنوؤں کے ساتھ اب تھر میں تھر کو سرسبز بنانے کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی صاف سرسبز پاکستان کی طرز پر ’’گرین تھر‘‘ آئیے تھر کو سرسبز بنائیں کی مہم شروع کر دی گئی ہے جس کے تحت تھر میں زرعی فارم بنائے جا رہے ہیں۔ ان زرعی فارم سے حاصل کی گئی سبزیاں، گندم، پیاز، مرچ، بیر اور چارہ تھر کے لوگوں میں مفت تقسیم کیا جائے گا۔