- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر اور اس کا حل

بھارت گزشتہ 71برس سے دنیا میں ایک غلط تاثر پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کشمیری عوام کوئی بے چین نہیں ہیں اور یہ پاکستان ہے جو اپنے تربیت یافتہ لوگوں اور اسلحہ کی ترسیل کے ذریعے متحرک ہے اور در اندازی کا مرتکب ہو رہا ہے ۔سوال یہ ہے کہ لاکھوں مردوں عورتوں اور بچوں کا ہجوم کشمیر کی سڑکوں پر احتجاج اور مظاہرے کر رہا ہے اور بھارتی فوج کی ان معصوم بے گناہ کشمیریوں پر فائرنگ سے روزانہ کشمیری نوجوان شہید ہو رہے ہیں ۔ہڑتالوں میں تمام بازار ،دفاتر اور بینک بند ہوتے ہیں کیا یہ سب پاکستانی ایسا کرتے ہیں ؟دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والی حکومت کو اس حقیقت پر غور کرنا چاہیے کہ آخر کیوں اس کے زیر تسلط علاقوں میں پندرہ اگست ان کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے اگر وہ کھلے اور زندہ ضمیر کے ساتھ اس شرمناک صورتحال کے بارے میں سوچے تو اسے صحیح نتیجے تک پہنچنے میں زیادہ تگ و دو نہیں کرنے پڑے گی کیونکہ آزادی جہاں اپنے لئے ضروری خیال کی جاتی ہے وہاں دوسروں کی آزادی کا احترام بھی جوش و جذبے کے ساتھ کرنا ہی جمہوریت پسندی اور جمہوری اقدار کا احترام سمجھا جاتا ہے ۔سب باشعور ،ذی فکرو دانش ،جمہوریت نواز اور انصاف طبائع اس حقیقت و صداقت سے منکر نہیں ہو سکتیں کہ دوسروں کی آزادی غصب کرنا اور خود آزادی کے جشن منانا ایک کھوکھلا اور بے معنی فعل ہے ۔امسال بھی اہل کشمیر نے بھارت کے یوم آزادی کی تقریبات میں حصہ نہ لے کر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کیلئے آزادی کا دن وہی ہو گا جس دن وہ اپنے حق خود اختیاری سے بہرہ ور ہو سکیں گے ۔معزز قارئین تنازعہ کشمیر کی حقیقت سے آگاہی کیلئے راقم نے اس کے جغرافیائی ،سیاسی پس منظر پر مختصراً روشنی ڈالنے کی سعی کی ہے۔

کشمیر جنت نظیر اور تنازعہ کشمیر ایک نظر میں
کشمیر جس کو سرزمین بہشت یا ایشیاء کا سوئٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے جنوب ایشیاء کے بیچوں بیچ واقع ہے ۔پاکستان چین انڈیا اور افغانستان سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں کشمیر کی آبادی تقریباً دوکروڑ نفوس پر مشتمل ہے اور اس کا رقبہ پچاس ہزار مربع میل ہے اس خطے کی اکثریت آریائی نژاد ہے جبکہ بلتستان اور لداخ کے علاقوں میں بسنے والے کچھ لوگ مغل نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں جموں و کشمیر میں اسی فیصد مسلمان آباد ہیں کشمیر اور پاکستان کی کئی سو میل سرحد مشترکہ ہے اور اس کے تمام دریا پاکستان میں اترتے ہیں ریاست جموں و کشمیر مختلف ادوار میں مختلف بادشاہوں کے زیر تسلط خود مختار اور نیم خود مختارحکومتوں میں منقسم رہی کبھی اس ارض جنت پر مغلوں کی فرماں روائی کا پرچم لہراتا رہا تو کبھی افغان بادشاہوں کی سطوت اس پر سایہ فگن رہی ۔1846ء میں انگریز سامراج نے مہا راجہ گلاب سنگھ سے 75لاکھ روپے وصول کر کے کشمیر کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں تھما دی جس نے کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ۔کشمیر کا مسئلہ کیسے پیدا ہوا ؟پروفیسر لارنس دی رنگ ماہر تاریخ و تحقیق اور پیٹرک فرنچ نے اپنی تحریروں میں صاف الفاظ میں واضع کیا ہے کہ کشمیر کے جھگڑے کی ذمہ داری برطانیہ پر ہے اپنی کتاب ’’ بیسویں صدی میں پاکستان‘‘ میں انہوں نے لکھا کہ تقسیم ہند کے وقت پنجاب اور بنگال کے صوبے تھے لیکن آخری وقت 17اگست1947ء کو گورداسپور اور بٹالہ کے مسلمان اکثریت کے علاقے بھارت میں شامل کر دیے گئے اس کا مقصد سکھوں کو سہارا دینا نہ تھا بلکہ بھارت کا جموں اور کشمیر سے بذریعہ سڑک رابطہ بنانا مقصود تھا حالانکہ انبالہ ،نوک دار ،جالندھر اور تحصیل فیروز والہ میں مسلمانوں کی آبادی اکثریت میں تھی اس کے برعکس ہندو اکثریت والی تحصیل مغربی پنجاب میں شامل نہیں کی گئی یہ سب کچھ لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائس رائے آف انڈیا کی سٹریٹیجک پالیسی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کو کمزور کیا جائے جب بھارت کو کشمیر تک جانے کیلئے پٹھان کوٹ تحصیل کا راستہ مل گیا تو مہاراجہ کے ساتھ سازش کے ذریعے لکھوا لیا کہ وہ ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ انڈین فوج 27اکتوبر1947ء کو سرینگر پہنچ گئی کشمیری عوام اس جارحیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کشمیر کے 1/3حصے پر شدید جنگ کے بعد قبضہ کر لیا جس کو آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے یکم نومبر1947ء کو ہندوستانی تجویز پر ہی بذریعہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو استصواب کے ذریعے حل کرنے کا سمجھوتہ ہوااس کے تحت دونوں میں لڑائی بند ہوگئی اور اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کے حق خود مختاری اور خود آزادی کو قانونی طور پر تسلیم کرتے ہوئے عام استصواب رائے پر مشتمل قراردادیں13اگست1948ء اور5جون1949ء کو پاس کیں جن کو دو فریقین انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں نے تسلیم کیا حکومت انڈیا کی طاقت کے استعمال پر مبنی استبدادی پالیسی نیز اقوام متحدہ کی بے بسی کی بنا پر ان قراردادوں پر ابھی تک عمل درآمد نہ کرایا جا سکا ۔1948ء سے1953ء تک ہندوستان استصواب کی بات کو ٹالتا رہا لیکن8اکتوبر 1953ء کو شیخ عبداﷲ کو کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے برخاست کر دیا گیا اور ہندوستان استصواب کے وعدے سے مکمل ظور پر منحرف ہوگیا 1962ء میں چین کے ساتھ لڑائی پر ہندوستان نے وعدہ کیا کہ اگر پاکستان نے کشمیر پر حملہ نہ کیا تو وہ اس مسئلہ کو حل کر دے گا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اپنے وعدے سے مکر گیا مارچ1965ء میں ہندوستان کی اسمبلی نے الحاق کا بل پاس کر دیا جس کے تحت کشمیر ہندوستان کا صوبہ بن گیا نتیجہ یہ ہوا کہ ستمبر1965ء میں ہندوستان سے لڑائی چھڑ گئی 10جنوری1966ء تاشقند کا صلح نامہ ہوا اور اچھے دوستوں کی طرح رہنے کے عہدو پیمان کے ساتھ ہندوستان کے سر سے بلائے ناگہانی ٹل گئی اس صلح نامے سے پاکستان میں بڑی بددلی پھیلی اور مسئلہ کشمیر جوں کا توں رہا 1971ء کو پاکستان دولخت ہوا اور ہندوستان اور پاکستان کے مابین شملہ معاہدہ ہوا کشمیر کے عوام اپنی سرزمین پر ہندو کے قبضے کے بعد سے ہی اپنی خود مختاری کے حوالے سے پر امن جدوجہد کے خواہاں رہے ہیں 1989ء کے موسم گرما کے بعد سے کشمیری جدوجہد کو ایک خاص سمت ملی حکومت ہند نے مذکورہ عوامی تحریک کی شروعات کے بعد سے مختلف غیر انسانی اور دہشت پسندی پر مشتمل اقدامات کا سہارا لیا ہے اور اب تک یونیفارم پوش ہزاروں بے دفاع لوگوں کے قتل ،خواتین کی آبرو ریزی ،کروڑوں روپے کے اموال کی تباہی ،مقدس مقامات کی بے حرمتی اور بے گناہ لوگوں کی گرفتاری سے جیلوں کو بھر رہے ہیں۔

تنازعہ کشمیر کا حل
پاکستان کی وفاقی وزیر برائے حقوق انسانی ڈاکٹر شیریں مزاری نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے غیرجذباتی تجاویز پیش کی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کو آئر لینڈ امن معاہدہ کی طرز پر کسی حل کا منصوبہ دینا چاہیے ۔انہوں نے مشورہ دیا کہ ریاست جموں کشمیر کیلئے مشرقی تیمور کی آزادی و خود مختاری جیسا طریقہ کار اختیار کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل میں تمام کشمیری باشندوں کی رائے لی جائے اور اسے حق خود ارادیت بنیاد پر حل کیا جائے۔معزز قارئین اگر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج تک مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مختلف قیاس آرائیاں ،اندازے اور تجاویز سامنے آتی رہیں ۔ان تجاویز میں کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کرنا ،ریاست جموں و کشمیر کو پاک بھارت مشترکہ کنٹرول میں دے دینا ،ریاست جموں و کشمیر کو آزاد خود مختار بنانا ،ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کم ازکم دس سال کیلئے ریاست جموں و کشمیر کو یو این او کے حوالے کر دیا جائے وہی اس کے نظم و نسق کو کنٹرول کرے اور چلائے بعد میں کشمیریوں کی خواہش اور مرضی سے اس مسئلہ کا حل تلاش کرے ۔ایک اور تجویز ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنی افواج کشمیر سے نکال لیں اور آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ حکومتیں باہمی رضا مندی سے مسئلہ کشمیر کا کوئی ایسا حل نکالیں جو سب کو قابل قبول ہو مسئلہ کے حل کیلئے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ریاست کو دوقومی نظریہ کی بنیاد پر تقسیم کر دیاجا ئے اور کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی اپنائی جائے ۔میرے معزز قارئین جہاں تک پہلی تجویز کا تعلق ہے کشمیریوں کے نزدیک یہ حل قابل قبول نہیں دوسری تجویز سے تنازعہ حل ہونے کی بجائے پاک بھارت دشمنی بڑھ سکتی ہے تیسری تجویز جو آزاد اور خود مختار کشمیر کے حوالے سے ہے اس سے ریاست جموں و کشمیر پر امریکہ کی مکمل اجارہ داری متوقع ہے اور وہاں پر وہ اپنا مستقل مستقر فوجی ہوائی اڈے کی شکل میں قائم کر سکتا ہے جس کے خطرات سے پاکستان اور بھارت کے ساتھ چین اور روس بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے جہاں تک ریاست کو یو این او کے حوالے کرنے کا تعلق ہے اس سے بھی امریکی اجارہ داری کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یو این او امریکہ کے سامنے بے بس ہے ساؤتھ کوریا ،تائیوان ،افغانستان اور عراق کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔جہاں تک بھارت اور پاکستان کا کشمیر سے فوجیں نکالنے کا تعلق ہے اور دو قومی نظریہ پر اس کی تقسیم کا تعلق ہے ،بھارت ایسا کبھی نہیں چاہے گا میرے واجب الاحترام قارئین تو پھر اس مسئلے کاحل کیا ہو سکتا ہے یہ مسئلہ بڑا سنجیدہ ہے پاکستان کی سالمیت کشمیر سے وابستہ ہے او ر صرف اور صرف آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری ہی واحد ایسا حل موجود ہے جس سے اہل کشمیر کی مرضی اور خواہش کا پتہ چلایا جا سکتا ہے ۔یو این او اس تنازعہ پر اپنا فعال کردار اد ا کر تے ہوئے اپنے نمائندے بھیجے جو دونوں ممالک کے اکابرین کو مذاکراتی میز پر بٹھائیں اور کشمیر کا فیصلہ اہل کشمیر کو اپنی مرضی اور خواہش سے کرنے دیا جائے مقبوضہ کشمیر میں متعصب بھارتی جنتا کی ظالم فوج اور جدوجہد آزادی کے درمیان تصادم کے بعد مظاہرین کی روزانہ ہونے والی شہادتوں سے یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ کشمیر بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔