- الإعلانات -

مسلمان رسوا کئے جا رہے ہیں

آنسوؤں کے متعلق اکثر شعراء نے اظہار خیال کیا ہے کیونکہ ان کی زندگیاں بھی غربت و افلاس کی جھکڑ بندیوں میں آنسو بہاتے ہی گزریں

جب قلم ہی آنسو روتا ہو
وہ افسانہ سنائیں کیا
وطن عزیز پر بیرونی اور اندرونی حملہ آوروں کے باعث شہادتیں اور ہلاکتیں روز مرہ کا معمول بن چکی ہیں ۔اپنی ریاست کے آنسوؤں کو دیکھ کر ہر فرد کی روح تک گھائل ہے کیونکہ بقول ستار سید
ہم کیوں نہ ہوں اداس کہ بحران کے سوا
حالات اور کوئی خبر دے نہیں رہے
شب ڈھل چکی افق پہ ہیں خون رنگ سرخیاں
کیوں تم ہمیں نوید سحر دے نہیں رہے
خوشی و غم کے ساتھ آنسوؤں کا ازلی تعلق ہے دونوں مواقع پر انسانی آنکھ آنسو بہانے پر مجبور ہوتی ہے ،یہی فطرت ہے۔بقول شاعر
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
وقت کتنا ظالم ہوتا ہے کہ آنسوؤں کے سمندر میں ڈبو کر رخصت ہو جاتا ہے ۔آنسوؤں کی جھڑی جدائی کو لافانی بنا دیتی ہے ۔جدائی کا درد ہمیشہ کیلئے بچھڑنے والوں کا غم آنسوؤں میں بہتا ہے ۔یہ دنیا ہے ،کئی بد قسمت انسان نصیب ہی ایسا لے کر آتے ہیں کہ ان کی پوری زندگی ہی روتے اور آنسو بہاتے بسر ہو جاتی ہے ۔رات کے وقت قادر مطلق کی بارگاہ میں اپنے گناہوں پر نادم ہونے ،معافی مانگنے ، استغفار کرنے، آنسو بہا کر گریہ کناں ہونے سے بھی دلی راحت وسکون ا ور بارگاہ رب جلیل سے معافی مل جاتی ہے ۔آنسوؤں کے متعلق صاحب بصیرت دانش مند کئی محاورے بھی احاطہ تحریر میں لا چکے ہیں جیسا کہ ٹسوے بہانا۔کئی لوگ بھی جھوٹے آنسو بہانے کے ماہر ہوتے ہیں ۔پلاننگ کر کے بھی آنسو بہا سکتے ہیں لیکن ہر ایک کیلئے ایسے آنسو بہانا ناممکن ہوتا ہے کیونکہ آنسو بہانے کی بھی وجوہات ہوتی ہیں ویسے بھی مرد کیلئے آنسو بہانا مشکل ہے۔کئی مشہور زمانہ نامور لوگوں نے آنسوؤں کی قدرومنزلت میں کہا ہے کہ ہمیں ماں کے آنسوؤں نے ہمیشہ متاثر کیاہے۔مسرت کے غلبے پر بھی آنسووؤں کا بہہ جانا فطرت ہے ۔کئی لوگ ظلم روا رکھ کر بھی شاید ندامت کے آنسو بہاتے ہوں لیکن ایسا شاید حال حال ہی ہو کیونکہ یہی دیکھا گیا ہے کہ ہمیشہ مظلوم کے گھر اور صحن میں آنسو بہائے جاتے ہیں ۔ آنسو اخلاص اور صداقت کے گواہ ہوتے ہیں ۔اسی لئے ارشاد نبوی ؐکے مطابق اﷲ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں پر دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے جن کی آنکھ سے اﷲ کی محبت میں آنسو کا ایک قطرہ بھی نکلا ہو ویسے ہمارے حکمران آنسووؤں کی نعمت سے عوام کو مفت فیض یاب کرنے کیلئے شکریہ کے مستحق ہیں کیونکہ وہ عوام کو یہ مواقع زیادہ سے زیادہ مہیا کر رہے ہیں ۔ہم اپنے دینی رہنماؤں اور سیاسی قائدین میں ہمیشہ ایسے افراد کی تلاش میں سرگرداں رہے جن کی باتوں ،دعوؤں اور وعدوں کی گواہی ان کی رقیق القلبی اور پرنم آنکھیں دے سکیں لیکن ایسا درد جو آنکھوں سے ٹپک پڑے تلاش کرنا اکثر محال رہا ۔ویسے وطن عزیز کے کئی سیاسی قائدین مگر مچھ کے آنسو بہاتے پائے گئے ہیں ۔عوام کی حالت زار پردرد دل رکھنے والے نایاب رہے۔حضرت علیؓ کرم اﷲ وجہہ ایک دن اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ایک گلی سے گزر رہے تھے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص تکبیرپڑھتے ہوئے ایک بکرا ذبح کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زاروقطار روتا چلا جا رہا ہے ۔بکرے کی گردن سے خون بہہ رہا تھا اور اس شخص کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔حضرت علیؓ کے ساتھیوں میں سے ایک کے دل میں اس شخص کے آنسوؤں کو دیکھ کر انتہائی رقعت آمیز جذبے ابھر آئے ۔انہوں نے حضرت علیؓ کی توجہ اس شخص کے آنسوؤں کی طرف مبذول کروائی اور خاموشی کی زبان میں یہ اظہار کرنے کی کوشش کی کہ یہ شخص کتنا رحم دل انسان ہے کہ حلال جانور کو ذبح کرتے ہوئے بھی اس کا درد محسوس کر رہا ہے ۔آپؐ نے اپنے ساتھی کو سمجھایا کہ دیکھو اس شخص کے آنسوؤں پر مت جاؤ ۔اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھو ۔اس کے ہاتھ کیا کر رہے ہیں ؟آپ کابصیرت افروز بیان ختم ہو چکا تھا ۔مورخ نے اسے آئندہ زمانوں تک محفوظ کر لیا تھا،کیوں ؟اس لئے کہ اس ارشاد میں کمال کی حکمت پائی جاتی ہے ۔آپؑ نے اپنے ارشاد سے حکمت کے دو در وا کئے ہیں ۔آپؑ نے جو یہ فرمایا کہ بکرا ذبح کرنے والے اس شخص کے آنسوؤں کو مت دیکھو بلکہ یہ دیکھو اس کے ہاتھ کیا کر رہے ہیں ؟وہ ہاتھ تو ایک جاندارکی شاہ رگ کاٹ رہے تھے اور آنکھوں کے پانی کو بہاتے ہوئے اس امر کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ اپنے اس عمل پر بڑے غمگین ہیں ۔جس بدن کے ہاتھ خون سے لت پت ہوں اس بدن کی آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگتے ۔آنسوؤں کی یہ لڑی درویشی کی خلعت پہن کر عیاری بن جاتی ہے۔ آنسو بہانے پر راقم کو سانحہ کربلا کے حوالے سے ایک واقعہ یاد آگیا ۔اکسٹھ ہجری کو جب امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ اور ان کے 72ساتھیوں کی شہادت ہو چکی تو سادات کے خیموں کو لوٹا جانے لگا ۔ راوی کہتا ہے کہ ایک شخص سادات کے خیموں سے سامان لوٹ رہا ہے اور ساتھ رو رہا ہے ۔اس کی آنکھیں زخم نازک کی طرح نم ہیں ،لفظ ہونٹوں سے جدا اور ہونٹ جذبوں کی لے پر لرزہ بر اندام ہیں ۔راوی کہتا ہے کہ مذکورہ شخص کے ایک ساتھ دو متضاد رویوں کی انجام دہی پر میں نے اسے کہا کہ اے شخص معلوم ہوتا ہے کہ تم نبیؐ کے نواسے اور ان کے خانوادے پر برپا ہونے والے مظالم پر گریہ کناں ہو لیکن میں حیران ہوں کہ اس کے ساتھ تم اس خاندان کا اثاثہ یعنی سامان کی لوٹ مار میں بھی مصروف ہو اس شخص نے جواب دیا کہ بہت بڑا ظلم ہوا ہے اس پر مجھے دلی رنج ہے اور میں اپنے انسانی ہمدردانہ جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکا لیکن سامان اس لئے لوٹ رہا ہوں کہ اگر میں نے نہ لوٹا تو کوئی دوسرا لوٹ کر لے جائے گا۔کچھ یہی حال وطن عزیز کے حکمرانوں کا رہا ۔ہمارے یہ حکمران اس قوم کے مفلسوں پر آنسو بہاتے نظر آئے لیکن ان کے ہاتھ اس قوم کا اثاثہ لوٹنے میں ہی مصروف رہے ۔کشمیر و فلسطین ،بے گناہ لوگوں کا قتل عام ہو رہا ہے ہماری حالت تو مجبورو لاچار انسانوں کی سی ہے ،ہماری ہمت تو جواب دے گئی ہے ،حوصلے پست ہو گئے ہیں ۔اس کا علاج تو امت مسلمہ کے اتحاد و یگانگت پر منحصر ہے ۔اگر ہم یہ بھی نہیں کر سکتے کہ اخلاقی طور پر آواز اٹھائیں اور ظالم کا ہاتھ روکیں تو پھر ہم سب مل کر اپنی بے بسی پر آنسو بہائیں اور سرخرو ہوجائیں کہ جو کچھ ہمارے اختیار میں ہے ۔ہے کوئی ایسا مسیحا جو خلق انسانیت کو ان آنسوؤں سے نجات دلائے۔