- الإعلانات -

بھارتی سازشیں ، ممبئی دہشت گردی اور ۔ ۔ ! (1 )

asgher ali shad

دس سال پہلے ممبئی میں دہشت گردی کا جو واقعہ پیش آیا ۔ وہ یقیناًاپنی نوعیت کی بدترین وارداتوں میں سے ایک تھی ۔ اور اس پر بجا طور پر وطنِ عزیز کے سبھی حلقوں نے افسوس اور تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ مگر اس سارے معاملے کا یہ پہلواپنے آپ میں خاصا عجیب اور تعجب خیز ہے کہ خود بھارت کے بہت سے دانشوروں نے گذشتہ 10 سالوں میں اس امر کا اظہار کیا ہے کہ بھارت میں ہونے والے اس واقعے کو اتنا سادہ قرار نہیں دیا جا سکتا جیسا کہ یہ ظاہری طور پر نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے بھارتی صوبے یعنی مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور ’’ کانگرس ‘‘ کے جنرل سیکرٹری ’’ دگ وجے سنگھ ‘‘ ایک سے زائد مرتبہ اس امر کا انکشاف کر چکے ہیں کہ ممبئی میں ہونے والے اس واقعے میں خود بھارت کی خفیہ ایجنسیاں ملوث تھیں تبھی تو اس سانحے میں مارے جانے والے ممبئی کے اینٹی ٹیرارسٹ سکواڈ ( اے ٹی ایس ) کے سربراہ ’’ ہیمنت کرکرے ‘‘ نے اپنی موت سے تھوڑی دیر پہلے ’’ مدھیہ پردیش ‘‘ کے سابق وزیر اعلیٰ ’’ دگ وجے سنگھ ‘‘ کو خصوصی فون کر کے اس امر کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انھیں ڈر ہے کہ ہندو دہشت گرد اور آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے لوگ انھیں اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے ہاتھ ایسے ٹھوس شواہد لگے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ممبئی دہشت گردی کی کڑیاں ’’ را ‘‘ اور ’’ انڈین آئی بی ‘‘ سے ملتی ہیں ۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ’’ ہیمنت کرکرے ‘‘ کے اس انکشاف کے چند گھنٹوں کے اندر اندر کرکرے کو انتہائی پر اسرار طریقے سے قتل کر دیا گیا اور ان کی موت کے بعد ان کی بُلٹ پروف جیکٹ بھی جائے واردات سے غائب پائی گئی ۔ اس حوالے سے ان کی اہلیہ ’’ کویتا کرکرے ‘‘ نے واضح الفاظ میں ’’ را ‘‘ کے کئی اعلیٰ افسروں کو ہیمنت کرکرے کے قتل میں ملوث قرار دیا مگر چونکہ بھارت کے خفیہ ادارے خود ان کی پشت پناہی کر رہے تھے لہذا اس خاتون کی کہیں بھی شنوائی نہ ہوئی ۔ اگرچہ اس دوران اس خاتون نے بھارتی عدلیہ سمیت سبھی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر انھیں انصاف تو دور کی بات کسی نے ان کی بات سننا تک گوارا نہ کی ۔ اس معاملے کا یہ پہلو اپنے آپ میں بہت بڑا راز ہے کہ مودی کے بر سرِ اقتدار آنے کے محض چار مہینوں بعد یعنی 29 ستمبر 2014 کو کویتا کرکرے کی بھی پر اسرار انداز میں اچانک موت ہو گئی ۔ بھارتی میڈیا نے بظاہر ان کی اچانک موت کو ’’ برین ہیمبرج ‘‘ کا شاخسانہ قرار دیا مگر اکثر مبصرین متفق ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی بڑی سازش تھی مگر آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے طاقتور حلقوں نے تا حال حقیقت کو ظاہر نہیں ہونے دیا ۔ اس کے علاوہ سبھی جانتے ہیں کہ 17 برس پیشتر یعنی تیرہ دسمبر 2001 کو بھارت نے ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے کا ڈرامہ رچا یا تھا جس میں مجموعی طور پر 14 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ غیر جانبدار مبصرین نے اس معاملے کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے رائے ظاہر کی ہے کہ اس معاملے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون کے سانحے کی سنگینی کے پیش نظر بھارت سرکار نے اس موقع کو غنیمت جانا اور پوری کوشش کی کہ چونکہ پوری دنیا کی توجہ نائن الیون کے واقعے کی وجہ سے جنوبی ایشیاء خصوصاً افغانستان پر مرکوز ہو چکی ہے لہذا ایسے میں بھارتی حکمرانوں نے بھی اس بہتی گنگا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور ’’را ‘‘نے فوری طور پر تیرہ دسمبر کو بھارتی پارلیمنٹ پر نام نہاد حملے کا ناٹک رچا ڈالا جس کے فوراً بعد اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم واجپائی اور ان کے ہمنواؤں نے پاکستان کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور دہلی نے پاکستان کی سرحد پر دس لاکھ سے زائد فوج لا کھڑی کی جس کے ردعمل کے طور پر پاکستان نے بھی خاطرخواہ دفاعی اقدامات اٹھائے اور بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے پوری قوم اپنے تمام اختلافات سے اوپر اٹھ کر سیسہ پلائی دیوار کی مانندایک ہو گئی ۔ یہ صورتحال پورے دس ماہ تک جاری رہی، اس دوران دہلی سرکار نے وطن عزیز کے خلاف تند و تیز الزامات لگاتے ہوئے اپنے میڈیا کے ذریعے ایک ہیجان پیدا کیا جس کا تصور بھی کوئی مہذب انسانی معاشرہ نہیں کر سکتا ۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ خود بھارت کے بعض دیگر ذرائع بھی وقتاً فوقتاً انکشاف کرتے رہے ہیں کہ بھارت کے اندر کئی ایسی سازشیں پنپتی رہی ہیں جنہیں خود ہندوستانی اداروں کی سر پرستی حاصل رہی ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے ۔ بہر حال توقع کی جانی چاہیے کہ دنیا بھر کے انصاف پسند حلقے پورے بھارتی معاشرے میں تیزی سے سرایت کرتی ہندو انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے ٹھوس حکمت عملی اپنائیں گے تا کہ جنوبی ایشیاء کا امن کسی نئی آزمائش سے دوچار نہ ہو۔(جاری ہے)

*****