- الإعلانات -

بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے

adaria

وقت اور حالات کے ساتھ سیاسی فیصلوں میں تبدیلی آتی رہتی ہے چونکہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی اسی وجہ سے کوئی فیصلہ بھی حتمی نہیں ہوتا،کوئی سیاستدان تیزی سے اپنے فیصلے تبدیل کرتا رہتا ہیاور کئی ذرا مستقل مزاجی اور متانت سے چلتا ہے یہ بات درست ہے کہ جس طرح سیاسی حالات کروٹ لیں اسی طرح سیاستدان کو چلنا پڑتا ہے اور جو سیاستدان وقت کے ساتھ اپنے فیصلوں میں تبدیلی نہیں لاتا دیگر الفاظ میں اس کو ڈکٹیٹر کہا جاسکتا ہے کیونکہ ڈکٹیٹر کا فیصلہ آرڈر از آرڈر ہوتا ہے جبکہ سیاستدان جو فیصلہ کرتا ہے اس میں ہمیشہ گنجائش رہتی ہے ویسے بھی حالات کا تقاضا یہی ہوتا ہے ان میں ڈھل کر چلا جائے اگر کوئی سیاستدان وقت کے ساتھ نہیں چلے گا یوں کہنا غلط ہوگا وہ اپنی سیاست کو خود ہی دفن کر دیگا پھر جمہوریت کاتو یہ خاصہ ہے کہ فیصلے حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں وزیر اعظم عمران خان کا بھی یہی خیال ہے کہ حالات کے مطابق جو لیڈریو ٹرن نہ لے اس سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ہوتا کیونکہ حالات سے سمجھوتا کرکے چلنا پڑتا ہے وقت سے لڑنا کسی بے وقوفی سے کم نہیں کیونکہ وقت بڑا ظالم ہے وہ روند کر گزر جاتا ہے اس کو ثابت کرنے کیلئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہٹلر اور نپولین نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی سامنے دیوار ہوتو ادھر ادھر سے راستہ تلاش کرنا چاہیے، نواز شریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیابلکہ جھوٹ بولاچین کا دورہ انتہائی کامیاب رہا دورہ چین کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں چین کا پیکیج سعودیہ عرب سے بھی بڑا پیکج ہوسکتا ہے لیکن چین کے ساتھ معاہدوں کی تفصیل عام نہیں کر سکتے کیو نکہ اگر ہمارا پیکج پبلک ہوجائے تو دنیا کے باقی ممالک بھی ایسا ہی پیکج مانگیں گیدبئی میں پاکستان کے 15 ارب ڈالرز کا سراغ لگایا لیا ہے، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ ہوچکا ہے، معاہدوں سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے میں مدد ملے گی نیب چھوٹے مقدمات میں الجھ چکا اس کی کارکردگی متاثر ہورہی چھوٹے مقدمات کی بجائے بڑے لوگوں کو نشان عبرت بناناچاہئے نیب قانون میں تبدیلی ضروری ہیشہبازشریف کرپشن میں ملوث ہیں پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کرائیں گے آئندہ چند ماہ میں واضح تبدیلی نظر آئے گی۔ سینئرصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ موجودہ حکومت اپنے سو دن کی تکمیل پر تعلیم،صحت، غربت کے خاتمے اور دیگر کئی حوالوں سے مفصل اور جامع پروگرام قوم کے سامنے پیش کرے گی بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی جمہوریت کے لئے کوشش نہیں کی گئی۔ جمہوریت کی بجائے کلپٹو کریسی کا رواج رہا ہے جہاں حکومت کرنے والے اقتدار کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں اداروں کو جان بوجھ کر کمزور کیا جاتا ہے تاکہ حکمران اشرافیہ کی چوری ممکن بنائی جا سکیاس طرح وائٹ کالر کرائمز کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے اور وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ ہماری جنگ ڈیموکریٹس کے خلاف نہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف ہے جو ملک کو تباہ کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاستدان اس لئے شور مچا رہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ خیبر پختونخوا سے ان کا صفایا ہونے کے بعد دیگر جگہوں سے بھی ان کا صفایا ہونے والا ہے۔ بعض حلقوں کے دعوؤں کے برعکس ملک میں کوئی افراتفری کی صورتحال نہیں۔لیڈر حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر اپنے لائحہ عمل اور اسٹریٹیجی میں تبدیلی لاتا ہے۔ موجودہ دور میں مشکل حالات کا سامنا ہے لیکن آئندہ چند ماہ میں واضح تبدیلی نظر آئے گی۔شہبازشریف کو چیئرمین پی اے سی بنانا قوم سے مذاق ہوگا لہذا کسی صورت انہیں چیئرمین پبلک اکانٹس کمیٹی نہیں بنائیں گے۔جہاں تک پی اے سی کے چیئرمین شپ کی بات ہے تو وزیر اعظم کی یہ بات بھی درست ہے کہ شہباز شریف کو اسکا چیئرمین نہیں بنایا جائیگا اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ کوئی اور نام دے منطق کے اعتبار سے وزیر اعظم کی یہ بات درست ہے کیونکہ حکومت اس وقت کرپشن کے خلاف وسیع بنیاد پر کام کررہی ہے اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بقول حکومت ن لیگ کے بہت سے کرپشن کے مقدمات ہیں ایسے میں اگر شہباز شریف پی اے سی کے چیئرمین ہوئے تو وہ کیوں کر اپنے اور اپنے بھائی کے خلاف مقدمات اوپن کرکے تحقیقات کے احکام صادر کرسکتے ہیں لہذاعمران خان کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین شہبازشریف کو نہیں ہونا چاہیئے پھر وزیراعظم کا یہ بھی خیال ہے کہ ہمارا مقابلہ جمہوریت کی آڑلینے والے کریمینلز سے ہے اس بات کا بھی اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی حکومت کرپشن کے خلاف قدم اُٹھاتی ہے،بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے کی بات کرتی ہے تو بہت ساری متحدہ اپوزیشن کی جانب سے بھانت بھانت کی آوازیں آنا شروع ہوجاتی ہیں پھر جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں ملکی استحکام کے حوالے سے سوالات اُٹھنا شروع ہوجاتے ہیں ایوان کے اندر تبدیلی کی بازگشت بھی سنائی دینے لگتی ہے مگر ان تمام باتوں سے ماوراء ہم حکومت کو یہ مشورہ ضرور دیں گے کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔چونکہ جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں وہ ستر سال سے بگڑاہوا ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ آوے کا آوا ہی تباہ ہے تو غلط نہ ہوگا بلکہ اس سے ایک قدم اور آگے چلا جایاجائے تو یوں کہا جائے گا کہ اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں اور پھرنقار خانے میں طوطی کی آواز بھی کوئی سننے والا نہیں،حکومت کو سخت اقدامات اُٹھانے ہونے گے جیسا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ نیب کو بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا چھوٹے لوگوں اور بے سہارا عوام کو تنگ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا یہ احتساب نیچے سے نہیں اُوپر سے شروع کرنا چاہیے تب ہی اس ملک کے خزانے کو نقصان پہنچانے والے پابند سلاسل ہونگے یہاں ہم حکومت سے کہنا چاہیں گے کہ جن کرپٹ افراد کو پکڑا جائے اور کرپشن اُن کے خلاف ثابت ہوجائے تو اُن کو اُس اربوں کھربوں کی کرپشن کی رقم کے بدلے طویل سزا نہ دی جائے بلکہ ایک ٹائم فریم کے دوران پابند کیا جائے کہ وہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس کرے ورنہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے ذریعے قانون میں ترمیم کے تحت چین کی مانند کرپشن کے سزا موت ہونا چاہیے اس سے کم سزا پر پاکستان میں کرپشن میں کرپشن کا خاتمہ نا ممکن ہے۔

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر آگئے
حکومت پاکستان جہاں اپنے معاشی حالات کو مضبوط کرنے کے لئے سرگردا ں ہے وہاں عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیزنے کہاہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائرکا حجم کم ترین سطح پر ہے ،یہ ذخائر 2 ماہ کی درآمدات کو بھی پورا نہیں کر سکتے، آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات پاکستان کیلئے مسائل میں کمی کا باعث بنیں گے۔ بیرونی مسائل سے نمٹنے کیلئے آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات ضروری ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے مسائل میں کمی کا باعث بنے گا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق زرِ مبادلہ کے ذخائر میں19کروڑ60لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مجموعی ذخائر گھٹ کر 13 ارب 83 کروڑ ڈالر سے نیچے آگئے ہیں۔مرکزی بینک کے پاس 7ارب 48کروڑ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس6ارب34 کروڑ ڈالر موجود ہیں۔حکومت کوچاہیے کہ وہ اپنے زرمبادلہ کے ذخائرکو بڑھانے کیلئے ترجیحی بنیادو ں پراقدامات کرے کیونکہ سعودی عرب اورچین سے جو مالی امداد دی جارہی ہے اس کااستعمال صحیح خطوط پرانتہائی لازمی ہے۔تب ہی ان زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکے گا۔