- الإعلانات -

بھارتی سازشیں ، ممبئی دہشت گردی اور ۔ ۔ ! (2)

asgher ali shad

(گزشتہ سے پیوستہ)
مبصرین کے مطابق غیر جانبدار حلقے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں ہندو دہشتگردی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے ۔ بھارت حکمرانوں کے جنگی عزائم انتہاؤں کو چھو رہے ہیں۔ دہلی سرکار کی ریشہ دوانیوں کا عالم یہ ہے کہ وہ خود اپنی شر پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے مختلف واقعات کراتے اور پھر اس کی ذمہ داری پاکستان کے کندھوں پر ڈالنے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ سبھی جانتے ہیں کہ گیارہ سال کا وقت گزرنے کے باوجود ابھی تک سمجھوتہ ایکسپریس کے مجرموں کو سزا دینے کی بجائے سادھوی پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت ، میجر اپادھیا اور اسیما نند جیسے مرکزی مجرموں کو ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں اگر بھارت انسانی حقوق کے احترام کی بات کرے تو کیا کہا جا سکتا ہے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ 11 سال پہلے 18 اور 19 فرروی 2007کی رات بھارتی صوبے ہریانہ سے گزررہی سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوئی دہشتگردی میں 80سے زائد پاکستانی زندہ جلا دیئے گئے جبکہ 150سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ اس سانحے کے وقوع پذیر کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنی روایت کے مطابق ، اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی مگر فطرت کا قانون ہے کہ سچ کو ہر حال میں ظاہر ہونا ہوتا ہے اس لیے بعد میں خود ہندوستانی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ اس جرم میں انڈین فوج کا حاضر سروس کرنل اور RSS براہ راست ملوث تھی ۔ کرنل پروہت، میجر اپادھیا، سوامی اسیم آنند،لوکیش شرما،سند یپ ڈانگے،کمل چوہان کے خلاف یہ مقدمے ابھی بھی جاری ہیں۔اس کے ایک ملزم سنیل جوشی کو گرفتاری کے بعد پراسرار حالات میں قتل کر دیا گیا ۔ مبصرین کے مطابق سنیل جوشی کو اس لیے قتل کر دیا گیا تا کہ سانحے میں ملوث دیگر افراد کے نام نہ بتا سکے۔10فروری 2014کے ہندی اخبار بھاسکر میں نیوز رپورٹ شائع ہوئی جس میں ’’کارواں‘‘ میگزین میں سوامی آنند کے اس انٹرویو کی تفصیل شامل تھی جس میں اس نے خاتون صحافی ’’لینا گیتا رگھوُناتھ‘‘کو فخریہ بتایا کہ اس جرم میں RSSکے موجودہ سربراہ ’’موہن بھاگوت‘‘ اور RSSکی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اندریش کمار بھی شامل تھے ۔سوامی نے بتایا کہ RSS مسلمانوں اور ان کے مذہبی مقامات کونشانہ بنا کر ہراساں کر رہی ہے ۔اس کے علاوہ 12 فروری 2018 کو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بھارتی صوبے بہار کے شہر مظفر پور میں RSS کے سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے کہہ چکے ہیں کہ ’’ بھارتی فوج سے زیادہ ڈسپلن آر ایس ایس میں ہے، بھارت کی فوج کو ایک جوان تیار کرنے میں 6 سے 7 مہینے لگ جاتے ہیں مگر اگر آر ایس ایس ٹھان لے تو صرف تین دن سے ایک ہفتے کے اندر ’’سویم سیوکوں‘‘ کی ایسی فوج تیار ہو سکتی ہے جو کچھ بھی کر سکتی ہے ۔ اور یہ کام کرنے کی صلاحیت صرف آر ایس ایس کے پاس ہے‘‘ ۔ سنگھ پریوار کے سربراہ کے اس بیان پر خود بھارت کے کئی تجزیہ نگاروں نے افسوس ظاہر کیا کہ اگر RSS اور بھارتی حکمرانوں کے یہی لچھن چلتے رہے تو کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ مستقبل قریب میں بھارت کے لئے ایسی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں جن کا حل کسی کے پاس بھی نہیں ہو گا۔ یہاں یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بھارتی حکمران طبقات کی فسطائی ذہنیت کا اس کا بڑا ثبوت کیا ہو گا کہ افضل گرو کو 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے مبینہ حملے میں ملوث ہونے کے نام نہاد الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔طویل عدالتی کاروائی کے دوران ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی بھارتی حکومت پیش نہ کر سکی جس کا اعتراف خود بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان الفاظ کے ذریعے کیا’’اگرچہ افضل گرو کے خلاف اس جرم میں ملوث ہونے کی کوئی ٹھوس شہادت یا ثبوت استغاثہ فراہم نہیں کر سکا مگر بھارتی عوام کے اجتماعی احساسات اور خواہشات کی تسکین کی خاطر انھیں پھانسی دینا ضروری ہے ‘‘ۂمبصرین کے مطابق دنیا کی جدید عدالتی تاریخ میں ایسی بے انصافی کی مثال شائد ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکے ۔جب کسی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ایک جانب اس امر کا اعتراف کر رہی ہو کہ ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود نہیں مگر دوسری طرف کسی فرد یا گروہ کی نام نہاد تسکین کی خاطر اس بے گناہ شخص سے زندہ رہنے کا بنیادی انسانی حق چھین لیا جائے تو ایسے میں اس سزائے موت کو عدالتی قتل کے علاوہ اور بھلا کیا نام دیا جا سکتا ہے اور ایسا شائد برہمنی انصاف کے تقاضوں کے تحت ہی ممکن ہے وگرنہ کوئی مہذب اور نارمل انسانی معاشرہ شائد ایسی بے انصافی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔(ختم شد)

*****