- الإعلانات -

تیسری کانفرنس برائے انسداد منشیات

khalid-khan

منشیات ایک لعنت ہے۔منشیات معاشروں کو تباہ کرتا ہے اور جوانوں کو نگل لیتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق وطن عزیز میں پچاس لاکھ افراد منشیات کا استعمال کررہے ہیں۔اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اب تو ہمارے تعلیمی ادارے بھی منشیات سے محفوظ نہیں ہیں۔ہمارے ملک کی تعلیمی اداروں میں منشیات کااستعمال عام ہورہا ہے۔یہ سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ تعلیمی اداروں کا کردار سنوارنے میں کلیدی رول ہوتا ہے لیکن ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں دھیرے دھیرے منشیات کا استعمال بڑھ رہاہے ۔منشیات کے استعمال سے ہماری نئی نسل برباد ہورہی ہے۔نئی نسل ہمارا مستقبل ہے اور ان کو بچانے کیلئے ہمیں اپنا رول ادا کرناچاہیے۔وطن عزیز اورتعلیمی اداروں میں منشیات کے بارے میں ہر محب وطن فکر مند ہے۔پاکستان اور ہمارے تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے سول سو سائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان کے چےئرمین اکمل اویسی پیرزادہ ، ان کے رفقا ء اور دیگر ادارے کوشاں ہیں۔اس سلسلے میں سرزمین اولیا ء کرام ملتان کے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں پاکستان سول سوسائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات اور دیگر تنظیموں کے تعاون سے تیسری کانفرنس برائے انسداد منشیات کا انعقاد کیا گیا۔ملتان کے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں منعقدہ تیسری کانفرنس برائے انسداد منشیات میں صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب محمد اجمل چیمہ نے کہا کہ طلباء و طالبات ہمارا سرمایہ ہیں ۔وہ معاشرے میں بہتری اور انسداد منشیات کیلئے میدان عمل میں آئیں۔منشیات کے عادی افراد کا علاج و معالجہ ہماری ترجیج ہونی چاہیے اور انہیں حکومت کے مفت علاج کے بارے میں ترغیب بھی دینا ہوگی۔وائس چانسلر بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ڈاکٹر طاہر آمین نے کہا کہ ہمیں اپنے سوچنے کا انداز فکر بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔ انسداد منشیات کیلئے مقامی سطح پرعملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سول سو سائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان کے چےئرمین اکمل اویسی پیرزادہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ مقررین نے منشیات کو معاشرہ کیلئے ناسور قرار دیا اور معاشرہ کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے کوشش تیز کرنا کاتہیہ کیا۔تعلیمی اداروں کو منشیات سے سو فی صد پاک کرنے کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔تیسری کانفرنس برائے انسداد منشیات میں چاروں صوبوں ، گلگت بلستان اور آزاد کشمیر سے مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس سے قبل ملتان میں پاکستان سول سوسائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات کی باڈی میٹنگ ہوئی۔ملتان پریس کلب تک واک کی گئی۔ کانفرنس کے بعد پوسٹرز کا مقابلہ ہوا۔ واضح ہوکہ پہلی کانفرنس برائے انسداد منشیات پاکستان سول سوسائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات اور محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نار کو ٹکس کنٹرول حکومت پنجاب کے تعاون سے نظریہ پاکستان ٹرسٹ ہال ایوان کارکنان تحریک پاکستان مادر ملت پارک 100شاہراہ قائداعظم لاہور میں منعقد ہوئی تھی جس میں ملک بھر سے سول سوسائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان کے عہدیدار شریک ہوئے تھے۔اس کانفرنس میں تمام مندوبین کو اس بات پر اتفاق تھا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو نوجوان نسل کو منشیات کے خوفناک اثرات سے بچانے کیلئے متحد ہوکر حکومتی اداروں کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ دوسری قومی کانفرنس برائے انسداد منشیات پاکستان کو اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپیشل ایجوکیشن میں منعقد کیاگیا جس میں سول سو سائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان کے ملک بھر سے عہدیداران نے شرکت کی۔کانفرنس کا مقصد نوجوانوں خصوصاً طلبہ کو منشیات سے بچانے کیلئے مثبت کاوشیں کرنا اور وطن عزیز کو منشیات سے نجات دلا کرخوشگوار ماحول فراہم کرنا ہے۔قارئین کرام!منشیات فروش ملک و ملت کے دشمن ہیں جو اپنے ہم وطنوں خصوصاً نوجوان نسلوں کو برباد کرکے ملک وقوم کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔منشیات فروش صرف چندروپوں کی خطر ایسے کونپوں اور شگوفوں کو شاخوں سے توڑ کر گندگی اور غلاظت کے ڈھیر پر رکھ دیتے ہیں جنہیں کشت حیات میں قاصد بہار بننا تھا۔ہمارے وسیب میں منشیات نے اغیار کی سازشوں اورملک دشمن عناصر کی باعث راہ پائی ہے۔ بیرونی اور اندورنی دشمنوں کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو جسمانی اور ذہنی لحاظ سے مفلوج کریں تاکہ وہ دنیا میں اپنامثبت اور متحرک کردار ادا نہ کرسکیں۔منشیات کی روک تھام کسی ایک شخص، ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اس مسئلے کو قومی سطح پر مل کر بہتر انداز سے حل کیا جانا چاہیے ۔ سول سو سائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان کے چےئرمین اکمل اویسی پیرزادہ اور ان کے رفقا ء ملک بھر میں منشیات کے خلاف صدا بلند کررہے ہیں۔ان افراد کیساتھ تعاون کریں جو انسداد منشیات کیلئے کام کررہے ہیں اور ان کے دست وبازو بن کر ان کاساتھ دیں۔سب کا فرض ہے کہ وہ انسداد منشیات کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ وطن عزیز اور ہمارے تعلیمیادارے منشیات سے پاک ہو جائیں تاکہ ہماری نئی کا مستقبل محفوظ اور روشن ہو۔