- الإعلانات -

پاکستان کو یو این کے پلیٹ فارم پرکامیابی

اگلے روز پاکستان نے یو این او میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔یہ کامیابی اسے کشمیر کے حوالے سے ملی ہے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی نے وہ قرارداد جو پاکستان نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے پیش کی اسکی متفقہ منظوری دے دی۔ حق خود ارادیت کی اس قرارداد کی حمایت میں83ممالک نے ووٹ دیا۔اب اگلے ماہ توثیق کیلئے193رکنی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد کو پیش کیا جائے گا۔قرارداد میں غیر ملکی قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی گئی اور دوسرے ممالک میں غیر قانونی فوجی مداخلت فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اس حوالے سے اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ قرارداد سے جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کی گئی ہے جس سے دنیا کی توجہ حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد کرنے والوں پر مرکوز ہوگی۔پاکستان ہمیشہ سے حق خود ارادیت کا زبردست حامی رہا ہے، جموں و کشمیر سے فلسطین تک تمام لوگوں کو بلا امتیاز حق خود ارادیت ملنا چاہیے۔پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی اسی طرح کی ایک اور قرارداد بھی یو این کے ریکارڈ پر موجود ہے جسمیں حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کرنیوالے لوگوں کو ان کا حق دلوانے اور اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کی اپنی منظور کردہ قراردادوں کو بروئے کار لانے کا تقاضا کیا گیا تھا۔ اب امید بندھی ہے کہ اقوام متحدہ کشمیری عوام کیلئے 1947 سے 1955 تک کے عرصہ کے دوران منظور کی گئی اپنی درجن بھر قراردادوں کو بروئے کار لانے کے لئے ضرور اقدامات اٹھائے گا۔مگر دوسری طرف اس قرارداد کے بعد کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے، قرارداد کی منظوری کے اگلے روز ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں جنوبی کشمیر میں تحریک حریت جموں وکشمیر کے رہنما اورسید علی گیلانی کے قریبی ساتھی میرحفیظ اللہ سمیت پانچ کشمیری شہید کر دیئے۔اقوام متحدہ کے چارٹرمیں ہر رکن ملک کی خودمختاری اور آزادی کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے اور جارحیت سے باز رکھنے کیلئے اقدامات کا بھی چارٹر میں ذکر موجود ہے مگر کشمیر کے معاملہ میں یہ ادارہ اب تک محض کاغذی کارروائیوں تک محدود ہے۔اِس تناظر میں پاکستان اقوام متحدہ کو کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے منظور کی گئی اسکی قراردادیں اور چارٹر یاد دلاتارہتاہے۔یہ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کیلئے منظور کی گئی قراردادوں پر دوہرے معیار سے کام نہ لیا ہوتا اور پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات شدت اختیار نہ کرتے اور علاقائی اور عالمی امن کو لاحق خطرات بھی ٹل چکے ہوتے۔یہ یو این کی چشم پوشی کا نتیجہ ہے کہ کشمیری عوام اب تک بھارتی فوجوں کے مظالم سہتے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔یو این نے اگر کسی جارح ملک کا ہاتھ نہیں روکنے تو پھر سابقہ لیگ آف نیشنز اور اسمیں کیا فرق رہ جاتا ہے۔لیگ آف نیشنز بھی اپنی بے عملی کے باعث ہی مردہ قرار دے کر دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک نیا ادارہ وجود میں لایا گیا تھا تاکہ آئندہ کسی بھی ملک کی جارحیت کے آگے موثر طریقے سے بند باندھا جاسکے۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ صفر دکھائی دیتی ہے۔جب عالمی فورم نے یہ ذمہ داری اٹھائی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین دیرینہ تنازعہ کشمیری عوام کو استصواب کا حق دے کر حل کیا جائے گا تو پھر 71برس سے یہ لیت لعل کیا معنی رکھتے ہیں۔دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ فریقین جوہری قوتوں کے مالک ہیں کوئی چنگاری بھڑک کر خطے کو خاک کا ڈھیر بنا سکتی ہے۔اس کے باوجود اقوام عالم کا نمائندہ اِدارہ اس کا ادراک نہیں رکھتا تو یہ تشویشناک امر ہے ۔ پاکستان نے اس عالمی فورم پر ہمیشہ مظلوم و مقہور اقوام کیلئے آوا ز اٹھائی ہے اور غاصب قوتوں کے ہاتھ روکنے کیلئے یو این سے عملی طور پر اقدامات اٹھانے کا تقاضا کیا ہے۔

مودی حکومت نے پاکستان سے مذاکرات کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں جبکہ پاکستان تو آج بھی بھارت کے ساتھ تمام مسائل پر بات چیت کیلئے تیار ہے جس کا اعادہ نئے منتخب ہونے والے وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی اولین تقریر میں بھی کیا۔یہ ایک اچھا موقع تھا بھارت کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا مگر وہ ہاں کر کے اگلے روز مکر گیا۔کشمیر میں بھارتی بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔خود یو این کے اپنے ذیلی ادارے اس حوالے سے چیخ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں تحقیقات کی جائیں۔پاکستان بھی مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی طرف سے تحقیقات کی سفارش پرجلد عملدرآمد کیا جائے۔ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری مذکورہ رپورٹ میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بامعنی بات چیت سے ہی حل ہو سکتا ہے اور اسکے لیے تشدد کو روکنا ضروری ہے۔یہ رپورٹ 14 جون 2018 کو جاری ہوئی تھی جس میں جون2016سے اپریل2018ء کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال کا محاکمہ کیا گیا اور سفارشات مرتب کی گئیں ہیں۔ رپورٹ کے آغاز میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کے مشن برائے انسانی حقوق کو آز ادانہ تحقیق و تفتیش کی اجازت نہ دی گئی لہٰذا انہیں ضمنی ذرائع یعنی شہادتوں، تجزیوں اور رپورٹوں پر انحصار کرنا پڑا۔رپورٹ میں حزب مجاہدین کے بائیس سالہ نوجوان کمانڈر برہان وانی کی شہادت کو بھی ڈسکس کیا گیا ہے۔ اس ضمن کہا گیا ہے کہ کشمیر میں احتجاج کی لہریں 1980کے اواخر اور1990کے آغاز میں بھی اٹھیں،2008میں بھی اور2010میں بھی لیکن برہان وانی کی شہادت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں نہ صرف لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی بلکہ اس کی قیادت، نوجوانوں اور نچلے اور درمیانے طبقے کے کشمیریوں کے ہاتھ میں تھی۔ جولائی2016سے مارچ2018کے دوران 145 کشمیریوں کو شہید کیا گیا اور سینکڑوں افراد زخمی اور بینائی سے محروم ہوئے۔ بھارتی افواج کی جانب سے استعمال ہونے والا خطرناک ترین ہتھیار پیلٹ گن تھا۔جس سے جولائی2016 سے فروری 2017کے دوران6221افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں لاقانونیت، ریاستی تشدد، انسانی حقوق کی پامالیوں، نظام انصاف کے مفلوج ہونے اور مسلح افواج کو لامحدود اختیارات دینے والے قوانین (آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ)1990 اور پبلک سیفٹی ایکٹ 1978 کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ2016-17کے دوران ایک ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں بچے بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں ہزاروں لاپتہ افراد، پونچھ اور راجوڑی سیکٹر میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں (2012 )اور کونن پوشپورہ (1991) کے اجتماعی زنا بالجبر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ رپورٹ میں انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق متعدد سفارشات کیساتھ ساتھ بھارت سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
*****