- الإعلانات -

امریکہ نے پاکستان کی قربانیاں نظر انداز کر دیں

گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کیلئے کچھ نہیں کیا۔ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی بارے پاکستانی سول اور فوجی قیادت کو علم تھا مگر انہوں نے امریکہ سے یہ بات شیئر نہیں کی۔ دہشت گردی کی مد میں پاکستان کو سالانہ 3.1 ارب ڈالر کی امداد دیتے رہے مگر امریکی مفادات کا خیال نہ رکھا گیا۔ چونکہ پاکستان نے امریکہ کیلئے کچھ نہیں کیا لہذا یہ امداد بند کئے دیتے ہیں۔ امریکی صدر کی یہ بے وقت کی راگنی پہلی مرتبہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی جب ٹرمپ امریکی صدر بنے تھے تو انہوں نے پاکستان کے خلاف ٹوئٹ کیا تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک جب بھی امریکی صدر پر کوئی مشکل آتی ہے تو وہ پاکستان پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ امریکی کانگریس ان کے مواخذے کی بات ، دفاعی بجٹ میں کٹوتی کی بات کرے یا ان سے افغانستان میں جاری دہشت گردی کی جنگ میں امریکی ناکام پالیسیوں بارے پوچھے تو ٹرمپ کو پاکستان کے خلاف بولنا یاد آجاتا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو پاکستان بارے اپنا ریکارڈ درست کرنا چاہیے ۔ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ 9/11 کے حملے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا پھر بھی سارا نزلہ پاکستان پر گرا۔دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا بھر پور ساتھ دیا۔ اپنے ہوائی اڈے دیے۔ نیٹو فورسز کو راہداری کی سہولیات دیں۔ ہم سے جو کچھ ممکن تھا وہ کیا مگر امریکی صدر کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکی ہوئی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی شمولیت کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان بھی ہمارا ہوا ہے۔ 75 ہزار جانیں قربان ہوئیں جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں سے لے کر عام شہری تک شامل ہیں۔ پورے ملک میں خود کش حملے اور بم دھماکے ہوئے جن میں بوڑھے ، بچے اور خواتین بھی شہید ہوئیں۔ امریکہ کو یہ ہماری یہ قربانیوں کیوں نہیں نظر آتیں۔ ٹرمپ جو امریکی امداد کا شور مچاتے ہیں تو عرض ہے کہ پاکستانی معیشت کو 123 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جب کہ امریکہ نے ابھی تک صرف 20 ارب ڈالر کی امداد دی ہے۔ افغان جنگ کے دوران پاکستان میں ہونیوالے جانی اور مالی نقصانات کے ازالہ کیلئے امریکی نیٹو ممالک کے قائم کردہ کولیشن سپورٹ فنڈ سے سالانہ 3.1 ارب ڈالر دینا طے ہوا تھا لیکن یہ پاکستان کی امداد نہیں تھی۔ اسکے باوجود یہ رقم کبھی کٹوتی کرکے اور کبھی کڑی شرائط عائد کرکے دی جانے لگی۔ یوں لگا جیسے امداد نہیں خیرات دی جا رہی ہو۔ یہ سب کچھ پاکستان کی تحقیر کا اہتمام کرنے کے مترادف تھا حالانکہ یہ رقم پاکستان کے نقصانات کے ازالہ کا عشرعشیر بھی نہیں تھی۔ اس جنگ میں امریکہ اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہارا ۔ ورنہ ایک لاکھ چالیس ہزار نیٹو فورس اور بیس لاکھ پچاس ہزار افغان فوجیوں کی تعیناتی کے بعد کیا وجہ تھی کہ امریکہ یہ جنگ نہ جیت پایا۔ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکی گرفت کمزور ہوتی گئی اور افغان طالبان زیادہ مضبوط ہوتے گئے۔ آج کل تقریباً آدھے افغانستان پر طالبان کا راج ہے۔ امریکہ نے بھی افغان جنگ میں ایک کھرب ڈالر خرچ کئے مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ سب ضائع گئے۔ ٹرمپ کے سوچے سمجھے بغیرپاکستان کے خلاف ٹویٹ کرنے سے حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے۔ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہوا۔ یوں ٹرمپ نے حقائق مسخ کر کے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان پر لگنے والے زخموں پر نمک چھڑ کا ہے۔ جنرل جاوید قمر باجوہ کا کہنا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں سے سب سے زیادہ فوجی، اقتصادی، سیاسی، معاشی اور سماجی قیمت چکائی ہے۔ دنیا ہماری قربانیوں کو تسلیم کرے۔ علاقائی امن کی خاطر ہم نے طویل جنگ لڑی ہے۔ قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کو مار بھگایا ۔ امریکہ کے مقابلے میں پاکستان نے اس جنگ میں کامیابیاں سمیٹی۔ پاکستان نے یہ جنگ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ خطے کے اور خصوصاً افغانستان کے امن کیلئے لڑی ۔امریکہ کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر وہ دہشت گردی کی جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے اپنے علاقوں میں آنے والے ہزاروں القاعدہ کے جنگجوؤں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا یا مار دیا۔ اب پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے دہشت گردی کی جنگ کو اس مرحلے پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے تعاون کے بغیر امریکہ کچھ نہیں کر سکتا۔الزام تراشی سے ہمارا اپنا نقصان ہوگا۔ اب ہمیں یہ نہیں دیکھنا کہ امریکہ کیا کہہ رہا ہے یا امریکہ کیا چاہتا ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے اپنے مفادات کیا ہیں۔ گو کہ ہر شخص کو اپنی سوچ اور بات کہنے کی آزادی ہے مگر حکمرانوں کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ جہاں تک پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا سوال ہے بجائے اس پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنے کے، امریکہ خواہ مخواہ پاکستان پر دباؤ رکھنے کیلئے اسے دہراتا رہتا ہے۔ 14 سال بعد افغانستان سے ناکام و نامراد واپس لوٹنے کیلئے امریکہ انہیں القاعدہ کے جنگجوؤں اور طالبان سے مذاکرات پر مجبور ہوا جن کو تباہ و برباد کرنے کیلئے افغانستان میںآیا تھا۔ اس جنگ کو سنجیدگی سے دیکھا جائے تو تو ناکام کون ہوا ، کون جیتا ، سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ طالبان اپنے ملک افغانستان میں ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ گو کہ ان کا بھی کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔ ان کی حکومت ختم ہوئی۔ لاکھوں افغانی شہید ہوئے مگر افغانستان کے بیشتر علاقوں پر اب بھی ان کا کنٹرول ہے۔ امریکہ اب اس جنگ سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ وہ افغانستان سے نکلنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ آنے والی دوسرے ممالک کی فوجیں تو کب کی افغانستان چھوڑ چکی صرف امریکہ ہی اپنی انا کو لے کر بیٹھا ہے اور افغانیوں سے مار کھا رہا ہے۔ خطے میں قیام امن اور دہشت گردی کی جنگ میں اپنے بے مثال کردار کی وجہ سے ہم آج اس مضبوط پوزیشن میں ہیں کہ امریکہ کو افغان طالبان سے بات کرنے کیلئے ہماری ضرورت پڑ رہی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم اپنی اہمیت کو جتا سکتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسیوں کو اپنے مفاد میں تبدیل کرا سکتے ہیں۔ حکومت وقت کا یہ امتحان ہے کہ وہ قومی مفادات اور ملک کی سلامتی و خودمختاری پر کوئی آنچ نہ آنے دے اور امریکی ٹرمپ انتظامیہ کو دوٹوک الفاظ میں باور کرادے کہ ہمیں بھی اپنی خودمختاری اور سلامتی اتنی ہی عزیز ہے جتنی امریکہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کو عزیز سمجھتا ہے۔

*****