- الإعلانات -

وزیراعظم کا کامیاب دورہ ملائیشیا

adaria

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بالکل درست کہا کہ انہیں اور مہاتیر محمد کو عوام نے کرپشن کے خاتمے کیلئے ووٹ دئیے ہیں یہ بات حقیقت کے قریب تر ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ایجنڈے کا سب سے اہم نکتہ کرپشن کا خاتمہ ہے ، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیاء کے دورے کے موقع پر کیا، مجموعی طورپر دیکھا جائے تو وزیراعظم پاکستان کا یہ غیر ملکی دورہ انتہائی کامیابی سے ہمکنار رہا جہاں پر مختلف معاہدوں پر دستخط ہوئے اور ملائشیاء کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے سلسلے میں دلچسپی کا اظہار کیا، ملائیشیاء میں خطاب کیا۔عمران خان ملائیشیا کے دو روزہ سرکاری دورے کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ ان کے دورے کے بعد ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے بطورِ خاص سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کر کے ان کا شکریہ ادا کیا اور اسے دونوں ممالک کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ پیغام میں ملائیشیا کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں ملائیشیا کا دورہ کرنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کا اور آپ کے وفد کا وقت ثمر آور رہا ہوگا۔ مہاتیر محمد کامزید کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ کا دورہ دونوں ممالک، خطے اور عوام کے درمیان بہترین تعاون کے فروغ اور تبادلے کا باعث بنے گا۔ اپنے پیغام کے ساتھ ڈاکٹر مہاتیر محمد کی جانب سے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کے وفد کے دورہ ملائیشیا کی تصاویر بھی شیئر کی گئیں۔ وزیراعظم عمران خان وفد کے ہمراہ منگل 20نومبر کی رات ملائیشیا کے دورے پر کوالالمپور پہنچے تھے جہاں ملائیشین نائب وزیر خارجہ اور حکومتِ ملائیشیا کے دفتر وزیراعظم کے نائب وزیر نے ان کا استقبال کیا ۔ ملائیشیا میں مہاتیر محمد کے دوبارہ مسندِ اقتدار پر بیٹھنے کے بعد عمران خان جنوبی ایشیائی ممالک کے پہلے سربراہ ہے جنہوں نے وہاں کا دورہ کیا۔یہ وزیراعظم عمران خان کا کسی بھی ملک کا چوتھا دورہ ہے اس سے قبل وہ ملک کو درپیش معاشی بحران سے نکالنے کی غرض سے سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات جاچکے ہیں۔وزیراعظم نے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی اور انہیں 23 مارچ 2019 کو یومِ پاکستان کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی۔ ملائیشین وزیر اعظم نے پاکستانی ہم منصب کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ مارچ میں پاکستان کا دورہ کریں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے باہمی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیاہے۔ وزیراعظم پاکستان نے ملائیشیا کے بادشاہ سے بھی ملاقات کی اور ملائیشیا میں موجود پاکستانیوں کے ایک اجتماع سے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی خواہش ہے کہ جتنی جلد ہو حکومت گر جائے،جتنے دن حکمران رہا اتنا ہی اپوزیشن کیلئے خطرہ رہے گا،شور مچانے والوں کو پتہ ہے کہ انہیں جیل جانا ہے۔عمران خان نے کہا کہ یہ سب جمہوریت نہیں اپنی چوری بچانے کیلئے اکٹھے ہورہے ہیں، چوروں کی بات کرتے ہیں تو اپوزیشن کھڑی ہوجاتی ہے،ہم نہ کسی سے این آراو کریں گے نہ ہی میثاق جمہوریت کریں گے۔ عمران خان نے یہ بھی کہاکہ سابق حکمران قرضے کا پہاڑ چڑھا کر چلے گئے، یہ وقت نکل گیا تو اس کے بعد پاکستان میں اتنا پیسہ آئے گا کہ نہ کبھی امداد مانگنا پڑے گی اور نہ ہی قرضہ مانگنا پڑے گا۔ وزیراعظم بننے سے پہلے تک پاکستان کے وسائل کا پتا نہیں تھا،قومیں اونچ نیچ کا سامنا کرتی ہیں،3کروڑ کی ملائیشیا کی برآمدات 220 ارب ڈالر اور 21کروڑ کے پاکستان کی برآمدات مشکل سے 24 ارب ڈالر ہیں،60 کی دہائی میں پاکستان کی صنعتی پیداوار 4 بڑے ایشیائی ملکوں کے برابر تھی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ60کی دہائی میں ملائیشیا کے شہزادوں کو لاہور پڑھنے بھیجا جاتا تھا،پاکستان کی مثالیں دی جاتی تھیں، ملک سب سے تیزی سے ترقی کررہا تھا پھر ملائیشیا کو مہاتیر محمد کی شکل میں عظیم لیڈر ملا،جس نے نہ اپنی فیکٹریاں لگائیں اور نہ ہی منی لانڈرنگ کرکے پیسہ باہر بھیجا، جس نے منی لانڈرنگ کی اس پر آج ملائیشیا میں کیس چل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرضوں کی قسطیں دینے کے لیے دوست ممالک سے قرضے لیے ہیں،کوشش کررہے ہیں کہ آئی ایم ایف سے کم سے کم قرضہ لیں۔ قرضوں کے دلدل سے نکلنے کے لیے 4 کام کرنے ہیں،برآمدات میں اضافہ کرنا ہے،غیرملکی پاکستانیوں کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ قانونی طریقے اور آسانی سے ترسیلات زر بھیجیں،اس وقت پاکستان کے پاس12 ارب ڈالر کی قلت ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری لانی ہے،باہر سے آنیوالے سرمایہ کار کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔ 20سال پہلے مہاتیر محمد نے بتایا کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کی مدد کی، وزیراعظم ہاؤس میں ایک اسپیشل افس بنے گا ،جو سرمایہ کاروں کے مسائل حل کرے گا،سرمایہ کاری کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا،ایک وقت آئے گا جب پاکستانیوں کو ملک سے باہر نوکری کے لیے نہیں جانا پڑے گا۔ عمران خان نے کہا کہ پوری دنیا گھوما ہوں، جو نعمتیں پاکستان کو ملی ہیں وہ کسی ملک کو نہیں ملی،سمندر پار پاکستانیوں کی کاوشوں کو سراہتے ہیں، منی لانڈرنگ روکنے کی کوشش کررہے ہیں،ہمارے محنت کش رقوم پاکستان بھیجتے ہیں اور ڈاکو پاکستان سے باہر بھیج دیتے ہیں،انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں کو یقین دہانی کرائی کہ اب پاکستان میں منی لانڈرنگ کرنا بہت مشکل کردیں گے۔ عمران خان نے ایک مرتبہ پھر واضح کردیا ہے کہ ان کی حکومت کسی کو این آراو نہیں دے گی، جس جس نے بھی عوام کا پیسہ لوٹا ہے اس کو وہ ہر صورت میں واپس کرنا پڑے گا اسی وجہ سے انہوں نے کہاکہ جب تک میں اقتدار میں ہوں ان کرپٹ افراد کیلئے خطرہ بنا رہوں گا، یہ انتہائی اہم اقدام ہے اگر ہمارے ملک میں کرپشن کا سد باب کردیا جاتا ہے تو اس سے بڑی اور کوئی کامیابی نہیں ہوگی جہاں 70سال سے اس معاشرے میں اور برائیاں رچ بس گئی ہیں وہاں پر کرپشن کا ایسا ناسور ہے جس کو ختم کرنا ناممکن نظر آتا ہے مگر عمران خان کی ماضی سے لیکر آج تک کی زندگی کا احاطہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہر ناممکن کو ممکن بنایا ہے اور امید واثق کی جارہی ہے کہ وہ اب بھی کامیابی سے ہمکنار ہونگے۔

آرمی چیف کا دورہ ایل اوسی
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول کا دوہ کیا جہاں پر انہوں نے وہاں پر پرعزم کشمیریوں کے حوصلوں کو بھی سراہا ، وہاں پر اس دورے سے بھارت کو بھی ایک واضح پیغام جاتا ہے کہ جو اس نے آئے دن ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری کررکھا ہے اس سلسلے میں آرمی چیف نے کہاکہ ہم سخت جان اور پیشہ وارانہ فوج ہیں، وطن عزیز کا دفاع کرنے کیلئے ہر دم تیار ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول کا دورے کے موقع پر کہا ہے کہ پاک فوج وطن عزیز کا دفاع کرنے کے لئے ہر دم تیار ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو بھارتی فوج کی سیز فائر کی خلاف ورزیوں اور پاکستان کی جوابی کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے سے بھارت کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں اور بھارتی فوجی قیادت کی طرف سے جارحانہ بیانات میں بھی اضافہ ہوا۔ بہتر ہوگا کہ بھارت پر امن بقائے باہمی کے تحت بات چیت سے مسائل کے حل کے لیے پیشرفت کرے۔ اپنے دورے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی فورسز کی کارروائیوں سے متاثرہ کشمیریوں کے عزم کی بھی تعریف کی۔