- الإعلانات -

آئی ایم ایف کاشکنجہ

میرے واجب عزت قارئین دنیا میں کسی کی کوئی غرض ہی قرض لینے پر مجبور کرتی ہے لیکن واجب الادا قرض کی مقررہ وقت پر واپسی مقروض کا اخلاقی فرض بنتا ہے کسی نے مشکل وقت میں کسی سے قرض لیا ہو اور وہ نادہندہ ہو جائے ،وقت پر رقم واپس نہ کر سکے تو نتیجتاً قرض خواہ اسے صبح شام تنگ کرے گا اگر مقروض ذاتی مکان یا کسی قسم کے حقوق ملکیت رکھتا ہے تو اس پر قبضہ کرنے کا سوچے گا قرض کے بدلے اس کی پراپرٹی چھیننے کی کوشش کرے گا نادہندہ کی آہ و زاری ،منت سماجت کسی قسم کی نرمی ،لچک یا رحم کے اثرات مرتب کرنے سے محروم رہے گی اگر قرض خواہ میں انسانیت کی ہلکی سی رمق موجود ہے تو وہ نادہندہ کو قرض کی ادائیگی کیلئے تھوڑی سی مہلت دے گا لیکن قرض کی واپسی کے بارے میں وہ مطلق سوچے گا بھی نہیں اگر قرض دینے والا پروفیشنل سود خور ہے تو رقم پر سود کی شرح مزید بڑھا دے گا اور نادہندہ پر مزید بوجھ پڑ جائے گا مرزا غالب رند مشرب آدمی تھے شعروشاعری میں کھوئے رہتے لیکن اسی غم کے اسیر رہے کہ آمدنی کا بڑا حصہ سود پر ضائع ہو رہا ہے چنانچہ کہتے ہیں

میری تنخواہ میں تہائی کا
ہو گیا شریک ساہو کار
راقم کی اس طولانی تمہید کا مقصد اپنے قارئین کو یہی باور کرانا ہے کہ اگر کسی نے سینکڑوں میں ہی کیوں نہ قرض لیا ہو تو وہ بھی قابل معافی نہیں ٹھہرتا اور نادہندہ کی رات کی نیند اور دن کا چین چھن جاتا ہے لیکن کیسے ہیں ہماری حکومتوں کے بز جمہر جن کو کوئی ایسا غم نہیں ہوتا کہ ہم نے حکومت کوکروڑوں روپے واپس کرنے ہیں وہ بڑے مزے سے قرضے لیتے ہیں اور قرض لے کر رسید دینا بھی گوارا نہیں کرتے لیکن قرضے معاف کروانے میں ہمیشہ ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں سابقہ ادوار میں کھربوں کے قرضے معاف کروائے گئے اور قرض نادہندگان کی فہرست میں شامل غم گساران وطن سے ملک کا ہر شہری آگاہ ہے ان قرض نادہندگان کا تعلق بالا دست اور طاقت ور طبقات سے ہے وطن عزیز میں بیمار صنعتوں کی بحالی کے عمل میں بھی قرض معاف کئے گئے عادی نادہندگان جن کا مقصد اوور انوائسنگ کے ذریعے ملک کی دولت کو باہر منتقل کرنا تھا ان کو اس بات سے غرض نہیں تھی کہ ایسے منصوبے لگنے کے بعد چلائے بھی جائیں گے ۔اس کام میں بنکرز بھی برابر کے شریک تھے اگر بنکرز ایسے منصوبوں کی صحیح طریق کار کے مطابق ویلیویشن کرتے ہوئے پلانٹس اور مشینری کی صحیح وقت پر تصدیق کرتے اور ایسے قرض حاصل کرنے والوں کا پس منظر اور ماضی کا تجربہ سامنے رکھا جاتا تو یہ پراجیکٹ بنک منظور نہ کرتے اور ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار نہ ہوتی ادھر ہماری حکومتوں کا یہ حال ہے کہ ہم مقروض سے مقروض تر ہوتے جا رہے ہیں اور ہمارے ہاتھ کچھ آ بھی نہیں رہاجس سے ہم اپنی آمدنی میں اضافہ کر کے قرض سے نجات پا سکیں قرضداری قومی خود مختاری پر قدغن عائد کرتی ہے قوم کو اپنے بنیادی اور طویل المعیاد نصب العین قربان کرنا پڑتے ہیں ۔صرف یہی نہیں ساتھ بھاری سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے لیکن ہماری حکومتیں ہمیشہ قرض کو شیر مادر کی طرح ہمک ہمک کر پیتی رہی ہیں اور یہ وقت آگیا ہے کہ اس کا بوجھ ہماری کشتی کو تہ آب لے جا رہا ہے ۔ 2008ء میں پاکستان 37ارب ڈالر کا مقروض تھا جو2018ء میں 92ارب ڈالر کی حدوں کو پار کر گیا ہے سٹیٹ بنک کے ماہرین کی تازہ ترین روشنی کی رپورٹ میں ہر سال تقریباً15ارب ڈالر ملک سے سرکاری طور پر باہر بھیجے جا رہے ہیں اور تقریباً اتنی ہی رقم سالانہ ہنڈی کے ذریعے باہر جا رہی ہے ۔پاکستان کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگیوں پر چلا جاتا ہے اس کے بعد دفاع کا خرچ ہے اس کے بعد تمام شعبوں میں رقم تقسیم کی جاتی ہے جو ناکافی ہوتی ہے اور تعلیم پر ابھی تک 4فیصد خرچ نہیں کیا جا سکا آئی ایم ایف سے بھاری بھرکم قرضے لینے کے باوجود اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انسانی ترقی کی شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں کم رہی ۔دنیا کے 188ملکوں میں سے پاکستان کا انسانی ترقی کے حوالے سے 147واں نمبر ہے ۔پاکستان میں اقتصادی ترقی صرف امیر لوگوں کے گرد ہی گھومتی ہے آئی ایم ایف مقروض ممالک پر جو شرائط عائد کرتا ہے وہ اس کے معاشی حالات سدھارنے کی بجائے بگاڑ کا باعث بنتی ہیں اس بگاڑ سے مقروض ممالک میں گھمبیر مسائل پیدا ہوتے ہیں آج پی ٹی آئی کی حکومت سے آئی ایم ایف کے مذاکرات میں آئی ایم ایف نے اسی بات کا عندیہ دیا ہے کہ وفاق کا بجٹ 30کی بجائے 50فیصد کر دیا جائے اور مزید متنازعہ ترامیم کی تجاویز بھی پیش کی جا رہی ہے شائد اسی لئے اسد عمر آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کے حوالے سے بہت زیادہ پر جوش نہیں ہیں کیونکہ ان کی کڑی اور ناروا شرائط تسلیم کر کے حکومت چلانا ممکن نہیں ہوگا ۔آج پاکستان کی برآمدات صرف 20اور22ارب کے قریب ہیں جبکہ ہماری درآمدات 50ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور تجارتی خسارہ 30ارب ڈالر کی حد کو چھو رہا ہے جو بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہے ۔وطن عزیز آج پھر کشکول تھامے گداگری پر مجبور ہے اور آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرضہ لینے کے بارے میں سوچ رہا ہے قرضوں کے بھاری حجم کے باعث ہر پاکستانی ایک لاکھ 30ہزار سے زائد کا مقروض ہے مزید قرضوں کی صورت میں عوام پر قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہو گا ۔قارئین ہم اپنے بچوں کو سادہ غذا کھلاتے ہیں یا مرغن اور مہنگی خوراک یہ ہماری صوابدید پر منحصرہے لیکن ہم ان کے مستقبل کو عالمی استعمار کے ہاتھوں گروی رکھنے کا اختیار نہیں رکھتے ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ آنے والی نسلوں کا بوجھ کم کرنے کی بجائے انہیں اربوں ڈالر قرضوں کے بوجھ سے لاد دیں ہم ان سے خوشحال پاکستان کا خواب نہیں چھین سکتے کیا ہم نہیں دیکھتے کہ ہماری سونا اگلتی زمینیں اور معدنیات سے لدے پہاڑ خوشحالی و فراوانی کی بجائے افلاس اور محتاجی کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ہماری معیشت سخت بیمار ہے اور تیزی سے ترقی معکوس کا سفر کر رہی ہے ۔آج ہماری زندگی اوپر سے تو چمکدار نظر آتی ہے مگر حقیقت میں لاکھوں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان اور سماج کا غریب اور غریب و پسماندہ طبقہ تیزی سے جرائم اور آوارہ گردی کی طرف مائل ہو رہا ہے ٹرانسپیرنسی انٹر نییشنل کی کرپشن کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں آٹھ درجے مزید کرپٹ ہو کر 34ویں نمبر پر آگیا ہے لیکن کوئی بھی اس پر شرمندگی محسوس نہیں کر رہا شائد کرپشن اب ہمارے سماج میں قبولیت کا درجہ حاصل کر چکی ہے ماضی میں تو ہمارے نمائندگان نے عوام کی بخشی ہوئی امانت کو اپنی ذاتی ہوس اور تجوریاں بھرنے کیلئے وقف کر دیا اور اس مقدس قومی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جو عوام نے انہیں رہبر جان کر سونپا تھا ۔اربوں روپے کرپشن کی نذر ہو گئے لیکن نیب خاموش تماشائی بن کر دیکھتا رہا نیب نے کسی شخص یا ادارے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔اس کی ساری محنتیں اور ذہانتیں کرپشن میں چھوٹ دینے سے متعلق اقدامات کے گرد ہی گھومتی رہیں ماضی میں بدعنوان اشرافیہ کا احتساب ایک مذاق بن کر رہ گیا ہمیشہ مخالف قوتوں کا احتساب مقتدر قوت کے مزاج کا حصہ رہا حکومت کی ہمنوائی اور حمایت کرنے والے ہر عیب سے پاک صاف ہو جاتے رہے احتساب کے نام پر حکومتوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر مقدمے بنائے ۔اس سلسلے میں ان حکومتوں کو بدعنوان انتظامیہ اور لچکدار قانونی نظام کی مدد حاصل رہی ۔ہم قانون قدرت سے ڈرتے ہیں نہ سبق حاصل کرتے ہیں قدرت کا انتقام اور عوام کی آہ بہت بے رحم ہوتی ہے ۔لے مین نائس نے کیا خوب کہا تھا کہ’’ ضمیر ایسی مقدس عدالت ہے جہاں خدا فیصلہ کرتا ہے ‘‘کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

یہ، یہ اسباب، یہ سرمایہ دوراں
اس ریت کی دیوار کے گرنے سے ڈرا کر
سامنے آنے والے پے در پے بینامی اکاؤنٹس دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملک کے جملہ بنکوں میں کتنے مزید بے نامی اکاؤنٹس ہیں ۔ بہرحال ابتر صورت حال ہی نئی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے قوم کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نجات ملتی ہے یا نہیں یا سب کچھ ویسا ہی چلتا رہے گا۔کالم کی طوالت مانع ہے اسی پر اپنی بات کو سمیٹتا ہوں کہ جب تک ہم غرض ،قرض اور فرض کے اصلی مفہوم کا ادراک نہیں کرتے ہم د نیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ پوری دنیا کی معیشت انہی تین الفاظ کے گرد گھومتی ہے۔