- الإعلانات -

کرتارپور سرحد کا کھلنا پاک بھارت امن کی جانب قدم

adaria

پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کے سلسلے میں ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے جس کے تحت مزید بھی مثبت پیشرفت کے امکانات ممکنہ طورپر نظر آرہے ہیں ، کچھ عرصہ قبل پاکستان نے بھارت کو یہ تجویز دی تھی کہ وہ کرتارپور سرحد کھولے جبکہ پاکستان پہلے ہی اس سلسلے میں تیار تھا، راہداری منصوبہ تین سے چار کلو میٹر پر محیط ہے، بھارت پاکستانی سرحد تک سکھ یاتریوں کیلئے سڑک بنائے گا اور یاتری سال بھر باآسانی ننکانہ صاحب آسکیں گے۔ نیز وزیراعظم عمران خان 28نومبر کو کرتارپور کوریڈور کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کی امن پسند لابی کی فتح ہے اور اب سفارتی تعلقات درست سمت کی جانب رواں دواں ہے۔ نیز اس سے قبل بھارت کے دفتر خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو خط لکھ کر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا موقف خوش آئند ہے، یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان اور بھارت کے پرامن تعلقات کلیدی اہمیت کے حامل ہیں، نیز پاکستان نے ہمیشہ سے مثبت انداز میں بھارت کی جانب ہاتھ بڑھایا ، مسئلہ کشمیر سمیت کوئی بھی مسئلہ ہو اسے مذاکرات سے حل کرنے کیلئے پیشکش کی ہے، کرتارپور سرحد کا کھلنا بھی پاکستان کی سفارتی سطح پر قابل تحسین فتح ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ سکھ یاتریوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہیں گے، ادھرکانگریس رہنما سدھونے بھی راہداری کھولنے کے بھارتی فیصلے پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اقدام سے ناچاقیوں کاخاتمہ ہوگا، علاوہ ازیں پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کیلئے بھارت سے 1600 سکھ یاتری واہگہ ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے ،جو یہاں10روز تک قیام کرینگے۔ بھارتی کابینہ نے بھارتی سرحد کے نزدیک پاکستانی علاقے میں واقع گرودوارہ دربار صاحب تک انڈین یاتریوں کو رسائی دینے کے لیے خصوصی کوریڈور تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ،پاکستان نے بھارتی کابینہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ قدم دونوں ممالک میں امن کی خواہشمند لابی کی جیت ہے۔ بھارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد نئی دہلی میں صحافیوں کو تفصیل بتاتے ہوئے انڈین وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی نے بتایا کہ حکومت انڈین پنجاب کے ضلع گروداسپور میں ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان کی سرحد تک راستہ تعمیر کرے گی ا ن کا کہنا تھا کہ یہ راستہ بنانے کا مقصد ان انڈین یاتریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو پاکستانی علاقے میں دریائے راوی کے کنارے واقع گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت کے لیے جانا چاہتے ہیں،ارون جیٹلی کا یہ بھی کہنا تھا کہ انڈین ریلوے اس سلسلے میں ایک ٹرین چلائے گی جو گرونانک سے وابستہ مقدس مقامات سے گزرے گی۔ ادھر رواں ماہ کے آخرمیں کرتار پور کوریڈور کی تعمیرشروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، وزیراعظم عمران خان تعمیراتی منصوبے کا آغازکریں گے، متروکہ وقف املاک بورڈ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے رواں ماہ کے آخرمیں کرتارپور کوریڈورکی تعمیرپرکام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تعمیراتی منصوبے کا افتتاح وزیراعظم عمران خان کریں گے ۔حکام کے مطابق بھارت سمیت دنیابھرسے سکھ یاتری گورونانک دیوجی کا 549واں جنم منانے پاکستان آئے ہیں ، پاکستان اس موقع پرانہیں یہ تحفہ دینا چاہتا ہے ، حکام کے مطابق تعمیراتی کام شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگربھارت بھی کوریڈورپررضا مندہوجاتا ہے توپھرآئندہ سال گورونانک دیوجی کے 550 ویں جنم دن سے پہلے ہی کوریڈورکی تعمیرمکمل ہوجائیگی، کوریڈور کا زیادہ حصہ تقریبا ڈھائی کلومٹرفاصلہ پاکستان میں ہے ۔ادھر بھارتی دفتر خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو خط لکھا جس میں کرتار پور کوریڈور کھولنے کے فیصلے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیاا وربھارتی دفتر خارجہ نے کرتارپور بارڈر کھولنے کے پاکستانی موقف کو بھی سراہا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پیغام میں کہا کہ کرتارپورہ بارڈر پر بھارتی کابینہ نے پاکستانی تجویز کی توثیق کی، کرتارپورہ بارڈر کھولنا دونوں ملکوں کی امن پسند لابی کی فتح ہے، توقع ہے کہ سرحد کی دونوں جانب متوازن آواز کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ نوجوت سنگھ سدھو نے کرتارپور راہداری کھولنے کے بھارتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام پاکستان اور بھارت کے درمیان پل بنے گا، یہ دونوں ملکوں کے لیے مرہم ثابت ہوگا۔ چونکہ سکھ یاتری ہر سال پاکستان آتے ہیں، کرتارپور سرحد کھلنے سے تجارت میں بھی اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر اور مستحکم ہونگے ، خطے میں امن و امان بھی قائم ہوگا دیگر مسائل بھی حل کرنے کیلئے بھارت کو آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ پاکستان تو پہلے ہی مذاکرات کیلئے تیار ہے۔

کرپشن کے خاتمے کیلئے وزیراعظم کا پھر عزم مصمم
وزیراعظم نے ایک دفعہ پھر واضح کردیا ہے کہ نہ کسی کو این آراو دینگے نہ ہی چارٹر آف ڈیمو کریسی کے نام پر مک مکا کی اجازت دی جائے گی، جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ن لیگ بھی اس معاملے پرتقریباً پیپلزپارٹی کے ساتھ ہی ہے اس بات سے یہ بات بالکل واضح ثابت ہوتی ہے کہ وزیراعظم نے صحیح کہا جب بھی وہ کرپشن کی بات کرتے ہیں تو اپوزیشن اکٹھی ہو جاتی ہے ۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بناکر دباو میں لانا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ مسئلہ کسی کے ذاتی انتقام کا نہیں ملک سے کرپشن جیسے ناسور کوختم کرنے کا ہے جس نے بھی قومی خزانے اور ملک کو نقصان پہنچایا ہے چاہے وہ اقتدار سے ہو یا اپوزیشن سے اسے قرارواقعی سزا ملنا چاہیے۔
علی نواز اور زلفی بخاری کا ایس کے نیازی کو خراج تحسین
روز نیوز کے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ممبر قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے ایس کے نیازی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی دارالحکومت میں پانی کا بحران سنگین ہے۔اسلام آباد میں قبضہ مافیا سرگرم ہے۔کام وہی کرا سکتا ہے جسے کام کی سمجھ ہو،سی ڈی اے جلد ٹھیک ہو گا،ہم 10سالہ پلاننگ کر رہے ہیں۔ علی نواز اعوان نے کہا کہ اسلام آباد کو 206 ایم ڈی جی پانی درکار ہے، صر ف 56 ایم ڈی جی پانی اسلام آباد کومل رہاہے ، اس موقع پر سینئر اینکر پرسن ایس کے نیازی نے کہا کہ اسلام آباد میں 121 واٹر فلٹریشن پلانٹ ہیں ، صرف 10۔12 فلٹریشن پلانٹ ہی شہر میں کام کر رہے ہیں، اسلام آباد انٹر نیشنل شہر ہے ،لاکھوں افراد آتے ہیں،انھوں نے علی نواز اعوان سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ ریاست نہیں ہو گی تو کام مکمل کیسے ہوگا،اسمبلی میں لڑائی جھگڑا ختم کرکے عوام کے لئے کام کریں ۔ ادھروزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز سے ملاقات کی ۔ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔زلفی بخاری نے روز نیوز کے ضابطہ اخلاق کو سراہا اور ایس کے نیازی کی غیرجانبدارانہ صحافت اور خدمات کی تعریف کی۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز ٹی وی کے دفاتر کا دورہ کیا۔زلفی بخاری نے روز نیوز کے ضابطہ اخلاق کو سراہا اورایس کے نیازی کی غیر جانبدارانہ صحافت اور خدمات کی تعریف کی ۔