- الإعلانات -

مالیاتی بد عنوانیاں اور بلا امتیاز و بے لاگ احتساب

منی لانڈرنگ اور دیگر ناجائز ذرائع سے قومی دولت بیرونی ملکوں کے بینکوں میں محفوظ کرنے کے حقائق پر سے پردہ اٹھانے کیلئے ملک کی اعلیٰ عدلیہ ،نیب ،جملہ ایجنسیاں اور ادارے شب و روز متحرک ہیں ۔اب تک بہت سے افراد کے خلاف انکوائریاں چل رہی ہیں ۔آئے دن کوئی نہ کوئی گرفتاری عمل میں آ رہی ہے ۔نئے کیس بھی منظر عام پر آتے ہیں تاہم زبوں حالی کی شکار معیشت کو سہارا دینے کیلئے لوٹی ہوئی رقوم کی واپسی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ۔موجودہ چئیرمین نیب نے 11اکتوبر 2017ء اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالتے وقت 900ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقوم برآمد کر کے اسے قومی خزانے میں جمع کرانے کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن گیارہ ماہ کے عرصے میں محض اڑھائی ارب روپے برآمد ہو سکے ۔اس وقت 7سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے منتقل کی گئی رقوم دوسرے ملکوں کے بینکوں میں جمع ہیں جن کی واپسی حکومت کیلئے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے ۔اعلیٰ سطحی بد عنوانی کے مرتکب بارسوخ افراد اکثر و بیشتر لوٹی گئی قومی دولت مغربی ممالک کے مختلف بینکوں میں جمع کروا دیتے ہیں ۔لوٹ مار کے فوری بعد ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو سکے وہ تارک وطن بن کر بیرون ملک مذکورہ ممالک میں منتقل ہو جائیں ۔لوٹی گئی دولت کی بازیابی اور واپسی کیلئے پاکستان اور مغربی ممالک کے مابین کوئی ایسا معاہدہ موجود نہیں کہ جس سے اس لوٹی گئی دولت کی واپسی ممکن ہو سکے ۔اس کا فائدہ وطن دشمن بدعنوان عناصر کو ہی پہنچتا ہے ۔لوٹی گئی قومی دولت اور پاکستان کو مطلوب افراد اہم ،حساس اور سنگین ترین نوعیت کے مسائل ہیں ۔ڈھیروں دولت لوٹنے کے بعد یہ مطلوب افراد مغربی ممالک میں قانونی سہولیات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی پنا ہ حاصل کر لیتے ہیں ۔ان دنوں بھی ان ممالک میں عدالتی مطلوب افراد کی ایک بھاری تعداد سیاسی پناہ کے قانون کی ڈھال کے نیچے پناہ گزین ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے جس کا ان دنوں بڑا چرچا ہے کہ طاقتور بیوروکریٹس اور سیاستدان ماضی میں اربوں ڈالرز مالیتی رقم بیرون ملک منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔آج بھی امریکی ریاستوں اور مغربی ممالک کے مختلف بینکوں میں ان عناصر کے اربوں ڈالر خفیہ کھاتوں میں محفوظ ہیں ۔پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کے کل قرضوں کا جتنا حجم ہے اس سے کم ازکم چار گنا زائد حجم کا غصب شدہ سرمایہ ان افراد کی ذاتی تجوریوں میں محفوظ ہے ۔وزیر خزانہ اسد عمر کے مطابق پاکستانیوں کی دبئی میں چار ہزار غیر قانونی جائیدادوں کا پتہ چلایا گیا ہے جبکہ 27ممالک میں پاکستانیوں کے 95ہزار بینک اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات ملی ہیں ان کو نوٹس بھیج رہے ہیں تاہم جس اکاؤنٹ ہولڈر کے پاس دستاویزات ہوں گی انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ اب تک جس رقم کا سراغ مل چکا ہے وہ اصل رقم جو لانڈر ہوئی اس کا بہت چھوٹا حصہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اقامہ کا مقصد لوٹی ہوئی دولت کو چھپانا ہے ۔لوٹی ہوئی دولت چھپانے کیلئے سابق حکمرانوں نے اقامے بنوائے ۔اقامہ کے پیچھے اربوں کی منی لانڈرنگ ہے ۔دبئی میں جائیدادیں خریدنے والوں میں پاکستانی تیسرے نمبر پر ہیں اور یہاں ان کے بڑے بڑے فلیٹس ہیں ۔5ہزار جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ ہوئی ان اکاؤنٹس میں سے ایک دو ارب رکشے والے اور ریڑھی والے کے نام ہیں ۔تمام اکا ؤنٹس عام شہریوں کے نام ہیں۔ان کے ذریعے ایک ارب اسی کروڑ ڈالر منی لانڈرنگ کی گئی۔لوگوں نے مالی ،باورچی اور ڈرائیوروں کے ناموں پر کالا دھن چھپایا ۔مغرب میں کالی دولت کو سفید کرنے کے قوانین اور آف شور کمپنیاں لٹیرہ عناصر کو ہمہ جہتی تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔قومی خزانے پر نقب لگا کر حاصل کی گئی رقم کسی بھی صورت بدعنوان عناصر کی ذاتی ملک نہیں ہوتی ۔یہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی سراسر خلاف ورزی ہے کہ کروڑوں انسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختص رقم اور سرمائے پر مقتدر طبقات کے حقوق ملکیت تسلیم کر لئے جائیں ۔ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے مقتدر طبقات احتسابی اداروں کی عدم موجودگی یا عدم فعالیت کے باعث کروڑوں افراد کی فلاح و بہبود کیلئے مختص رقوم،عالمی مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرضے اور بین الاقوامی عطیاتی ایجنسیوں کی جانب سے ملنے والے ڈونیشنز تک کو بھی اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔کروڑوں شہریوں کے حق کی پامالی کرنے والے وطن مخالف اور عوام دشمن عناصر کسی بھی طور بنیادی انسانی حقوق کی آڑ لے کر لوٹی ہوئی قومی دولت کے تحفظ کی قانونی و عدالتی جنگ لڑنے کے مجاز نہیں ۔دنیا کا کوئی بھی ملک ڈاکوؤں ،لٹیروں ،راہزنوں اور چوروں کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ عوام سے بزور چھینی گئی رقم پر اپنا حق جما سکیں اور ان کی نسلیں بیرون ملک بیٹھ کر قومی اور عوامی سرمائے کی بدولت عیش و عشرت اور آسودگی و آسائش سے مزین زندگی بسر کر سکیں ۔انسانی سمگلنگ بھی یقیناًایک بڑا جرم ہے لیکن ناجائز دولت کی بیرون ملک منتقلی اس سے بھی قبیح تر اور گھناؤنا جرم ہے۔ موجودہ حکومت نے برطانیہ سے قیدیوں کے تبادلہ کرنے کی منظوری دی ہے برطانوی وزیر داخلہ پاکستان کے ساتھ معاہدوں پر بات چیت پر کہہ چکے ہیں کہ ہم کسی ملزم کی حوالگی کا فیصلہ اپنی عدالتوں کی اجازت سے کریں گے لیکن عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ برطانیہ اور پاکستان کے مابین ملزموں کی حوالگی کا معاہدہ ہو گیا ہے ۔دراصل برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے اپنے دورہ پاکستان پر قیدیوں کے دو طرفہ تبادلہ پر بات کی تھی یعنی برطانیہ یا پاکستان کے قیدی ایک دوسرے کے ملک میں قید ہوں تو باقی قید کاٹنے کیلئے انہیں ان کے ملک کی جیل میں بھجوا دیا جائے۔حکومت نے اس سے قبل بھی بعض دعوے کئے لیکن عملاًکچھ بھی نہیں ہو سکا ۔ماضی میں بھی مسلم لیگ ن کی حکومت نے سوئس حکومت سے رابطہ کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ 200ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہیں جو پاکستانیوں کے ہیں ۔اس پر سوئس حکومت سے معاہدہ ہو گا اور یہ رقم واپس لائی جائے گی لیکن اس پر کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ جو لوگ کھربوں کا سرمایہ لوٹ کر برطانیہ میں انویسٹ کر چکے ہیں یہ ملزم تو برطانیہ کیلئے سونے کی چڑیاں ہیں جو ان کے ملک اور عوام کیلئے خوشحالی کا باعث ہیں برطانیہ کیوں چاہے گا کہ برطانیہ سے مطلوب منی لانڈرنگ یا دیگر جرائم میں ملوث ملزم اس کے حوالے کر دے برطانیہ تو شروع ہی سے دوسرے ممالک کے سرمایہ داروں کو اپنے ہاں پناہ دیتا اور ان کے سرمائے کو تحفظ بھی کیونکہ کسی بھی دکاندار کے پاس جس قدر گاہک زیادہ آئیں گے وہ اتنا ہی خوشحال ہو گا اور وہ دکاندار اپنے آپ کو کامیاب بزنس مین نہیں کہلا سکتا جو گاہک سے یہ تفتیش کرنا شروع کر دے کہ یہ پیسہ تم نے کن ذرائع سے حاصل کیا ،پہلے تم ہمیں اس کی منی ٹریل دو یا آمدن سے زائد اثاثوں کی تفصیل فراہم کرو ۔پاکستان میں معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ یورپ ،امریکہ اور برطانیہ سے اپنی لوٹی گئی دولت یا کسی لٹیرے کو پاکستان لایا جا سکا۔ماضی میں سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر جانا پڑالیکن وہاں بینکوں میں پڑی ہوئی رقوم واپس نہ لائی جا سکیں۔گزشتہ28سال سے ’’ متحدہ ‘‘ قائد الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے دیگر از خود جلا وطن لیڈر سمیت ،نواز شریف کے بیٹوں اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی پاکستان نہیں لایا جا سکا اور ان کی کھربوں کی برطانوی بینکوں میں پڑی رقوم کی واپسی بھی شائد دیوانے کا ایک خواب ہی ہے۔کیا سابق صدر پرویز مشرف کی جائیداداور بینک بیلنس یہاں موجود نہیں ؟وزیر اعظم پاکستان عمران خان ماضی میں بڑی فائلیں لے کر الطاف حسین کو سزا دلوانے لندن آتے رہے