- الإعلانات -

نظریہ پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے

نظریہ پاکستان عصر حاضر کی پیدا وار نہیں بلکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کا دوسرا نام ہے۔ نظریہ پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے۔ پاکستان کی وجہ تخلیق ہے۔ پاکستان کے وجود کو اس سے الگ کر کے دیکھنا ناممکن ہے۔ نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس برصغیر میں دو قومیں مسلمان اور ہندو آباد ہیں جو ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مسلمان ایک بْت شکن قوم ہے جبکہ ہندو بْت پرست ہیں۔ اسی بنیاد پر قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک عظیم اور صبر آزما جدوجہد کے بعد اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کیا تھا۔مسلمانوں نے اقلیت میں ہونے کے باوجود تقریباً ایک ہزار سال تک ہندوستان پر حکومت کی ہے اور یہی وہ بات ہے جو آج تک ہندوؤں کو ہضم نہیں ہو سکی۔ وہ پاکستان کو بطور ایک آزاد ملک تسلیم نہیں کر تے اور ہمہ وقت اس کے وجود کے درپے ہیں۔بھارت، امریکہ اور اسرائیل پاکستان کے بدترین دشمن ہیں۔ انہیں اپنا خیرخواہ سمجھنے والوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ انہیں دراصل پاکستان کا ایٹمی پروگرام کھٹکتا ہے۔ کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد اور جہاد پسند نہیں لہٰذا انہوں نے پاکستان کے اندر میر جعفر، میر صادق پیدا کرکے انہیں یہ مشن سونپا کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرو اور اس کیلئے نظریہ پاکستان کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی طرف سے ہماری نظریاتی اساس پر بھی حملوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔مخالفین اسلام اور دشمنانِ وطن کی طرف سے یہ زہریلے حملے دو سطحوں پر جاری ہیں۔ ایک میڈیا کی سطح پر اور دوسرا بعض سازشی افراد کی پروپیگنڈہ مہم کی صورت میں۔ اس مہم کے دو حصے ہیں۔ ایک ان مذہبی لوگوں پر مشتمل ہے جن کے اکابرین نے تحریک پاکستان میں نہ صرف خود حصہ نہیں لیا بلکہ اس کی بھرپور مخالفت بھی کی۔ ان لوگوں کے نزدیک علامہ اقبال ؒ اور قائداعظمؒ مغربی تعلیمی اداروں کے پڑھے ہوئے لوگ تھے۔ اس لئے انہوں نے اسلام مخالف قوتوں کا آلہ کار بن کر مسلمانان برصغیر کی اجتماعی قوت کو دو حصوں میں تقسیم کر کے تاریخی غلطی کا ارتکاب کیا۔ پاکستان مخالف مہم کا دوسرا فریق اس مذہبی گروہ سے بالکل برعکس ہے, وہ لوگ خود کو سیکولرازم کا علمبردار سمجھتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کی بقاء سیکولرازم سے مشروط ہے۔ ان کے نزدیک مذہبی جماعتیں اور شخصیات آئے روز قتل و غارت گری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس لئے ملک کی مذہبی شناخت پوری دنیا کے ساتھ ساتھ خود کئی پاکستانی طبقات کے لئے بھی خطرناک ہے۔ اس دعویٰ کی دلیل کے طور پر وہ قائداعظمؒ کو خالص سیکولر شخص کے طور پر متعارف کراتے ہیں اور دو قومی نظریے کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔قائداعظمؒ کے حوالے دینے والے یاد رکھیں کہ قائداعظمؒ نے ہندو ذہنیت کو جان کر ہی یہ واضح کیا تھا کہ ہندو سے خیر کی توقع نہ کرو اور کہا کہ ہندو اور مسلمان کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے، کبھی ساتھ نہیں مل سکتے۔ کیا یہ خواتین و حضرات جو آئے روز پاکستان اور اس کی بانی قیادت کے بارے میں مختلف تقریبات میں نئے نئے شوشے چھوڑتے ہیں، پاکستان میں بیٹھ کر اس کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپ رہے؟ حقیقت میں یہ آستین کے سانپ ہیں۔ انہیں جب بھی ملک دشمنی کا موقع ملتا ہے، اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے ’’حقِ نمک‘‘ ادا کرتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کو آج کل نوجوان نسل کو ورغلانے اور انہیں پاکستان کے بنیادی نظرئیے سے برگذشتہ کرنے کا ٹاسک ملا ہوا ہے، مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ابھی تک ہمارے بزرگوں کی شکل میں وہ نسل موجود ہے، جنہوں نے پاک وطن کے لئے خود قربانیاں دیں اور ہجرت کی۔ ان کی سماعتوں سے ابھی تک قائدین تحریک پاکستان کے نعرے اور تقاریر ٹکرا رہی ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں پاکستان کی تاریخ درست نہیں پڑھائی جا رہی۔بھارت نواز اساتذہ نئی نسل کو نظریہ پاکستان کے خلاف درس دے رہے ہیں ۔ طلباء کو قیام پاکستان کی کہانی دو قومی نظریہ کو نظر انداز کرتے ہوئے نئے انداز میں بتائی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کا ہندوؤں اور سکھوں کے تجارتی قافلوں پر حملوں اور قتل و غارت کی وجہ سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ جن لوگوں نے یہ تاریخ بنائی ہے انہیں صحیح اور غلط کا زیادہ علم ہے یا جو ساٹھ سال بعد غیر ملکی آقاؤں کی گود میں بیٹھ کر اس کا جائزہ لے رہے ہیں انہیں حقیقت حال کا بہتر علم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس تاریخ کو ایک مخصوص طبقہ اپنے خودساختہ تصورات کے آئینے میں درست نہیں سمجھ رہا۔ یہ لوگ اس واضح تاریخ کو مٹانے کے جتن کر رہے ہیں جس کے اوراق لاکھوں شہیدوں کے خون سے لکھے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ خون سے لکھی ہوئی تاریخ ہمیشہ اَن مٹ اور دائمی ہوتی ہے۔ اگر نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریہ کی نفی کر دی جائے تو پاکستان کی بقاء خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔ لہٰذا نظریہ پاکستان ہمارے ملک کی بقا کا ضامن ہے۔ جو لوگ اس نظریے کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں‘ وہ دراصل پاکستان کی بنیادوں پر وار کر رہے ہیں۔ یہی عناصر ’’امن کی آشا‘‘ مہم کے درپردہ اکھنڈ بھارت کے تصور کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ جو لوگ اس نظریہ کی حقانیت کو تسلیم نہیں کرتے‘ انہیں چاہیے کہ اپنا بوریا بستر باندھ کر واہگہ بارڈر کے پار جا بسیں۔ نظریہ پاکستان کے تحفظ کے ساتھ فوج کو امریکہ اور بھارت کی یلغار اور پروپیگنڈہ سے بچانا بھی ہمارا فرض ہے کیونکہ دشمن انہیں ٹارگٹ کررہا ہے جن پر پاکستان کی سلامتی کا انحصار ہے۔ یہ کریڈٹ مجید نظامی اور نوائے وقت سے کوئی نہیں چھین سکتا کہ انہوں نے بروقت ایسے مذموم عزائم کی بیخ کنی کی اور بھیانک چہروں کو بے نقاب کیا۔ پاکستان کا چہرہ بگاڑنے کے ذمہ دار استحصالی طبقات کے یہ قلمی حواری کان کھول کر سْن لیں کہ پاکستانی قوم اپنے بزرگوں اور تحریک پاکستان کے شہدائے کرام کے خونِ پاک کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ مدعی لاکھ بْرا کیوں نہ چاہے‘ پاکستان کا مقصدِ تخلیق انشاء اللہ پورا ہو کر رہے گا اور نظریہ پاکستان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پاکستانی قوم کو دل و دماغ پر تا قیامت نقش رہے گا۔